جس علم کو سب نے کمتر سمجھا… اسی نے سب کو سر جھکانے پر مجبور کر دیا!

بعض اوقات انسان کی اصل پہچان اس کی ڈگری نہیں، بلکہ اس کا کردار اور ہنر ہوتا ہے۔

کچھ لوگ انسان کو اس کے کردار سے نہیں، بلکہ اس کے رنگ، لباس، ڈگری یا پیشے سے جانچتے ہیں۔

مگر زندگی…

اپنے فیصلے ہمیشہ خاموشی سے سناتی ہے۔


ایک خاموش مگر باوقار عورت

میری ایک سہیلی تھی…

مریم۔

میں اکثر اس کے گھر جایا کرتی تھی۔

وہ ایک تعلیم یافتہ، خوشحال اور بااثر خاندان تھا۔

گھر میں کوئی ڈاکٹر تھا، کوئی انجینئر، کوئی بینک کا افسر۔

ہر طرف ڈگریوں کا شور تھا، عہدوں کی چمک تھی اور کامیابیوں کا تذکرہ۔

لیکن اسی گھر میں ایک شخصیت ایسی بھی تھی، جس کا ذکر آتے ہی اکثر لہجے بدل جاتے۔

وہ تھی مریم کی بھابھی…

ہانیہ۔


ایک ڈگری… جسے کوئی اہمیت نہیں دیتا تھا

ہانیہ نے ہوم سائنس میں تعلیم حاصل کی تھی۔

نہ وہ ڈاکٹر تھی۔

نہ انجینئر۔

اوپر سے رنگ بھی سانولا تھا۔

بس…

یہی دو باتیں اس کی تمام خوبیوں پر بھاری پڑ جاتی تھیں۔

گھر کے زیادہ تر افراد اسے عزت تو دیتے تھے، مگر دل سے قبول نہ کر سکے تھے۔

وہ خاموشی سے اپنا ہر کام کرتی۔

سب کے لیے کھانا بناتی۔

کپڑے سنبھالتی۔

بچوں کا خیال رکھتی۔

اور جیسے ہی چند لمحے ملتے، خاموشی سے اپنے کمرے میں چلی جاتی۔

نہ کسی سے شکایت۔

نہ کسی سے گلہ۔

جیسے اس نے اپنے نصیب سے سمجھوتہ کر لیا ہو۔

اکثر میں سوچتی تھی…

“کچھ لوگ پورا آسمان اوڑھ کر بھی دوسروں کی نگاہ میں چھوٹے رہ جاتے ہیں۔”


ایک لمحہ… جس نے سب کچھ بدل دیا

ایک دن گھر میں مہمان آئے ہوئے تھے۔

ہنسی خوشی کی محفل سجی ہوئی تھی۔

اسی دوران ایک ننھا سا بچہ کھیلتے کھیلتے میز سے ٹکرا گیا۔

چھنااااک…!

شیشے کا ایک بڑا گلاس فرش پر گر کر سیکڑوں باریک ٹکڑوں میں بکھر گیا۔

پورے کمرے میں سناٹا چھا گیا۔

“ارے… بچے ادھر نہ آئیں!”

“کوئی سنبھالو!”

“کہیں کسی کے پاؤں میں شیشہ نہ چبھ جائے!”

ہر طرف شور تھا۔

مگر حل کسی کے پاس نہیں تھا۔

شیشے کے باریک ذرات ایسے بکھرے تھے کہ جھاڑو بھی انہیں مکمل طور پر صاف نہیں کر سکتی تھی۔


ہوم سائنس کا ایک چھوٹا سا سبق

اسی لمحے…

باورچی خانے سے ہانیہ باہر آئی۔

اس کے چہرے پر ہمیشہ کی طرح ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔

اس نے بغیر کچھ کہے آٹے کا ایک گولا بنایا۔

پھر آہستہ آہستہ پورے فرش پر پھیرنا شروع کر دیا۔

چند لمحوں میں…

شیشے کے وہ ننھے ننھے ذرات، جو آنکھوں سے بھی مشکل سے دکھائی دے رہے تھے، آٹے کے ساتھ چپکتے چلے گئے۔

نہ کسی کے ہاتھ زخمی ہوئے۔

نہ کسی بچے کے پاؤں میں شیشہ چبھا۔

کمرہ یوں صاف ہو گیا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔


سب حیران رہ گئے

ہر شخص حیرت سے ہانیہ کو دیکھ رہا تھا۔

ایک مہمان بے اختیار بول اٹھے۔

“ارے واہ! یہ طریقہ تو ہم نے پہلی بار دیکھا۔”

ہانیہ نے بڑے سکون سے جواب دیا۔

“یہ ہمیں ہوم سائنس میں سکھایا گیا تھا۔”

بس…

اتنا سننا تھا کہ پورے کمرے میں خاموشی چھا گئی۔

جن لوگوں کے لیے اس کی ڈگری صرف مذاق تھی…

آج وہی اس کے علم کے معترف بنے کھڑے تھے۔


ایک باپ کی خوبصورت بات

تب مریم کے والد…

حاجی عبدالرحمن صاحب

جو کافی دیر سے خاموش سب کچھ دیکھ رہے تھے، مسکرائے اور آہستہ سے بولے۔

“بیٹا… علم کبھی چھوٹا نہیں ہوتا، صرف ہماری نظر چھوٹی ہو جاتی ہے۔”

پھر انہوں نے سب کی طرف دیکھا اور کہا۔

“میں نے ہانیہ کو اس کی ڈگری دیکھ کر نہیں… اس کی تربیت، سلیقے اور کردار دیکھ کر اس گھر کی بہو بنایا تھا۔ آج اللہ نے ثابت کر دیا کہ ہر علم اپنی جگہ ایک نعمت ہوتا ہے، اور ہر انسان اپنے رب کی کسی نہ کسی حکمت کا شاہکار ہوتا ہے۔”


عزت کے آنسو

ہانیہ نے نظریں جھکا لیں۔

اس کی آنکھوں میں نمی تھی۔

مگر اس دن وہ آنسو شکست کے نہیں تھے۔

وہ عزت کے تھے۔

قبولیت کے تھے۔

اور شاید برسوں بعد دل پر پڑی کسی چوٹ کے مندمل ہونے کے تھے۔


سبق

اس دن میں نے ایک سبق ہمیشہ کے لیے اپنے دل پر لکھ لیا۔

“ڈگری انسان کی قیمت نہیں بڑھاتی… کردار بڑھاتا ہے۔”

اور یہ بھی…

“جس ہنر کو لوگ معمولی سمجھ کر ٹھکرا دیتے ہیں، وقت اکثر اسی کے آگے بڑے بڑے غرور جھکا دیتا ہے۔”

واقعی…

“ہیرے کی پہچان ہر سنار کے بس کی بات نہیں ہوتی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top