سفید چاک کی خاموش گواہی | Safaid Chalk Ki Khamosh Gawahi

پہلا جملہ اُس نے دو بار پڑھا۔

پھر تیسری بار۔

اس کے بعد کاغذ تہہ نہیں کیا، بس اپنی انگلیاں اس کے کناروں پر رکھے بیٹھی رہی، جیسے وہ کسی خط کو نہیں بلکہ اپنے ہی وجود کو پھٹنے سے بچا رہی ہو۔

“تم میرے کپڑے ہمیشہ صاف اور استری شدہ رکھو گی۔”

“کھانا میرے کمرے میں آئے گا۔”

“میری میز کو کوئی ہاتھ نہیں لگائے گا۔”

“اور… ضروری نہ ہو تو تم مجھ سے کسی ذاتی تعلق کی توقع نہیں رکھو گی۔”

کاغذ کے نیچے دستخط تھے۔

اُس کے شوہر کے۔

فراز کے۔

وہ دستخط جن پر شاید ایک دن پوری دنیا تالیاں بجانے والی تھی۔

لیکن اُس لمحے وہ صرف ایک عورت کی زندگی پر ثبت ہونے والی مہر تھے۔

لاہور کی ایک پرانی گلی میں واقع دو منزلہ گھر کی چھت ہمیشہ کبوتروں سے بھری رہتی تھی۔

گھر کے اندر مگر خاموشی بسی رہتی۔

سمیرا کو کبھی کبھی لگتا کہ اگر خاموشی بھی کوئی کپڑا ہوتی تو شاید وہ اسے بھی دھو کر چھت پر سکھا دیتی۔

وہ انہی لڑکیوں میں سے تھی جنہیں بچپن سے “غیر معمولی ذہین” کہا جاتا ہے۔

سرکاری کالج میں فزکس کی طالبہ۔

اساتذہ کہا کرتے تھے:

“یہ لڑکی صرف سوال نہیں کرتی، سوالوں کو جنم دیتی ہے۔”

پھر شادی ہو گئی۔

اور سوالوں کی جگہ برتنوں نے لے لی۔

فراز اُس وقت ایک معمولی سرکاری دفتر میں ملازم تھا۔

دفتر سے واپسی پر اکثر اس کی جیب میں پرانے کاغذ، بس کے ٹکٹ اور ریاضی کے بے ترتیب فارمولے بھرے ہوتے۔

سمیرا رات کو سب کچھ سمیٹ دیتی۔

صرف ایک چیز کبھی نہ چھیڑتی۔

لکڑی کی وہ میز۔

جس پر ہمیشہ سفید چاک کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا پڑا رہتا تھا۔

وہ چاک آہستہ آہستہ اس گھر کا سب سے خاموش فرد بن گیا تھا۔

رات کے دو بجے۔

فراز اچانک اٹھ بیٹھتا۔

“سمیرا…”

وہ نیند سے بوجھل آنکھوں کے ساتھ اس کے پاس آتی۔

“یہ مساوات دیکھو… اگر وقت مستقل نہ ہو تو؟”

سمیرا خاموشی سے کاغذ دیکھتی۔

پنسل اٹھاتی۔

اور ایک جگہ چھوٹا سا نشان لگا دیتی۔

“یہاں غلطی ہے۔”

فراز چند لمحے اس نشان کو دیکھتا۔

پھر بے اختیار مسکرا دیتا۔

“ہاں… یہی تو رہ گیا تھا۔”

اگلی صبح کسی اخبار میں سمیرا کا نام نہیں آتا تھا۔

کیونکہ اخبارات صرف ایک نام جانتے تھے۔

فراز۔

پہلا بیٹا پیدا ہوا۔

پھر دوسرا۔

چند برس بعد تیسرا۔

تیسرے بچے کی آنکھوں میں دنیا کچھ دھندلی سی اترتی تھی۔

وہ کبھی دیر تک دیوار کو دیکھ کر ہنستا رہتا اور کبھی اچانک اپنے ہی ہاتھوں سے خوف زدہ ہو جاتا۔

سمیرا نے اپنی کتابیں بند کر کے اُس کے ہاتھ تھام لیے۔

اور فراز نے تحقیق کا ہاتھ پکڑ لیا۔

دونوں اپنی اپنی سمت چل پڑے۔

فرق صرف اتنا تھا کہ ایک راستہ دنیا کی نظروں میں تھا۔

اور دوسرا گھر کی چار دیواری کے اندر۔

وقت گزرتا گیا۔

اخبارات میں فراز کی تصویریں آنے لگیں۔

جامعات سے دعوت نامے آنے لگے۔

بیرونِ ملک سے خطوط آنے لگے۔

اس کے چہرے پر کامیابی کی روشنی بڑھتی گئی۔

اور سمیرا کے ہاتھوں پر دراڑیں۔

پھر ایک شام وہ لفافہ آیا۔

بھورا سا۔

سادہ سا۔

اس میں محبت نہیں تھی۔

کوئی معافی نہیں تھی۔

صرف شرائط تھیں۔

سمیرا نے پورا خط پڑھا۔

ایک بار۔

پھر دوبارہ۔

اور پھر تیسری بار۔

اس کے بعد وہ خاموشی سے اٹھی۔

الماری کھولی۔

فراز کے تمام کپڑے ترتیب سے رکھ دیے۔

قمیضوں کی شکنیں سیدھی کیں۔

جوتے پالش کیے۔

کھانے کی ٹرے تیار کی۔

اور آخر میں اُس لکڑی کی میز کے قریب جا کر رک گئی۔

وہاں سفید چاک کا وہی چھوٹا سا ٹکڑا پڑا تھا۔

سمیرا نے اسے اٹھایا۔

پہلی بار۔

کچھ دیر اپنی ہتھیلی میں گھمایا۔

پھر خاموشی سے واپس وہیں رکھ دیا۔

بالکل اسی جگہ جہاں ہمیشہ رکھا رہتا تھا۔

اس نے شرط مان لی تھی۔

صرف اس لیے نہیں کہ وہ کمزور تھی۔

بلکہ شاید اس لیے کہ بعض عورتیں اپنے ٹوٹنے کی آواز اپنے بچوں تک نہیں پہنچنے دیتیں۔

لوگ کہتے:

“کتنا مثالی جوڑا ہے!”

سمیرا ہر بار مسکرا دیتی۔

کسی نے کبھی اُس مسکراہٹ کے پیچھے دفن ہوتی ہوئی عورت کو نہیں دیکھا۔

کئی برس گزر گئے۔

پھر وہ دن آیا جب فراز کو دنیا کا ایک بہت بڑا اعزاز ملا۔

ٹیلی وژن والے آئے۔

صحافی آئے۔

کیمرے آئے۔

گھر لوگوں سے بھر گیا۔

سب نے ایک ہی سوال پوچھا:

“سر، آپ کی کامیابی کا راز کیا ہے؟”

فراز مسکرایا۔

“انتھک محنت۔”

دوسرے کمرے میں سمیرا آٹا گوندھ رہی تھی۔

اس کے ہاتھ آٹے سے سفید تھے۔

بالکل اُس چاک کی طرح۔

جسے کبھی وہ بھی اپنے ہاتھوں میں تھاما کرتی تھی۔

آخرکار دونوں کے درمیان طلاق ہو گئی۔

سمیرا اسی گھر سے نکل آئی۔

سامان زیادہ نہیں تھا۔

چند کپڑے۔

چند پرانی کتابیں۔

بچوں کی تصویریں۔

اور کئی برسوں کی خاموشی۔

دروازے سے نکلنے سے پہلے وہ ایک بار پھر فراز کی میز کے پاس گئی۔

سفید چاک اب بھی وہیں پڑا تھا۔

سمیرا نے ہاتھ بڑھایا۔

چاک اٹھایا۔

اور پہلی بار اسے واپس نہیں رکھا۔

اس نے اسے اپنی جیب میں رکھ لیا۔

شاید پہلی بار اسے محسوس ہوا تھا کہ اس چھوٹے سے سفید ٹکڑے پر اس کا بھی کچھ حق بنتا ہے۔

زندگی نے سمیرا کو کوئی شاندار دوسرا موقع نہیں دیا۔

وہ بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی رہی۔

اپنے بیمار بیٹے کی دیکھ بھال کرتی رہی۔

بڑے بیٹے کو انجینئر بنتے دیکھا۔

گھر چلایا۔

زندگی چلائی۔

مگر اپنی ڈگری کبھی مکمل نہ کر سکی۔

راتوں کو کبھی کبھار وہ الماری سے ایک پرانا رجسٹر نکالتی۔

برسوں سے محفوظ سفید چاک ہاتھ میں لیتی۔

اور کسی خالی صفحے پر آدھا سا فارمولا لکھ دیتی۔

کچھ دیر اسے دیکھتی رہتی۔

پھر انگلی پھیر کر مٹا دیتی۔

جیسے وہ کسی مساوات کو نہیں بلکہ اپنی ہی پہچان کو چھو رہی ہو۔

برسوں بعد سمیرا کا انتقال ہو گیا۔

ایک چھوٹے سے کرائے کے مکان میں۔

چند پڑوسی آئے۔

خاموش جنازہ تھا۔

خاموش قبر۔

اور خاموش مٹی۔

کسی نے اُس کی پرانی کتابوں کے درمیان رکھا ہوا سفید چاک نہیں دیکھا۔

ادھر دنیا آج بھی ایک نابغۂ روزگار شخص کا نام احترام سے لیتی ہے۔

کتابیں اُس کے نظریات پڑھاتی ہیں۔

مضامین اُس کی ذہانت کے قصے سناتے ہیں۔

تصویریں اُس کی مسکراہٹ محفوظ کیے ہوئے ہیں۔

مگر تاریخ کے کسی خاموش حاشیے میں ایک عورت اب بھی بیٹھی ہے۔

جس کی انگلیوں پر کبھی سفید چاک لگ جاتا تھا۔

اور دنیا اسے صرف آٹے کی سفیدی سمجھ کر نظر انداز کر دیتی تھی۔

نوٹ: یہ ایک افسانوی کہانی ہے۔ اس کے کردار اور واقعات تخلیقی انداز میں پیش کیے گئے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top