وہ دوسری خبر سن کر میں روئی | Woh Doosri Khabar Sun Kar Main Roi

وہ دوسری خبر سن کر میں روئی | Woh Doosri Khabar Sun Kar Main Roi
ڈاکٹر نے فائل بند کی اور مسکرا کر کہا،

“مبارک ہو۔”

میں نے فوراً اپنے شوہر کی طرف دیکھا۔

عمران کے چہرے پر وہی مسکراہٹ آ گئی جو پہلی بار باپ بننے کی خبر سن کر آئی تھی۔

مگر ڈاکٹر ابھی بات مکمل نہیں کر چکی تھیں۔

انہوں نے عینک درست کی اور دوبارہ اسکرین کی طرف دیکھا۔

“ایک اور بات ہے۔”

میری انگلیاں بے اختیار کرسی کے کنارے پر جم گئیں۔

“کیا… سب ٹھیک ہے؟”

ڈاکٹر ہنس پڑیں۔

“بالکل ٹھیک ہے۔ بس آپ ایک بچے کی تیاری نہ کریں۔”

میں چند لمحے ان کا چہرہ دیکھتی رہی۔

“کیا مطلب؟”

انہوں نے اسکرین پر دو چھوٹے سے نشان دکھائے۔

“جڑواں بچے ہیں۔”

عمران کی ہنسی پورے کمرے میں پھیل گئی۔

اور میں…

میں وہیں بیٹھے بیٹھے رو پڑی۔

خوشی سے نہیں۔

ڈر سے۔


اس وقت ہماری شادی کو صرف ڈیڑھ سال ہوا تھا۔

عمران کی تنخواہ اتنی تھی کہ مہینہ گزر جاتا تو ہم دونوں ایک دوسرے کو مبارک باد دے سکتے تھے۔

کرائے کا دو کمروں کا مکان۔

ایک پرانا فریج۔

قسطوں پر لیا ہوا بیڈ۔

اور باورچی خانے کے دروازے کے پیچھے لٹکا ایک کاغذ، جس پر میں ہر مہینے کے اخراجات لکھتی تھی۔

کرایہ۔

بجلی۔

گیس۔

راشن۔

دوائی۔

اور آخر میں ہمیشہ ایک چھوٹی سی جگہ خالی رہ جاتی تھی۔

“بچت”

جس کے سامنے اکثر صفر لکھا ہوتا۔

اب اس صفر کے درمیان دو بچے آنے والے تھے۔

گھر واپس جاتے ہوئے عمران سارا راستہ خوش تھا۔

کبھی لڑکوں کے نام سوچتا۔

کبھی لڑکیوں کے۔

کبھی کہتا،

“ایک تم پر جائے گا، ایک مجھ پر۔”

میں کھڑکی سے باہر دیکھتی رہی۔

آخر اس نے پوچھا،

“تم اتنی خاموش کیوں ہو؟”

میں نے پہلی بار دل کی بات کہہ دی۔

“عمران… ہم ایک بچے کا خرچہ مشکل سے اٹھاتے۔ دو کا کیسے اٹھائیں گے؟”

وہ خاموش ہو گیا۔

میں نے اپنے آنسو صاف کیے۔

“دودھ دو گنا۔ کپڑے دو گنا۔ دوائیاں دو گنا۔ اسکول کی فیس دو گنا…”

عمران نے موٹر سائیکل سڑک کے کنارے روک دی۔

میری طرف مڑ کر بولا،

“اور رزق؟”

میں خاموش رہی۔

اس نے ہلکے سے کہا،

“تم حساب میں ہر چیز دو گنا کر رہی ہو۔ رزق کو کیوں وہیں کا وہیں چھوڑ دیا؟”

میں جواب نہ دے سکی۔

مگر اس رات بھی دیر تک روتی رہی۔


حمل کے آخری مہینوں میں چلنا مشکل ہو گیا تھا۔

امی ہر دوسرے دن آ جاتیں۔

کبھی دال بنا دیتیں۔

کبھی کپڑے تہہ کر دیتیں۔

ایک دن وہ اپنے ساتھ سفید اون کا گولا اور سلائیاں لے آئیں۔

میں نے پوچھا،

“یہ کیا بنا رہی ہیں؟”

کہنے لگیں،

“ٹوپیاں۔”

“دو؟”

امی نے میری طرف دیکھا۔

“بچے بھی تو دو ہیں۔”

میں نے ہنسنے کی کوشش کی، مگر نہ جانے کیوں آنکھیں پھر بھر آئیں۔

امی نے سلائی روکی۔

“اب بھی ڈرتی ہو؟”

میں نے سر ہلا دیا۔

انہوں نے میرا ہاتھ تھاما۔

“بیٹی، بعض خبریں پہلے بوجھ لگتی ہیں۔ وقت گزرے تو معلوم ہوتا ہے وہی زندگی کا سب سے خوبصورت حصہ تھیں۔”

میں نے اس وقت ان کی بات صرف سن لی۔

سمجھی نہیں۔


سردیوں کی ایک رات دونوں بچے پیدا ہوئے۔

پہلے بچے کے رونے کی آواز آئی تو عمران کی آنکھوں میں آنسو تھے۔

چند منٹ بعد دوسری آواز آئی۔

نرس نے دونوں بچوں کو ہمارے قریب لا کر رکھا۔

اتنے چھوٹے…

کہ مجھے خوف آتا تھا انہیں چھونے سے کہیں ٹوٹ نہ جائیں۔

امی اگلی صبح وہ دونوں سفید ٹوپیاں لے آئیں۔

ایک بچے کے سر پر پہنائی۔

پھر دوسری۔

عمران موبائل نکال کر تصویریں بنانے لگا۔

میں تھکی ہوئی تھی۔

درد میں تھی۔

مگر دونوں کو ساتھ دیکھ کر پہلی بار دل میں عجیب سا سکون اترا۔

ہم نے ان کے نام حمزہ اور حسن رکھے۔


پھر زندگی واقعی دو گنا ہو گئی۔

رات کو ایک سوتا تو دوسرا جاگ جاتا۔

ایک دودھ پیتا تو دوسرے کے رونے کی آواز آ جاتی۔

کپڑے دھوتے دھوتے میرے ہاتھ پھٹ جاتے۔

گھر میں ہر طرف چھوٹی چھوٹی جرابیں، بوتلیں، تولیے اور کھلونے بکھرے رہتے۔

کبھی دونوں ایک ساتھ بیمار ہو جاتے۔

کبھی بخار ایک سے دوسرے تک پہنچ جاتا۔

عمران رات کو دفتر سے واپس آ کر ایک بچے کو اٹھا لیتا۔

میں دوسرے کو۔

اور ہم دونوں کمرے میں ایسے چکر لگاتے جیسے ہماری زندگی کا مقصد صرف دو بچوں کو سلانا رہ گیا ہو۔

ایک رات بجلی بند تھی۔

گرمی بہت تھی۔

دونوں بچے مسلسل رو رہے تھے۔

میں تھک کر فرش پر بیٹھ گئی۔

“مجھ سے نہیں ہو رہا۔”

عمران نے حسن کو کندھے سے لگائے ہوئے کہا،

“تھوڑی دیر رو لو۔”

میں نے اسے گھور کر دیکھا۔

“بچے پہلے ہی رو رہے ہیں۔”

وہ ہنس دیا۔

“میں بچوں کی بات نہیں کر رہا۔”

اور میں واقعی رو پڑی۔

کچھ دیر بعد ہم دونوں بھی ہنسنے لگے۔

شاید والدین بننا یہی ہوتا ہے۔

ایک ہی رات میں انسان کئی بار ٹوٹتا بھی ہے…

اور کئی بار خود ہی جڑ بھی جاتا ہے۔


سال گزرتے گئے۔

دونوں اسکول جانے لگے۔

پہلے بستے آئے۔

پھر سائیکلیں۔

پھر وہ عمر آئی جب دونوں ایک دوسرے کے کپڑے پہن کر لڑتے۔

ایک کہتا،

“یہ میری شرٹ ہے۔”

دوسرا کہتا،

“امی نے مجھے دی تھی۔”

میں دور سے آواز لگاتی،

“دونوں کی ہے!”

وہ دونوں ایک ساتھ بولتے،

“ہر چیز دونوں کی کیوں ہوتی ہے؟”

اور میں دل ہی دل میں سوچتی،

کیونکہ تم دونوں ایک ہی خبر کے دو حصے تھے۔


مالی مشکلات بھی رہیں۔

کئی مرتبہ فیس جمع کروانے کے لیے عمران نے اپنی ضرورت ملتوی کی۔

میں نے گھر سے سلائی شروع کر دی۔

عید پر دوسرے بچوں کے چار جوڑے بنتے تو میرے بچوں کے دو۔

لیکن کبھی انہیں یہ محسوس نہیں ہونے دیا کہ وہ ہمارے لیے بوجھ تھے۔

حالانکہ ایک زمانہ تھا…

جب میں نے ان کے آنے کی خبر سن کر سب سے پہلے خرچ سوچا تھا۔

یہ بات میں نے کبھی دونوں کو نہیں بتائی۔


وقت کو شاید بچوں کو بڑا کرنے کی بہت جلدی ہوتی ہے۔

دیکھتے ہی دیکھتے حمزہ مجھ سے لمبا ہو گیا۔

حسن نے پہلی بار موٹر سائیکل چلائی تو عمران پورا دن اسے ہدایات دیتا رہا۔

پھر یونیورسٹی۔

نوکریاں۔

اپنی اپنی مصروفیات۔

وہ گھر جس میں کبھی دو بچوں کے رونے سے راتیں جاگتی تھیں، اب شام ہوتے ہی خاموش ہو جاتا۔

میں کبھی کبھی ان کے خالی کمروں کے دروازے کھول کر دیکھتی۔

اور حیران ہوتی…

کیا واقعی یہی وہ بچے تھے جن کے آنے سے میں اتنی ڈر گئی تھی؟


ایک سرد دوپہر میں الماری صاف کر رہی تھی۔

اوپر والے خانے میں ایک پرانا پھولوں والا ڈبہ ملا۔

کئی برس سے کھولا نہیں تھا۔

میں نے نیچے اتارا۔

ڈھکن پر گرد جمی تھی۔

اندر بچوں کے ہسپتال والے کاغذ تھے۔

پہلی الٹراساؤنڈ رپورٹ۔

دو چھوٹے کنگن۔

چند تصویریں۔

اور نیچے تہہ کیے ہوئے…

امی کی بنائی ہوئی وہ دونوں سفید ٹوپیاں۔

میں وہیں فرش پر بیٹھ گئی۔

ایک ٹوپی ایک ہاتھ میں۔

دوسری دوسرے ہاتھ میں۔

اون جگہ جگہ سے نرم پڑ چکی تھی۔

چھوٹے سے پوم پوم اب پہلے جیسے سیدھے نہیں تھے۔

مگر وہ دونوں آج بھی اتنی ہی چھوٹی تھیں۔

میں دیر تک انہیں دیکھتی رہی۔

عمران کمرے میں آیا۔

“کیا ملا ہے؟”

اس کی نظر ٹوپیوں پر پڑی تو وہ دروازے کے ساتھ ٹیک لگا کر مسکرا دیا۔

میں نے کہا،

“یاد ہے ڈاکٹر نے جب کہا تھا دو ہیں؟”

عمران ہنس پڑا۔

“اور تم نے کلینک میں ہی رونا شروع کر دیا تھا۔”

میں نے اسے گھورا۔

“مجھے ڈر لگ گیا تھا۔”

“مجھے بھی لگا تھا۔”

میں چونکی۔

“تم نے تو بتایا نہیں۔”

وہ میرے پاس بیٹھ گیا۔

“میں بتا دیتا تو تمہیں کون سنبھالتا؟”

میں چند لمحے اسے دیکھتی رہی۔

پھر دونوں ٹوپیاں اپنی گود میں رکھ کر ہنس پڑی۔

اتنا ہنسی کہ آنکھوں میں پانی آ گیا۔

عمران نے پوچھا،

“اب کیوں رو رہی ہو؟”

میں نے کہا،

“یہ آنسو نہیں ہیں۔”

“پھر؟”

میں نے دونوں چھوٹی ٹوپیاں اٹھا کر اسے دکھائیں۔

“بس سوچ رہی ہوں… جس دوسری خبر پر میں اتنا روئی تھی، آج اگر وہ خبر نہ ہوتی تو ہماری زندگی آدھی ہوتی۔”

عمران خاموش سا مسکرا دیا۔

اسی لمحے باہر گیٹ کھلنے کی آواز آئی۔

“امی!”

ایک آواز آئی۔

پھر دوسری۔

“امی، چائے بنائیں، بہت سردی ہے!”

میں نے دونوں ٹوپیاں سینے سے لگا لیں۔

برسوں پہلے میں نے ڈاکٹر کے کمرے میں دو بچوں کا نام سن کر مستقبل کے خرچے گنے تھے۔

آج اسی گھر میں کھڑی تھی جہاں ان دونوں کی آوازیں میری سب سے بڑی دولت تھیں۔

امی ٹھیک کہتی تھیں۔

بعض خبریں پہلے بوجھ لگتی ہیں۔

پھر وقت گزر جاتا ہے…

اور انسان انہی کو ہاتھ میں پکڑ کر مسکراتا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top