Mohabbat Ki Sab Se Khoobsurat Tareef | محبت کی سب سے خوبصورت تعریف

محبت کی سب سے خوبصورت تعریف

❤️ “ہم ساری زندگی اُس انسان کو ڈھونڈتے رہتے ہیں جس کے ساتھ بڑھاپا گزار سکیں… جبکہ محبت کا اصل راز اُس انسان کو پالینے میں ہے جس کے ساتھ بڑھاپے میں بھی بچہ بن کر ہنسا جا سکے۔”


بارش کے بعد کی خاموش شام

بارش ابھی ابھی تھمی تھی۔

صحن کی گیلی مٹی سے اٹھنے والی خوشبو پورے ماحول میں پھیل رہی تھی۔

میں حسبِ معمول اپنے محلے کے بزرگ حاجی نعمان صاحب کی خیریت پوچھنے ان کے گھر گیا۔

وہ خاموشی سے چارپائی پر بیٹھے تھے۔

سامنے دو کپ رکھے تھے۔

ایک میں چائے تھی…

اور دوسرا خالی۔

میں جانتا تھا…

وہ خالی کپ آج بھی اُن کی مرحومہ اہلیہ کی یاد میں رکھا جاتا تھا۔

چھ ماہ گزر چکے تھے…

لیکن کچھ عادتیں وقت بھی نہیں بدل سکتا۔

میں خاموشی سے ان کے پاس بیٹھ گیا۔

کافی دیر تک ہم دونوں کے درمیان خاموشی رہی۔

پھر انہوں نے آہستہ سے پوچھا۔

“بیٹا… تم جانتے ہو محبت کیا ہوتی ہے؟”

میں مسکرا کر بولا۔

“شاید… ایک دوسرے کا ساتھ نبھانا۔”

انہوں نے سر نفی میں ہلایا۔

پھر دھیرے سے بولے۔

“نہیں بیٹا… محبت ساتھ نبھانے کا نام نہیں… محبت تو کسی کے ساتھ بچہ بن جانے کا نام ہے۔”


پچپن سال کی دوستی

وہ دور آسمان کی طرف دیکھنے لگے۔

جیسے برسوں پرانی کوئی کھڑکی دوبارہ کھل گئی ہو۔

“پورے پچپن سال…”

انہوں نے دھیرے سے کہا۔

“لوگ ہمیں صرف میاں بیوی سمجھتے تھے…

لیکن حقیقت یہ تھی کہ ہم آخری سانس تک ایک دوسرے کے بہترین دوست رہے۔”

پھر وہ مسکرا دیے۔


پہلی یاد

انہوں نے کہا۔

“جب تمہاری چچی کے گھٹنوں میں درد شروع ہوا تو وہ جھک کر اپنے پاؤں کے ناخن بھی نہیں کاٹ سکتی تھیں۔”

“ایک دن میں نے ان کے پاؤں اپنی گود میں رکھ لیے۔”

“ناخن بھی میں نے کاٹے…

اور نیل پالش بھی میں نے ہی لگائی۔”

وہ ہنس کر بولیں۔

“اتنے بڑے ہو گئے ہو… پھر بھی میرے بیوٹی پارلر بنے ہوئے ہو؟”

میں نے جواب دیا۔

“ہاتھ بوڑھے ہو سکتے ہیں… محبت کبھی بوڑھی نہیں ہوتی۔”

حاجی نعمان صاحب نے میری طرف دیکھ کر کہا۔

“بیٹا… محبت یہی ہوتی ہے۔”


چائے کا ایک گھونٹ

انہوں نے سامنے رکھا ہوا خالی کپ اٹھایا۔

چند لمحے اسے دیکھا…

پھر واپس میز پر رکھ دیا۔

ان کی آنکھوں میں نمی اتر آئی۔

“ہر صبح وہ میرے لیے چائے بناتی تھیں۔

لیکن مجھے دینے سے پہلے خود ایک گھونٹ ضرور پیتی تھیں۔”

میں نے ایک دن پوچھا۔

“یہ کیا عادت ہے؟”

وہ مسکرا کر بولیں۔

**”دیکھ رہی ہوتی ہوں چینی ٹھیک ہے یا نہیں…

کہیں تمہارا منہ کڑوا نہ ہو جائے۔”**

حاجی صاحب نے آہ بھری۔

**”اس دن مجھے سمجھ آیا کہ محبت وہ ہے…

جو خود تلخی چکھ لیتی ہے تاکہ دوسرے کے حصے میں صرف مٹھاس آئے۔”**


مرغی کا سب سے اچھا ٹکڑا

انہوں نے ایک اور یاد سنائی۔

“ایک دن گھر میں مرغی پکی تھی۔”

انہوں نے سب سے بڑا بوٹی والا ٹکڑا میری پلیٹ میں رکھ دیا۔

میں نے کہا۔

“تم کھاؤ۔”

وہ مسکرا کر بولیں۔

“مجھے تمہیں کھلاتے ہوئے زیادہ خوشی ملتی ہے۔”

حاجی نعمان صاحب نے کہا۔

**”بیٹا… محبت کبھی اپنے حصے کا بہترین نہیں رکھتی…

وہ بہترین دوسرے کی پلیٹ میں رکھ دیتی ہے۔”**


چھوٹا سا عمر

اسی دوران چھ سالہ عمر بھاگتا ہوا اندر آیا۔

وہ سیدھا اپنے دادا کی گود میں جا بیٹھا۔

**”دادا ابو…

آپ پھر دادی کو یاد کر رہے ہیں؟”**

حاجی صاحب نے بمشکل مسکرا کر سر ہلا دیا۔

عمر نے کچھ نہیں کہا۔

بس خاموشی سے اپنی ننھی پیشانی دادا کے سینے سے لگا دی۔

کمرے میں پھر خاموشی چھا گئی۔

وہ خاموشی…

جس میں لفظ نہیں ہوتے…

صرف احساس بولتے ہیں۔


ایک ایسا جواب جس نے دل ہلا دیا

کافی دیر بعد میں نے عمر سے پوچھا۔

“بیٹا… تم نے دادا ابو سے کیا کہا؟”

وہ معصومیت سے بولا۔

**”میں نے کچھ نہیں کہا…

میں بس ان کے ساتھ اداس بیٹھ گیا۔”**

قسم بخدا…

اس ایک جملے نے میرا دل ہلا کر رکھ دیا۔

حاجی نعمان صاحب کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

انہوں نے آہستہ سے کہا۔

**”دیکھا بیٹا؟

بچے محبت کا وہ سبق جانتے ہیں…

جو بڑی بڑی کتابیں بھی نہیں سکھا سکتیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top