بیٹیاں جب رخصت ہوتی ہیں | Betiyan Jab Rukhsat Hoti Hain

Betiyan Jab Rukhsat Hoti Hain
سالگرہ سے چار دن پہلے گھر میں ایک چیز ضرور گم ہو جاتی تھی۔

گلابی ربن۔

سائرہ پورے گھر میں اسے ڈھونڈتی پھرتی۔ کبھی الماری الٹ دیتی، کبھی سلائی والے ڈبے میں جھانکتی، اور آخرکار میرے سامنے آ کھڑی ہوتی۔

“ابو… میرا ربن آپ نے چھپا دیا ہے نا؟”

میں اخبار سے نظریں اٹھائے بغیر کہتا،

“مجھے تمہارے ربن سے کیا دشمنی؟”

وہ ناک سکیڑ کر کہتی،

“آپ نے تحفہ بھی لے لیا ہوگا، مگر مانیں گے نہیں۔”

میں مسکرا دیتا۔

وہ ہر سال یہی سمجھتی تھی کہ میں جھوٹ بولنے میں بہت کمزور ہوں، حالانکہ میری پوری سالانہ اداکاری صرف انہی چند دنوں کے لیے بچی رہتی تھی۔

سالگرہ کی صبح وہی گلابی ربن کسی تحفے کے گرد بندھا ہوتا۔

اور سائرہ اسے کھولنے سے پہلے دیر تک صرف دیکھتی رہتی، جیسے خوشی کو بھی جلدی میں خرچ نہیں کرنا چاہیے۔

وقت کی رفتار عجیب ہوتی ہے۔

بچپن میں جس لڑکی کے دوپٹے سے ربن بندھا رہتا ہے، شادی کے بعد وہی دوپٹہ سر پر آ جاتا ہے۔

سائرہ رخصت ہوئی تو اس کے کمرے میں سب کچھ آہستہ آہستہ اپنی جگہ سے بے معنی ہونے لگا۔

صرف وہ گلابی ربن میرے پاس رہ گیا۔

میں نے اسے الماری کے اوپری خانے میں رکھ دیا، جہاں پرانے کاغذ، بچوں کی رپورٹ کارڈیں اور چند بے کار چابیاں رکھی تھیں۔

کچھ چیزیں کبھی بے کار نہیں ہوتیں۔

بس استعمال ہونا چھوڑ دیتی ہیں۔

اس کی پہلی سالگرہ سسرال میں آنے والی تھی۔

چار دن پہلے اس کا فون آیا۔

“ابو…”

“ہاں بیٹا؟”

“اس بار بھی کچھ نہیں لیا ہوگا، ہے نا؟”

میں نے حسبِ عادت کہا،

“اب تم بڑی ہو گئی ہو۔”

دوسری طرف چند لمحے خاموشی رہی۔

پھر اس نے ہنسنے کی کوشش کی۔

“اچھا… بڑی ہو گئی ہوں، اس لیے تحفہ بھی بند؟”

اس کی ہنسی میں ایک باریک سا خلا تھا۔

ایسا خلا جو صرف باپ سن سکتا ہے۔

سالگرہ والے دن میں بازار سے ہلکے نیلے رنگ کی ایک شال خرید لایا۔

سائرہ کو سردیوں میں ہمیشہ جلدی ٹھنڈ لگتی تھی۔

دکاندار نے پوچھا،

“گفٹ پیک کر دوں؟”

میں نے جیب سے وہی پرانا گلابی ربن نکالا۔

“بس اس سے باندھ دیجیے۔”

وہ مسکرا دیا۔

اسے کیا معلوم، بعض ربن تحفے نہیں باندھتے…

برس باندھتے ہیں۔

دوپہر ڈھل رہی تھی جب میں اس کے سسرال کی گلی میں داخل ہوا۔

گھر کے دروازے تک پہنچا تو اندر سے برتن رکھنے کی تیز آواز آئی۔

پھر ایک مرد کی دبی ہوئی جھنجھلاہٹ۔

“ہر بات کا مطلب نکالنا ضروری ہے؟”

اس کے فوراً بعد ایک عمر رسیدہ عورت بولی،

“نئے گھر میں آئی ہو، تھوڑا برداشت بھی سیکھو۔”

اور پھر…

بہت ہلکی سی سسکی۔

ایسی جیسے کوئی اپنے ہی دوپٹے میں منہ چھپا کر رونا سیکھ گیا ہو۔

میں دروازے کے سائے میں کھڑا رہ گیا۔

تحفہ میرے ہاتھ میں تھا۔

ہاتھ آہستہ آہستہ بھاری ہونے لگا۔

اسی لمحے اندر سے کسی بچے کے ہنسنے کی آواز آئی۔

پھر خاموشی۔

گھر شاید ویسا برا نہیں تھا جیسا اس ایک لمحے نے دکھایا تھا۔

اور شاید اتنا اچھا بھی نہیں، جیسا باہر والوں کو دکھائی دیتا تھا۔

میں نے دروازہ نہیں کھٹکھٹایا۔

خاموشی سے واپس مڑ آیا۔

گلی کے نکڑ پر پرانی مسجد کے سامنے پیپل کا درخت تھا۔

میں اس کے نیچے کھڑا ہو گیا۔

عصر کی اذان ہونے میں ابھی چند منٹ باقی تھے۔

میں نے فون ملایا۔

“السلام علیکم، ابو!”

اس کی آواز میں ایسی چمک تھی کہ اگر میں چند لمحے پہلے وہاں نہ آیا ہوتا تو یقین کر لیتا کہ دنیا میں سب خیریت ہے۔

میں نے آہستہ سے کہا،

“سوچا تھا، سالگرہ کی مبارک دے آؤں۔”

وہ فوراً بولی،

“آج نہیں، ابو۔”

پھر ذرا توقف کے بعد ہنس کر کہنے لگی،

“ہم سب باہر کھانے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بڑا سرپرائز پلان کیا ہے۔”

“اچھا…”

میرے منہ سے صرف یہی نکلا۔

“دعا کیجیے گا۔”

“ہمیشہ۔”

فون بند ہو گیا۔

اذان شروع ہو چکی تھی۔

میں نے پہلی تکبیر کے ساتھ آنکھیں بند کیں تو معلوم ہوا، انسان سجدے میں اکثر اپنے لیے نہیں…

اپنی اولاد کے لیے روتا ہے۔

گھر واپس آ کر میں نے شال الماری میں رکھ دی۔

گلابی ربن کھول کر الگ کر دیا۔

کئی دن بعد سائرہ آئی۔

ہنستی رہی۔

چائے بناتی رہی۔

اپنی ساس کی تعریف کرتی رہی۔

شوہر کی مصروفیات بتاتی رہی۔

میں نے بھی کچھ نہیں پوچھا۔

کچھ سوال ایسے ہوتے ہیں جن کا جواب اگر سچ ہو تو گھر ٹوٹتے ہیں…

اور اگر جھوٹ ہو تو باپ۔

جاتے وقت وہ الماری سے کوئی پرانا سوٹ نکال رہی تھی کہ اچانک اس کی نظر گلابی ربن پر پڑ گئی۔

اس نے اسے ہاتھ میں لیا۔

کچھ دیر خاموش رہی۔

پھر بغیر میری طرف دیکھے آہستہ سے بولی،

“ابو… آپ نے سنبھال کر رکھا ہوا ہے؟”

میں نے صرف سر ہلا دیا۔

وہ ربن اپنے دوپٹے کے کونے میں باندھنے لگی، مگر گرہ لگاتے لگاتے اس کے ہاتھ رک گئے۔

اس نے ربن دوبارہ تہہ کیا۔

میری ہتھیلی پر رکھا اور مسکرا کر بولی،

“یہ آپ کے پاس ہی اچھا لگتا ہے۔”

میں نے پہلی بار محسوس کیا…

بیٹیاں جب رخصت ہوتی ہیں تو اپنے کھلونے، کتابیں اور کپڑے سب ساتھ لے جاتی ہیں۔

صرف اپنا بچپن…

وہ اپنے باپ کی الماری میں کسی پرانے گلابی ربن کی صورت چھوڑ جاتی ہیں۔

نوٹ: یہ ایک افسانوی اور ادبی کہانی ہے۔ اس کے کردار اور واقعات تخلیقی انداز میں پیش کیے گئے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top