“سایہ… آ گئے؟”
ہر شام یہ آواز اسی بند کمرے سے آتی تھی۔
دروازے کے باہر کھڑا نوجوان ہلکے سے مسکراتا اور جواب دیتا،
“ہاں… آج بھی تمہیں اکیلا نہیں چھوڑوں گا۔”
محلے والے سمجھتے تھے دونوں لڑکے شاید کسی عجیب مذاق کے عادی ہیں۔
انہیں کیا معلوم، ان میں سے ایک کی آنکھوں سے روشنی جا چکی تھی… اور دوسرا اپنی زندگی کا ایک حصہ اس کے اندھیرے کے نام کر چکا تھا۔
جامعہ پنجاب میں ان کی دوستی ایک خالی بینچ سے شروع ہوئی تھی۔
حارث قانون پڑھنے آیا تھا۔
نعمان ادب کا طالب علم تھا۔
دونوں کا تعلق متوسط گھروں سے تھا، جہاں خواب دیکھنے سے پہلے بجلی کا بل ادا کرنا پڑتا ہے۔
پہلی ملاقات میں ہی حارث نے پوچھا،
“اتنا آہستہ کیوں بولتے ہو؟”
نعمان مسکرا دیا۔
“امی کہتی ہیں، اونچی آواز میں بولنے سے لفظوں کی عزت کم ہو جاتی ہے۔”
حارث بے اختیار ہنس پڑا۔
اسی دن دونوں نے ایک ہی کینٹین میں چائے پی، ایک ہی لائبریری میں کتابیں ڈھونڈیں اور ایک دوسرے کے خوابوں میں اپنا نام لکھ دیا۔
انہیں یقین تھا کہ دوستی عمر سے لمبی ہوتی ہے۔
چند مہینے بعد نعمان نے کتاب آنکھوں کے قریب کر لی۔
حارث نے مذاق کیا،
“شاعری زیادہ پڑھو گے تو یہی ہوگا۔”
دونوں ہنس دیے۔
مگر ہنسی زیادہ دیر نہ ٹھہر سکی۔
ڈاکٹر نے عینک اتار کر میز پر رکھی۔
“اعصاب تیزی سے خراب ہو رہے ہیں… شاید بینائی واپس نہ آئے۔”
کمرے میں خاموشی پھیل گئی۔
نعمان نے جیب سے اپنی ماں کا دیا ہوا نیلا رومال نکالا اور مٹھی میں بھینچ لیا۔
وہی رومال…
جو رخصت ہوتے وقت ماں نے یہ کہہ کر دیا تھا،
“جب دل گھبرائے تو اسے ہاتھ میں پکڑ لینا، لگے گا میں ساتھ ہوں۔”
بینائی ختم ہونے سے پہلے امید ختم ہوئی۔
نعمان نے یونیورسٹی چھوڑ دی۔
فیصل آباد واپس آ گیا۔
گھر میں سلائی مشین کی آواز صبح سے رات تک چلتی رہتی۔
والد دواؤں کی پرچیاں بار بار جیب سے نکال کر دیکھتے، جیسے اعداد بدل جائیں گے۔
اور نعمان…
اپنے کمرے کا دروازہ بند رکھتا۔
خط آتے تو صندوق میں رکھ دیتا۔
فون بجتا تو سانس روک لیتا۔
اسے لگتا تھا، نابینا ہونا اتنا تکلیف دہ نہیں جتنا اپنے لوگوں پر بوجھ بن جانا۔
ایک دوپہر دروازہ زور سے کھلا۔
“اوئے… مر گیا ہے کیا؟”
حارث سامنے کھڑا تھا۔
گرد آلود کپڑے، ہاتھ میں ایک بیگ، ماتھے پر پسینہ۔
نعمان کی آواز گلے میں اٹک گئی۔
“تم…؟”
حارث اس کے پاس بیٹھ گیا۔
کافی دیر دونوں خاموش رہے۔
پھر اس نے آہستہ سے کہا،
“اگر تمہاری دنیا سے روشنی چلی گئی ہے… تو میں تمہارا سایہ بن جاتا ہوں۔”
نعمان کا ضبط ٹوٹ گیا۔
وہ پہلی بار بچوں کی طرح رویا۔
حارث نے صرف اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
کبھی کبھی تسلی کے لیے الفاظ نہیں، موجودگی کافی ہوتی ہے۔
وہ دوبارہ لاہور آ گئے۔
اب حارث اس کا ہاتھ نہیں پکڑتا تھا۔
وہ صرف ایک قدم آگے چلتا۔
سیڑھیاں گنتا۔
دروازوں کی چوکھٹ بتاتا۔
راستے میں آتے درختوں، بارش کی خوشبو، شام کے رنگ اور آسمان پر اڑتے پرندوں کا حال ایسے سناتا جیسے تصویریں لفظوں میں رکھی جا سکتی ہوں۔
کبھی کتاب کھول کر کہتا،
“سایہ آج تمہیں منٹو سنائے گا۔”
کبھی ہنستے ہوئے چائے رکھ دیتا۔
“سایہ نے آج چینی کم ڈالی ہے، شکایت مت کرنا۔”
لوگ پوچھتے،
“تم اپنی زندگی کیوں ضائع کر رہے ہو؟”
حارث ہنس دیتا۔
“زندگی ضائع تب ہوتی ہے… جب صرف اپنے لیے جی جائے۔”
صرف ایک چیز نعمان ہمیشہ ساتھ رکھتا۔
وہی نیلا رومال۔
جب بھی خوف بڑھتا، اس کی انگلیاں بے اختیار رومال کو ڈھونڈنے لگتیں۔
وقت کے ساتھ رومال پر شکنیں بڑھتی گئیں۔
اور شاید دوستی بھی ایسی ہی ہوتی ہے…
استعمال سے پرانی ضرور ہوتی ہے، کمزور نہیں۔
ایک دن لاہور ریلوے اسٹیشن غیر معمولی رش سے بھرا ہوا تھا۔
سیٹیاں، اعلانات، قلیوں کی آوازیں، لوگوں کا شور…
حارث نے اچانک کہا،
“نعمان… مجھے ایک ضروری کام یاد آ گیا ہے۔”
“ابھی؟”
“ہاں۔”
“میں اکیلا کیسے جاؤں گا؟”
چند لمحے خاموشی رہی۔
پھر حارث نے صرف اتنا کہا،
“آج تمہیں اپنے قدموں کی آواز پہچاننی ہوگی۔”
اور وہ ہجوم میں گم ہو گیا۔
نعمان کا گلا خشک ہو گیا۔
پہلے ہی قدم پر کسی سے ٹکر لگی۔
دوسرے پر گالی ملی۔
تیسرے پر وہ لوہے کے کنارے سے ٹکرا کر گر پڑا۔
پنڈلی سے گرم خون بہنے لگا۔
ہر آواز دشمن لگ رہی تھی۔
ہر سمت اجنبی۔
اس نے نیلا رومال مٹھی میں دبا لیا۔
کانپتے ہوئے لوگوں سے پوچھتا، غلط راستے پر جاتا، پھر واپس آتا۔
دو گھنٹے بعد وہ کسی طرح صحیح ٹرین تک پہنچا۔
پھر ہاسٹل کے قریب اتر کر آہستہ آہستہ چلنے لگا۔
دروازے سے چند قدم پہلے کسی سے کندھا ٹکرایا۔
“معاف کیجیے…”
نعمان کے لب لرز گئے۔
“حارث…؟”
چند لمحے خاموشی رہی۔
پھر وہی مانوس ہنسی سنائی دی۔
“سایہ کبھی ساتھ نہیں چھوڑتا…
بس ایک دن اتنا پیچھے ہو جاتا ہے کہ تم اپنے قدموں پر یقین کرنا سیکھ لو۔”
اسی رات نعمان نے پہلی بار نیلا رومال جیب میں رکھ دیا۔
مٹھی میں نہیں۔
سال گزرتے گئے۔
نعمان نے تعلیم مکمل کی۔
پھر بیرونِ ملک اسکالرشپ ملی۔
اس نے کاروبار شروع کیا۔
بعد میں نابینا بچوں کے لیے ایک تعلیمی ادارہ قائم کیا، جہاں ہر نئے بچے کو داخلے کے وقت ایک نیلا رومال تحفے میں دیا جاتا۔
کوئی نہیں جانتا تھا کہ اس رومال کی کہانی کیا ہے۔
ایک برساتی شام حارث کا فون آیا۔
آواز میں پہلی بار جھجک تھی۔
“یار… ایک مدد چاہیے۔”
“بول۔”
“میں اور میرا دوست گانے ریکارڈ کرنا چاہتے ہیں… لیکن پیسے کم پڑ گئے ہیں۔”
نعمان نے بینک اکاؤنٹ کھولا۔
کل رقم چار لاکھ چار ہزار روپے تھی۔
گھر کی قسط اگلے ہفتے دینی تھی۔
اس نے خاموشی سے موبائل بیوی کی طرف بڑھا دیا۔
اس نے اسکرین دیکھی، پھر مسکرا کر کہا،
“جس نے تمہیں اندھیرے سے نکالا تھا…
اسے انتظار مت کراؤ۔”
نعمان نے چار لاکھ روپے منتقل کر دیے۔
اکاؤنٹ میں صرف چار ہزار رہ گئے۔
پہلا البم ناکام رہا۔
لوگوں نے سنا بھی نہیں۔
پھر ایک سال بعد انہی گیتوں میں سے ایک ایسا گیت آیا جو ہر ریڈیو، ہر چائے خانے اور ہر سفر کا حصہ بن گیا۔
جب بھی اس کی پہلی سطر گونجتی…
نعمان کے لبوں پر بے اختیار مسکراہٹ آ جاتی۔
کچھ قرض روپے سے ادا ہوتے ہیں۔
کچھ صرف یاد سے۔
بہت برس بعد، دونوں سفید بالوں کے ساتھ دوبارہ ملے۔
نعمان نے اپنی میز کی دراز کھولی۔
وہی پرانا نیلا رومال نکالا۔
اسے حارث کی ہتھیلی پر رکھ دیا۔
حارث نے انگلیوں سے اس کے گھسے ہوئے کنارے ٹٹولے اور خاموش ہو گیا۔
کمرے میں دیر تک کوئی کچھ نہ بولا۔
باہر شام اتر رہی تھی۔
اور اندر…
ایک پرانا سایہ اب بھی اپنے دوست کے ساتھ بیٹھا تھا۔
نوٹ: یہ ایک افسانوی اور ادبی کہانی ہے۔ اس کے کردار اور واقعات تخلیقی انداز میں پیش کیے گئے ہیں۔






