نوّے سالگرہ… مگر انتظار پھر بھی باقی تھا
صبح فجر کی اذان ابھی ختم ہی ہوئی تھی کہ حاجی عبدالرحمن نے آہستہ سے آنکھیں کھولیں۔
کھڑکی پر بارش کی ننھی ننھی بوندیں بج رہی تھیں، جیسے آسمان بھی کسی خاموش دکھ میں شریک ہو۔
کمرے میں ایک پرانا پنکھا، دیوار پر لگی گھڑی اور میز پر رکھا کیلنڈر…
جس پر صرف ایک تاریخ نمایاں تھی۔
12 نومبر
وہ چند لمحے اسی تاریخ کو دیکھتے رہے، پھر ہلکی سی مسکراہٹ ان کے ہونٹوں پر آ گئی۔
“آج میں… نوّے برس کا ہو گیا۔”
مگر جواب میں صرف خاموشی تھی۔
ایک چھوٹا سا کمرہ… پوری زندگی کی کہانی
یہ لاہور کے ایک اولڈ ہوم کا سادہ سا کمرہ تھا۔
- ایک چارپائی
- ایک الماری
- ایک جائے نماز
- چند پرانی تصویریں
بس یہی ان کی کل دنیا تھی۔
کچھ دیر بعد ایک نرس اندر آئی۔
“بابا جی… آج آپ کی پسند کا پلاؤ بنایا ہے۔”
عبدالرحمن نے مسکرا کر صرف ایک سوال پوچھا۔
“بیٹا… آج کوئی آیا تھا؟”
نرس چند لمحے خاموش رہی۔
پھر نظریں جھکا کر بولی۔
“نہیں بابا جی…”
انہوں نے صرف “الحمدللہ” کہا اور پلیٹ اپنی طرف کھینچ لی۔
مگر پہلا نوالہ توڑنے سے پہلے ان کی نظریں پھر دروازے پر جا ٹھہریں…
جیسے ابھی کوئی اندر آئے گا اور کہے گا…
“ابو!”
جن بچوں کے لیے زندگی گزار دی
ان کے تین بچے تھے۔
دو بیٹے…
ایک بیٹی…
تینوں اعلیٰ تعلیم یافتہ۔
تینوں بیرونِ ملک۔
تینوں کامیاب۔
اور تینوں…
زندہ تھے۔
کبھی یہی گھر بچوں کی ہنسی سے گونجتا تھا۔
عبدالرحمن صبح چار بجے اٹھتے، دودھ کی دکان کھولتے، سارا دن محنت کرتے اور رات گئے گھر واپس آتے۔
بیوی اکثر پوچھتی۔
“اتنی محنت کیوں کرتے ہو؟”
وہ مسکرا کر کہتے۔
“میں نہیں… میرے بچوں کے خواب محنت کرتے ہیں۔”
بڑا بیٹا انجینئر بنا۔
چھوٹا ڈاکٹر۔
بیٹی یونیورسٹی کی پروفیسر۔
محلے والے کہتے۔
“حاجی صاحب! آپ واقعی خوش قسمت ہیں۔”
وہ فخر سے جواب دیتے۔
“میری اصل دولت میرے بچے ہیں۔”
مگر انہیں کیا خبر تھی…
کہ بعض دولتیں ایک دن اپنے مالک کو ہی بھول جاتی ہیں۔
وہ دن جب سب بدل گیا
بیوی کے انتقال کے بعد حالات بدلنے لگے۔
پہلے کہا گیا۔
“ابو! آپ اکیلے کیسے رہیں گے؟”
پھر کہا گیا۔
“کچھ دن ہمارے ساتھ رہیں۔”
اور آخرکار…
“ابو… اولڈ ہوم بہت اچھا ہے، وہاں آپ کی عمر کے لوگ بھی ہوں گے۔”
عبدالرحمن نے صرف ایک سوال پوچھا۔
“بیٹا… میں نے کبھی تمہیں گھر سے نکالا تھا؟”
بیٹے نے نظریں جھکا لیں۔
اس دن عبدالرحمن اپنے گھر سے نہیں نکلے تھے… بلکہ اپنی پوری زندگی سے نکل آئے تھے۔
ایک اجنبی نے اپنا بنا لیا
پورا دن گزر گیا۔
فون ایک بار بھی نہ بجا۔
ہر آہٹ پر وہ دروازے کی طرف دیکھتے، پھر خاموشی سے واپس بیٹھ جاتے۔
شام ڈھل گئی۔
پلاؤ ٹھنڈا ہو چکا تھا۔
اتنے میں گیٹ پر ایک گاڑی آ کر رکی۔
ان کا دل زور سے دھڑکا۔
“شاید… میرے بچے آ گئے…”
مگر اندر چند کالج کے طلبہ اور ان کی ٹیچر داخل ہوئے۔
ٹیچر نے مسکرا کر کہا۔
“بابا جی… ہم ہر سال یہاں آتے ہیں۔ آج پتا چلا کہ آپ کی سالگرہ بھی ہے۔”
ایک ننھی طالبہ آگے بڑھی۔
اس نے اپنے ہاتھ سے بنایا ہوا ایک کارڈ عبدالرحمن کے ہاتھ میں رکھا۔
اس پر لکھا تھا۔
“سالگرہ مبارک ہو دادا ابو… اللہ آپ کو سلامت رکھے۔”
عبدالرحمن کے ہاتھ کانپنے لگے۔
انہوں نے کارڈ سینے سے لگا لیا۔
پھر آہستہ سے پوچھا۔
“بیٹا… تم مجھے جانتی بھی نہیں ہو۔”
بچی مسکرا کر بولی۔
“دادا ابو… رشتے ہمیشہ خون سے نہیں بنتے، کبھی کبھی دعا سے بھی بن جاتے ہیں۔”
آخری تحفہ
اسی رات عبدالرحمن نے اپنی ڈائری کا آخری صفحہ کھولا اور لکھا۔
“میں نے اپنے بچوں کو چلنا سکھایا… مگر شاید یہ سکھانا بھول گیا کہ ایک دن بوڑھے باپ کا ہاتھ کیسے پکڑا جاتا ہے۔”
اگلی صبح نرس ناشتا لے کر کمرے میں آئی۔
عبدالرحمن جائے نماز پر بیٹھے تھے۔
چہرے پر سکون تھا۔
ہاتھ میں وہی سالگرہ والا کارڈ تھا۔
اور ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ۔
وہ خاموشی سے اپنے رب کے حضور جا چکے تھے۔
دیر سے آنے والا پچھتاوا
تین دن بعد ان کے بچوں کی ویڈیو کال آئی۔
نرس نے آہستہ سے کہا۔
“آپ بہت دیر کر چکے ہیں…”
فون کی دوسری طرف طویل خاموشی چھا گئی۔
پھر پہلی بار تینوں بہن بھائی ایک ساتھ رو پڑے۔
لیکن…
بعض دروازے آنسوؤں سے نہیں، وقت گزر جانے سے ہمیشہ کے لیے بند ہو جاتے ہیں۔
سبق
بوڑھے ماں باپ کو مہنگے تحفوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔
انہیں صرف اس یقین کی ضرورت ہوتی ہے کہ جن ہاتھوں کو انہوں نے پکڑ کر چلنا سکھایا تھا، وہی ہاتھ بڑھاپے میں انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔
کیونکہ قبر پر رکھے ہوئے پھول کبھی اُس ایک گلے کی کمی پوری نہیں کر سکتے، جس کا انتظار ایک باپ زندگی بھر کرتا رہتا ہے۔






