دو روپے کا سکہ | Do Rupay Ka Sikka

دو روپے کا سکہ | Do Rupay Ka Sikka
جامعہ کی عمارت شام کے زرد ہوتے سورج میں کسی پرانے سرکاری دفتر کی طرح لگ رہی تھی؛ دیواروں پر وقت کی نمی تھی اور راہداریوں میں قدموں کی آواز دیر تک ساتھ چلتی تھی۔

سائرہ نے اپنی رجسٹر کی آخری خالی سطر پر انگلی پھیری۔

صرف ایک اسائنمنٹ باقی تھی۔

پینتالیس برس کی عمر میں گریجویشن مکمل کرنا کوئی معمولی بات نہ تھی۔ دو بیٹیاں کالج اور اسکول میں تھیں، سب سے چھوٹا بیٹا ابھی کنڈرگارٹن جاتا تھا، اور گھر کی گھڑی اکثر اس کے حق میں نہیں چلتی تھی۔

کبھی سالن جل جاتا، کبھی امتحان کی تیاری ادھوری رہ جاتی، کبھی بچے بیمار ہو جاتے۔

سوشیالوجی کی استاد نے مسکراتے ہوئے کہا تھا،

“اس بار کتابیں بند رکھیں۔ تین ایسے لوگوں کو مسکرائیے جن سے آپ کا کوئی تعلق نہ ہو، پھر صرف یہ لکھیے کہ اس مسکراہٹ نے کیا بدلا۔”

کلاس میں ہلکی سی ہنسی پھیل گئی۔

سائرہ نے بھی سوچا، یہ تو سب سے آسان کام ہے۔

وہ تو ویسے بھی ہر دودھ والے، سبزی فروش اور چوکیدار کو سلام کرتی تھی۔

اتوار کی صبح ہوا میں ہلکی سی ٹھنڈک تھی۔

آصف نے کہا،

“آؤ، آج بچے کو بھی باہر لے چلتے ہیں۔”

چھوٹا اذان گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھا کھڑکی سے انگلیاں باہر نکالنے کی ضد کر رہا تھا۔

وہ ایک معروف فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ پہنچ گئے۔

قطار معمول کے مطابق لمبی تھی۔

فرنچ فرائز کی خوشبو، بچوں کے قہقہے، ٹرے ٹکرانے کی آوازیں اور کافی مشین کی سیٹی…

سب کچھ معمول کے دن جیسا تھا۔

پھر اچانک قطار میں ایک خاموش لہر دوڑی۔

ایک خاتون نے اپنا پرس سینے سے لگا لیا۔

ایک نوجوان ایک قدم پیچھے ہٹ گیا۔

آصف بھی بے اختیار ذرا سا سرک گیا۔

سائرہ نے پلٹ کر دیکھا۔

دو آدمی تھے۔

کپڑوں کا اصل رنگ شاید برسوں پہلے کہیں رہ گیا تھا۔

جوتوں کے اگلے حصے پھٹے ہوئے تھے۔

ان کے ساتھ ایک ایسی بو تھی جو صرف مٹی یا پسینے کی نہیں، مسلسل نظر انداز کیے جانے کی ہوتی ہے۔

پہلا آدمی عمر میں بڑا نہیں لگتا تھا، مگر اس کے چہرے پر وقت نے ضرورت سے زیادہ جھریاں لکھ دی تھیں۔

اس کی آنکھیں حیرت انگیز طور پر صاف تھیں۔

نیلگوں۔

جیسے بارش کے بعد کسی ٹوٹی ہوئی کھڑکی میں آسمان کا چھوٹا سا ٹکڑا پھنس گیا ہو۔

اس کی مٹھی میں چند سکے تھے۔

وہ انہیں ایک ایک کرکے گن رہا تھا۔

ساتھ کھڑا دوسرا آدمی بار بار اپنے ہاتھ مروڑ رہا تھا، ہونٹوں ہی ہونٹوں میں کچھ دہرا رہا تھا، جیسے دنیا اس کے لیے پوری طرح سمجھ میں کبھی آئی ہی نہ ہو۔

نیلی آنکھوں والے نے دھیرے سے کہا،

“السلام علیکم، باجی۔”

صرف اتنا۔

اس سلام میں بھیک نہیں تھی۔

صرف یہ خواہش تھی کہ کوئی جواب دے دے۔

سائرہ نے بے اختیار جواب دیا،

“وعلیکم السلام۔”

کاؤنٹر پر بیٹھی لڑکی نے بے دلی سے پوچھا،

“جی، کیا چاہیے؟”

اس نے سکوں پر آخری نظر ڈالی۔

“دو چائے… اگر انہی میں ہو جائے۔”

“بس؟”

“جی… اندر بیٹھ جائیں گے تھوڑی دیر۔ باہر کافی ٹھنڈ ہے۔”

اس ایک جملے نے سائرہ کے اندر جیسے کوئی بند دروازہ کھول دیا۔

وہ جانتی تھی، چائے نہیں خریدی جا رہی۔

چند لمحوں کی عزت خریدی جا رہی تھی۔

اس نے محسوس کیا کہ ریسٹورنٹ کی کئی نظریں اب اس کی طرف تھیں۔

ان نظروں میں سوال بھی تھا، احتیاط بھی، اور ایک انجانا خوف بھی۔

آصف نے آہستہ سے پوچھا،

“کیا ہوا؟”

سائرہ نے جواب نہیں دیا۔

وہ سیدھی کاؤنٹر تک گئی۔

“دو ناشتے اور دو چائے… الگ ٹرے میں رکھ دیجیے۔”

لڑکی نے چونک کر اسے دیکھا۔

“ان کے لیے؟”

سائرہ نے صرف سر ہلا دیا۔

ٹرے اٹھاتے ہوئے اسے اپنا ہاتھ غیر معمولی طور پر بھاری محسوس ہوا۔

جیسے وزن کھانے کا نہیں، فیصلے کا ہو۔

دونوں آدمی کھڑکی کے قریب والی میز پر بیٹھ چکے تھے۔

وہ خاموشی سے ٹرے ان کے سامنے رکھ آئی۔

نیلی آنکھوں والے نے پہلے ٹرے دیکھی، پھر اس کی طرف۔

اس کی انگلیاں کپ کے کنارے پر رک گئیں۔

“یہ…”

الفاظ آگے نہ بڑھ سکے۔

سائرہ نے ان کی طرف دیکھا۔

وہ ٹھنڈ سے کپکپا رہے تھے۔

اس نے دھیرے سے کہا،

“یہ میری طرف سے نہیں۔ کبھی کبھی اللہ کسی اور کے ہاتھ استعمال کرتا ہے۔ آج شاید میری باری تھی۔”

اس آدمی نے نظریں جھکا لیں۔

ایک آنسو اس کے ہاتھ پر گرا۔

اس نے فوراً پونچھا نہیں۔

شاید کچھ آنسوؤں کو گرنے دینا بھی احترام ہوتا ہے۔

واپس آ کر وہ خاموش بیٹھی رہی۔

اذان اپنے برگر کے ساتھ کھیل رہا تھا۔

آصف نے اس کی طرف دیکھا۔

“تم ہر بار مجھے حیران کر دیتی ہو۔”

سائرہ نے ہلکی سی مسکراہٹ سے بات ٹال دی۔

مگر آصف نے میز کے نیچے اس کا ہاتھ تھام لیا۔

“آج میرے بیٹے نے برگر نہیں دیکھا۔ اس نے اپنی ماں دیکھی ہے۔”

سائرہ نے پہلی مرتبہ محسوس کیا کہ انسان کا ہاتھ کبھی کبھی دعا کی شکل بھی اختیار کر لیتا ہے۔

اس رات اس نے اپنی اسائنمنٹ لکھنی شروع کی۔

کاغذ پر سب سے پہلے اسے وہ سکے یاد آئے۔

وہی چند سکے…

جو بار بار گنے جا رہے تھے۔

جیسے ہر سکہ کہہ رہا ہو کہ غربت ہمیشہ خالی جیب کا نام نہیں، کبھی کبھی خالی نگاہوں کا بھی نام ہوتی ہے۔

آخری کلاس تھی۔

استاد نے تمام اسائنمنٹس میز پر رکھیں۔

پھر اچانک سائرہ والی کاپی کھول لی۔

“اگر اجازت ہو تو میں یہ پوری کلاس کو سنانا چاہوں گی۔”

سائرہ نے خاموشی سے اثبات میں سر ہلا دیا۔

کمرے میں پنکھے کی آواز کے علاوہ کچھ نہ تھا۔

کہانی ختم ہوئی تو کسی نے تالیاں نہیں بجائیں۔

ایک طالبہ نے اپنا رومال آنکھوں تک لے جا کر واپس بیگ میں رکھ دیا۔

پچھلی قطار میں بیٹھا لڑکا مسلسل اپنی قلم کی ٹوپی کھولتا بند کرتا رہا۔

استاد نے رجسٹر بند کیا۔

“آج کے بعد شاید آپ سب مجھے بھول جائیں، مگر ایک بات یاد رکھیے گا…”

وہ چند لمحے خاموش رہیں۔

“ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ لوگوں کو روٹی کی ضرورت ہے۔ کئی بار انہیں صرف اس یقین کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ ابھی بھی انسان ہیں۔”

جامعہ سے نکلتے ہوئے سائرہ نے بیگ کی چھوٹی جیب میں ہاتھ ڈالا۔

وہاں ایک دو روپے کا سکہ رکھا تھا۔

پتہ نہیں کب سے۔

اس نے اسے مٹھی میں بند کر لیا۔

گھر پہنچ کر اس نے وہ سکہ الماری میں نہیں رکھا۔

باورچی خانے کی کھڑکی کے پاس رکھ دیا، جہاں ہر صبح سورج کی پہلی کرن آ کر ٹھہرتی تھی۔

اس کے بعد جب بھی زندگی تنگ پڑتی، وہ سکہ چمکتا نہیں تھا…

بس اسے یاد دلاتا تھا کہ بعض لوگ دنیا میں روٹی سے پہلے ایک مسکراہٹ کے قرض دار ہوتے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top