Maa Ki Sab Se Qeemti Yaad | ماں کی سب سے قیمتی یاد

ماں کی سب سے قیمتی یاد

“اسی ایک لمحے کے لیے میں تین ماہ سے زندہ تھی…” 💔Maa Ki Sab Se Qeemti Yaad


وہ لمحہ جس کا ایک ماں برسوں انتظار کرتی ہے

چھ سال…

صرف چھ سال۔

لوگ کہتے ہیں کہ چھ سال کے بچے بہت جلد ہر چیز بھول جاتے ہیں۔

لیکن شاید وہ یہ نہیں جانتے…

ماں کبھی نہیں بھولتی۔

وہ اپنے بچوں کی پہلی مسکراہٹ، پہلا لفظ، پہلا قدم، بخار میں گزری پہلی رات، اور اسکول کے پہلے دن ہاتھ چھوڑنے کا لمحہ ہمیشہ اپنے دل میں محفوظ رکھتی ہے۔

اور پھر…

کچھ لمحے ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں وہ پوری زندگی کے لیے اپنی یادوں میں قید کرنا چاہتی ہے۔

میرے لیے وہ لمحہ میرے جڑواں بچوں کی چھٹی سالگرہ تھا۔


تین ماہ کی محبت

میں نے جنوری سے ہی تیاری شروع کر دی تھی۔

لوگ سمجھتے ہیں کہ تحفے بازار سے خریدے جاتے ہیں۔

میرے لیے تحفہ صرف ایک ڈبہ نہیں تھا…

بلکہ وہ میری محبت کا وہ اظہار تھا جسے الفاظ کبھی بیان نہیں کر سکتے۔

میں نے راتوں کو جاگ جاگ کر دونوں بچوں کے لیے الگ الگ یادوں کی کتابیں تیار کیں۔

ہر صفحے پر ایک تصویر…

اور ہر تصویر کے ساتھ ایک چھوٹا سا جملہ۔

“یہ وہ دن تھا جب تم پہلی بار سائیکل سے گرے تھے، لیکن روئے نہیں تھے۔”

“یہ وہ لمحہ تھا جب تم نے پہلی بار کہا تھا، ماما… آپ دنیا کی سب سے اچھی ماما ہیں۔”

ہر صفحہ میں نے اپنے ہاتھوں سے سجایا۔

کہیں رنگ بھرے…

کہیں ننھے ستارے بنائے…

کہیں دل بنائے…

اور جہاں سیاہی پھیل گئی…

وہ پورا صفحہ دوبارہ بنایا۔

کئی راتیں ایسی گزریں جب گھڑی تین بجا رہی تھی۔

آنکھیں جل رہی تھیں۔

مگر ہاتھ رکے نہیں۔

کیونکہ میرے ذہن میں صرف ایک منظر تھا۔

جب وہ دونوں کتاب کھولیں گے…

اور خوشی سے چیخ اٹھیں گے…

“ماماااااا!”

مجھے یقین تھا…

وہ ایک لمحہ میری ساری تھکن خرید لے گا۔


وہ دو کھلونے

میرے دونوں بچے کئی مہینوں سے ایک ہی بات کرتے تھے۔

“اگر مجھے وہ سفید خرگوش مل جائے…”

اور دوسرا کہتا۔

“اور مجھے وہ نیلا ڈائنوسار…”

میں نے پورا شہر چھان مارا۔

آن لائن اسٹور دیکھے۔

بار بار آرڈر منسوخ ہوئے۔

بالآخر…

دونوں کھلونے مجھے مل گئے۔

پارسل ہاتھ میں آیا تو دل نے کہا۔

“بس اب سالگرہ آ جائے…”

ریپنگ پیپر بھی میں نے بچوں کی پسند کے مطابق لیا۔

بیٹے کے لیے آسمانی رنگ۔

بیٹی کے لیے جامنی رنگ۔

ربن بھی الگ الگ باندھے۔

کیونکہ میں صرف تحفے نہیں دے رہی تھی…

میں ایک یاد تخلیق کر رہی تھی۔


وہ صبح…

مجھے کئی برسوں سے شدید بے خوابی تھی۔

ایسی بے خوابی…

جس میں پوری رات چھت گنتے گزر جاتی تھی۔

میرے شوہر حارث اس بات کو اچھی طرح جانتے تھے۔

اکثر صبح بچوں کو خود سنبھال لیتے تاکہ میں کچھ دیر مزید سو سکوں۔

اگر وہ نو بجے تک مجھے نہ جگاتے…

تو اس کا مطلب یہی ہوتا تھا کہ رات بہت مشکل گزری ہے۔

اس صبح بھی شاید انہوں نے یہی سوچا۔

کم از کم بعد میں انہوں نے یہی کہا۔


وقت رک گیا

میری آنکھ آٹھ بج کر پینتالیس منٹ پر کھلی۔

نیچے سے بچوں کی ہنسی آ رہی تھی۔

میں مسکراتے ہوئے جلدی سے نیچے اتری۔

دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔

لیکن جیسے ہی میں ڈرائنگ روم میں پہنچی…

وقت رک گیا۔

فرش پر رنگ برنگے ریپنگ پیپر بکھرے ہوئے تھے۔

ربن…

ٹیپ…

کھلے ہوئے ڈبے…

ہر طرف خوشی کے آثار تھے۔

اور میرے دونوں بچے…

اپنے نئے کھلونوں میں مگن تھے۔

وہ سفید خرگوش…

وہ نیلا ڈائنوسار…

دونوں ان کی بانہوں میں تھے۔

اور میرے شوہر…

صوفے پر سکون سے کافی پی رہے تھے۔

جیسے آج کوئی عام سا دن ہو۔


صرف ایک سوال…

میرے منہ سے بمشکل ایک جملہ نکلا۔

“یہ… کیا ہوا؟”

حارث نے میری طرف دیکھا۔

کندھے اچکائے۔

اور مسکرا کر بولے۔

“بچے بہت بے تاب تھے… میں نے سوچا تمہیں سونے دوں۔”

میں خاموش کھڑی رہی۔

پھر آہستہ سے پوچھا۔

“آپ نے مجھے جگایا کیوں نہیں؟”
ایک ایسا جواب جس نے سب کچھ بدل دیا

حارث ہلکے سے مسکرائے۔

“میں تمہیں صبح کبھی نہیں جگاتا… آج کیوں جگاتا؟”

مجھے یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے میرے دل کو مضبوطی سے مٹھی میں جکڑ لیا ہو۔

میں نے آہستہ سے کہا۔

“آپ جانتے ہیں میں نے یہ تحفے کتنی محبت سے تیار کیے تھے؟”

انہوں نے کافی کا ایک گھونٹ لیا۔

پھر بے پروائی سے بولے۔

“ہاں… لیکن آخر تحفے ہی تو تھے۔”

میں نے سر ہلایا۔

میری آواز کانپ رہی تھی۔

“تحفے نہیں تھے…”

“یہ میرے تین مہینے تھے…”

“میری نیندیں تھیں…”

“میری محبت تھی…”

میں صرف ایک منظر دیکھنا چاہتی تھی۔

وہ لمحہ…

جب میرے بچے پہلی بار وہ کتابیں کھولتے۔

جب ان کی آنکھیں حیرت سے چمکتیں۔

جب وہ دوڑ کر مجھے گلے لگا لیتے۔

جب وہ خوشی سے کہتے…

“ماما… آپ کو کیسے پتا چلا؟”

لیکن…

وہ لمحہ اب ہمیشہ کے لیے گزر چکا تھا۔


ایک ایسا لفظ جو دل توڑ دیتا ہے

حارث نے بے زاری سے میری طرف دیکھا۔

پھر ایک ایسا جملہ کہا…

جو شاید ہمیشہ میرے دل میں گونجتا رہے گا۔

“تم ڈرامہ بنا رہی ہو۔”

بعض اوقات…

ایک لفظ انسان کو اس سے زیادہ زخمی کر دیتا ہے جتنا ایک تھپڑ بھی نہیں کر سکتا۔

وہ بولے۔

“بچے خوش ہیں…”

“تمہیں بھی خوش ہونا چاہیے کہ تمہیں نیند مل گئی۔”

پھر انہوں نے موبائل میری طرف بڑھایا۔

“میں نے پوری ویڈیو بنا لی ہے… بعد میں دیکھ لینا۔”


کیا ویڈیو کبھی ایک لمحہ بن سکتی ہے؟

میں نے خاموشی سے موبائل کی طرف دیکھا۔

اور دل میں ایک سوال ابھرا۔

کیا واقعی کوئی ویڈیو ایک ماں کے احساسات کی جگہ لے سکتی ہے؟

کیا کسی بچے کی پہلی خوشی…

اسکرین کے پیچھے سے ویسی ہی محسوس ہوتی ہے؟

کیا موبائل کی ریکارڈنگ میں وہ ننھے ہاتھ…

ماں کے گلے لگ جاتے ہیں؟

کیا ویڈیو میں…

بچے کی آنکھوں کی وہ پہلی حیرت محسوس کی جا سکتی ہے؟

نہیں… کبھی نہیں۔

میں ایک لفظ کہے بغیر اپنے کمرے میں چلی گئی۔

دروازہ بند کیا…

اور پہلی بار محسوس ہوا…

انسان صرف کسی کی موت پر نہیں روتا۔

کبھی کبھی وہ ایک ایسی یاد پر بھی روتا ہے…

جو پیدا ہونے سے پہلے ہی مر جائے۔


بے قصور بچے

میں بہت دیر تک روتی رہی۔

نیچے سے بچوں کی ہنسی اب بھی آ رہی تھی۔

وہ خوش تھے۔

اور یہی بات میرے لیے سب سے زیادہ سکون بھی تھی۔

میں ان سے ناراض نہیں تھی۔

کیسے ہوتی؟

چھ سال کے بچے انتظار نہیں جانتے۔

ان کے لیے سالگرہ کا مطلب صرف تحفے کھولنا ہوتا ہے۔

وہ بے قصور تھے۔

قصور صرف اس انسان کا تھا…

جسے میری خاموشیوں کی زبان بھی سمجھنی چاہیے تھی۔

جس نے تین مہینے مجھے جاگتے دیکھا تھا۔

میرے ہاتھوں پر گوند کے نشان دیکھے تھے۔

مجھے ہر صفحہ سجاتے دیکھا تھا۔

وہ جانتا تھا…

یہ لمحہ میرے لیے کتنا قیمتی تھا۔

پھر بھی اس نے سوچ لیا…

“بعد میں ویڈیو دیکھ لے گی۔”


عورتیں چیزوں سے نہیں… یادوں سے محبت کرتی ہیں

شاید…

بعض اوقات مرد یہ بات نہیں سمجھ پاتے…

کہ عورتیں چیزوں سے نہیں…

یادوں سے محبت کرتی ہیں۔

تحفے پرانے ہو جاتے ہیں۔

کھلونے ٹوٹ جاتے ہیں۔

کتابوں کے صفحے زرد پڑ جاتے ہیں۔

لیکن…

وہ ایک لمحہ…

جب بچہ پہلی بار حیرت سے اپنی ماں کو دیکھتا ہے…

وہ پوری زندگی دل میں زندہ رہتا ہے۔


شام کا ایک سوال

شام کو میرے دونوں بچے میرے کمرے میں آئے۔

ان کے ہاتھوں میں وہی یادوں کی کتابیں تھیں۔

“ماما… دیکھو!”

وہ ہر صفحہ مجھے دکھاتے رہے۔

ہر تصویر پر ہنستے رہے۔

ہر جملہ مجھ سے دوبارہ پڑھواتے رہے۔

پھر اچانک میری بیٹی عنایا نے پوچھا۔

“ماما… آپ صبح ہمارے ساتھ کیوں نہیں تھیں؟”

میں خاموش رہ گئی۔

اسی لمحے میرے بیٹے اذان نے معصومیت سے کہا۔

“ہم نے پہلے آپ کو ڈھونڈا تھا…”

“لیکن پاپا نے کہا… ماما سو رہی ہیں… بعد میں دیکھ لیں گی۔”

میرے اندر کچھ ایک بار پھر ٹوٹ گیا۔

میں نے دونوں کو مضبوطی سے اپنے سینے سے لگا لیا۔

وہ ہنس رہے تھے۔

انہیں کچھ معلوم نہیں تھا۔

اور شاید…

یہی معصومیت بچپن کی سب سے بڑی خوبصورتی ہے۔


وہ یاد جو کبھی واپس نہیں آئے گی

رات کو حارث میرے پاس آئے۔

آہستہ سے بولے۔

“اب بھی ناراض ہو؟”

میں نے پہلی بار ان کی آنکھوں میں دیکھا۔

اور کہا۔

“نہیں…”

وہ ہلکے سے مسکرا دیے۔

لیکن میں نے اپنی بات مکمل کی۔

“میں صرف وہ عورت نہیں رہی… جو کل تھی۔”

وہ خاموش ہو گئے۔

میں نے دھیرے سے کہا۔

“تم نے آج صرف تحفے نہیں کھلوائے…”

“تم نے میرے دل سے ایک یاد چھین لی ہے۔”

“اور کچھ یادیں ایسی ہوتی ہیں…”

“جن کا کوئی دوبارہ شوٹ نہیں ہوتا۔”

اس رات…

پہلی بار حارث کی آنکھوں میں شرمندگی تھی۔

اور میری آنکھوں میں صرف آنسو نہیں تھے…

بلکہ ایک سچ بھی تھا۔


سبق

زندگی کی سب سے قیمتی چیز وقت نہیں…

بلکہ وہ لمحہ ہوتا ہے جو صرف ایک بار آتا ہے۔

اگر وہ لمحہ گزر جائے…

تو پوری زندگی اس کی صرف یاد باقی رہ جاتی ہے۔

اور بعض یادوں کی…

کوئی ویڈیو، کوئی تصویر اور کوئی معذرت کبھی جگہ نہیں لے سکتی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top