بند الماری کے پیچھے | Band Almari Ke Peechay
پہلی آواز رات کے تقریباً دو بجے آئی تھی۔
ایسی جیسے لکڑی کے پیچھے کسی چیز کو آہستہ سے گھسیٹا گیا ہو۔
میں نے آنکھیں کھولیں۔
کمرے میں اندھیرا تھا۔
ساتھ لیٹے حمزہ کی سانسیں معمول کے مطابق چل رہی تھیں۔
میں نے چند لمحے خاموش رہ کر دوبارہ سننے کی کوشش کی۔
پھر وہی آواز۔
کھررر…
جیسے دیوار کے اندر کوئی حرکت کر رہا ہو۔
میں نے حمزہ کا بازو ہلایا۔
“سنیں…”
اس نے نیند میں کروٹ لی۔
“کیا ہوا؟”
“کوئی آواز آ رہی ہے۔”
وہ چند لمحے سنتا رہا۔
پھر بولا،
“بلی ہوگی۔ سو جاؤ۔”
“بلی دیوار کے اندر کیسے آ سکتی ہے؟”
اس نے جواب نہیں دیا۔
چند منٹ بعد وہ سو چکا تھا۔
میں نہیں سو سکی۔
اس گھر میں آئے ہمیں چھ ماہ ہوئے تھے۔
حمزہ کے والدین کا پرانا مکان تھا۔
دو منزلہ۔
موٹی دیواریں۔
بھاری لکڑی کے دروازے۔
اور اوپر ایک ایسا کمرہ جسے گھر میں سب “سٹور” کہتے تھے۔
وہ کمرہ ہمیشہ بند رہتا۔
پہلے مجھے اس بات میں کوئی عجیب چیز محسوس نہیں ہوئی۔
پرانے گھروں میں ایک آدھ بند کمرہ تو ہوتا ہی ہے۔
مگر پھر آوازیں آنے لگیں۔
کبھی رات کو ہلکے قدم۔
کبھی کسی چیز کے گرنے کی آواز۔
کبھی پانی کی بوتل دبنے جیسی چرچراہٹ۔
اور عجیب بات یہ تھی کہ جب بھی میں حمزہ سے ذکر کرتی، وہ بات بدل دیتا۔
ایک شام میں نے اپنی ساس سے پوچھ لیا۔
“امی، اوپر والا کمرہ ہمیشہ بند کیوں رہتا ہے؟”
ان کے ہاتھ میں چائے کا کپ ایک لمحے کے لیے رک گیا۔
پھر وہ ہنسیں۔
“ارے بیٹا، پرانا سامان ہے۔ چوہے بھی ہوں گے۔”
“لیکن رات کو آوازیں آتی ہیں۔”
انہوں نے فوراً کہا،
“نئے گھر میں ایسا لگتا ہے۔”
پھر کچھ توقف کے بعد بولیں،
“زیادہ سوچا نہ کرو۔ بعض گھروں کی اپنی آوازیں ہوتی ہیں۔”
مجھے یہ جملہ اچھا نہیں لگا۔
گھروں کی اپنی آوازیں نہیں ہوتیں۔
آواز کسی چیز کی ہوتی ہے۔
کسی وجہ کی۔
اس رات حمزہ بہت دیر سے گھر آیا۔
میں نے دروازہ کھولا۔
اس کے ہاتھ میں ایک سیاہ بیگ تھا۔
“یہ کیا ہے؟”
اس نے ایک لمحے کے لیے میری طرف دیکھا۔
“دفتر کا سامان۔”
وہ سیدھا اوپر چلا گیا۔
میں سیڑھیوں کے نیچے کھڑی اسے دیکھتی رہی۔
چند منٹ بعد واپس آیا۔
بیگ اس کے ہاتھ میں نہیں تھا۔
“بیگ کہاں ہے؟”
“اوپر رکھ دیا۔”
“سٹور میں؟”
اس کے چہرے پر پہلی بار وہ کیفیت آئی جسے میں آج بھی نہیں بھولی۔
حیرت نہیں۔
غصہ نہیں۔
خوف۔
صرف ایک لمحے کے لیے۔
پھر اس نے کہا،
“تمہیں ہر چیز کے بارے میں جاننا ضروری ہے؟”
میں خاموش ہو گئی۔
مگر اسی لمحے میرے اندر ایک سوال نے جگہ بنا لی۔
اور کچھ سوال جب دل میں جگہ بنا لیں تو پھر نیند میں بھی ساتھ رہتے ہیں۔
اگلے چند ہفتوں میں چیزیں مزید عجیب ہونے لگیں۔
حمزہ رات کو کبھی کبھی بستر سے غائب ہوتا۔
میں آنکھ کھولتی تو اس کی جگہ خالی ہوتی۔
آدھے گھنٹے بعد واپس آ جاتا۔
“کہاں گئے تھے؟”
“پانی پینے۔”
لیکن ہمارے کمرے میں پانی کی بوتل موجود ہوتی۔
ایک رات میں نے اس کے پاؤں دیکھے۔
ان پر گرد لگی ہوئی تھی۔
بالکل ویسی گرد جیسی اوپر والے سٹور کے باہر رہتی تھی۔
میں نے کچھ نہیں کہا۔
پھر ایک دن بجلی چلی گئی۔
شام جلدی اندھیرے میں بدل گئی۔
حمزہ کسی کام سے باہر گیا ہوا تھا۔
میں نے پرانی لالٹین نکالی۔
باورچی خانے سے واپس آ رہی تھی کہ اوپر سے پھر وہی آواز آئی۔
اس بار بہت واضح۔
ٹھک۔
پھر کسی چیز کے سرکنے کی آواز۔
میرا دل زور سے دھڑکنے لگا۔
میں نے خود سے کہا،
“آج دیکھتی ہوں۔”
سیڑھیاں چڑھتے ہوئے میرے ہاتھ کانپ رہے تھے۔
سٹور کا دروازہ پہلی بار بند نہیں تھا۔
صرف ہلکا سا کھلا ہوا۔
میں نے لالٹین بلند کی۔
“کوئی ہے؟”
جواب نہیں آیا۔
کمرے میں پرانے ڈبے، ٹوٹی کرسیاں اور کپڑوں کے صندوق پڑے تھے۔
سب معمول کے مطابق۔
پھر میری نظر لکڑی کی بڑی الماری پر گئی۔
وہ دیوار سے چند انچ آگے نکلی ہوئی تھی۔
میں نے پہلے کبھی غور نہیں کیا تھا۔
الماری کو دھکا دیا۔
وہ ہل گئی۔
میرے جسم میں سنسنی دوڑ گئی۔
وہ الماری نہیں تھی۔
دروازہ تھا۔
اس کے پیچھے ایک چھوٹا سا خانہ تھا۔
اتنا چھوٹا کہ ایک آدمی بمشکل لیٹ سکتا تھا۔
فرش پر تہہ کیا ہوا گدا۔
ایک سیاہ بیگ۔
تین پانی کی بوتلیں۔
کچھ دوائیوں کے خالی پتے۔
دو پرانی شرٹس۔
اور کونے میں کاغذوں کا ایک چھوٹا سا ڈھیر۔
میری سانس رک گئی۔
میں نے بیگ کھولا۔
اندر کچھ کپڑے تھے۔
ایک پرانی ڈائری۔
اور ایک تصویر۔
تصویر میں حمزہ تھا۔
اس کے ساتھ ایک عورت کھڑی تھی۔
دونوں مسکرا رہے تھے۔
تصویر دیکھتے ہی میرے ہاتھ سرد ہو گئے۔
میں فرش پر بیٹھ گئی۔
عورت میرے لیے بالکل اجنبی تھی۔
تصویر کے پیچھے ایک تاریخ لکھی تھی۔
12-03-2023
میں نے فوراً حساب لگایا۔
ہماری شادی اس تاریخ کے تقریباً ایک سال بعد ہوئی تھی۔
نیچے دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔
حمزہ گھر آ گیا تھا۔
میں نے تصویر ہاتھ میں پکڑی اور وہیں کھڑی رہی۔
چند لمحے بعد وہ اوپر آیا۔
مجھے دیکھ کر رک گیا۔
پھر اس کی نظر کھلی الماری پر گئی۔
اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
میں نے تصویر اس کے سامنے کر دی۔
“یہ کون ہے؟”
وہ خاموش رہا۔
“حمزہ، یہ کون ہے؟”
“مریم…”
“کون مریم؟”
اس نے آنکھیں بند کر لیں۔
“میری بیوی۔”
میرے کانوں میں جیسے شور بھر گیا۔
“کیا؟”
“پہلی بیوی۔”
لالٹین میرے ہاتھ میں ہلنے لگی۔
“آپ نے مجھے کبھی بتایا کیوں نہیں؟”
وہ دیوار کے ساتھ بیٹھ گیا۔
“کیونکہ وہ مر چکی ہے۔”
کمرے میں عجیب خاموشی چھا گئی۔
مریم سے اس کی شادی صرف آٹھ ماہ رہی تھی۔
ایک حادثے میں وہ دنیا سے چلی گئی۔
حمزہ نے بتایا کہ اس کے بعد تقریباً ایک سال وہ شدید غم میں رہا۔
یہ چھوٹا سا خانہ مریم نے خود بنایا تھا۔
گھر میں سب سے چھپ کر نہیں۔
بلکہ اسے کتابیں پڑھنے اور خاموش بیٹھنے کی جگہ پسند تھی۔
حادثے کے بعد حمزہ نے اس کمرے کو بند کر دیا۔
لیکن کبھی کبھی رات کو یہاں آ کر بیٹھتا۔
وہی گدا۔
وہی تصویر۔
وہی پرانی چیزیں۔
“پانی کی بوتلیں؟”
میں نے پوچھا۔
“میں یہاں کبھی کبھی کئی گھنٹے بیٹھ جاتا ہوں۔”
“اور بیگ؟”
“اس کے کپڑے ہیں۔ امی چاہتی تھیں پھینک دوں۔ مجھ سے نہیں ہوا۔”
میں نے اسے دیکھا۔
مجھے غصہ بھی آ رہا تھا۔
درد بھی۔
اور ایک ایسا خوف بھی جس کا نام میرے پاس نہیں تھا۔
“لیکن مجھ سے چھپایا کیوں؟”
اس نے آہستہ سے کہا،
“مجھے ڈر تھا تم سمجھو گی میں اب بھی اسی زندگی میں ہوں۔”
“اور اب آپ کو کیا لگتا ہے میں کیا سمجھوں گی؟”
اس کے پاس جواب نہیں تھا۔
میں اس رات اپنی بہن کے گھر چلی گئی۔
سب نے مختلف مشورے دیے۔
کسی نے کہا،
“اس گھر میں کچھ ہے۔”
کسی نے کہا،
“عامل کو دکھاؤ۔”
ایک خالہ نے تو اگلے ہی دن ایک نمبر بھی بھیج دیا۔
“بہت پہنچے ہوئے ہیں۔”
میں نے فون ہاتھ میں پکڑا۔
کافی دیر اس نمبر کو دیکھتی رہی۔
پھر delete کر دیا۔
میں کسی عامل کے پاس نہیں جانا چاہتی تھی۔
کیونکہ مسئلہ کسی سایے، جن یا بندش کا نہیں تھا۔
مسئلہ ایک زندہ انسان کے اندر بند ایک ایسے کمرے کا تھا جس کا دروازہ اس نے کبھی کھولا ہی نہیں تھا۔
میں کسی ماہر سے بات کرنا چاہتی تھی۔
دو دن بعد میں نے حمزہ سے کہا،
“ہم دونوں کسی counselor کے پاس جائیں گے۔”
وہ چونکا۔
“میں پاگل نہیں ہوں۔”
“میں نے کب کہا آپ پاگل ہیں؟”
“تو پھر؟”
میں نے آہستہ سے کہا،
“کچھ دکھ ایسے ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ ختم نہیں ہوتے۔ بس انسان انہیں الماری کے پیچھے چھپا دیتا ہے۔”
وہ دیر تک خاموش رہا۔
پھر پہلی بار اس کی آنکھوں میں آنسو آئے۔
کئی مہینے لگے۔
بہت سی باتیں پہلی بار سامنے آئیں۔
حمزہ نے بتایا کہ اسے اب بھی حادثے والی رات خواب میں دکھائی دیتی ہے۔
اسے جرم محسوس ہوتا تھا کہ وہ مریم کو بچا نہیں سکا۔
وہ اپنی نئی زندگی میں خوش ہونے پر بھی کبھی کبھی خود کو مجرم سمجھتا تھا۔
اور مجھے پہلی بار معلوم ہوا کہ انسان کسی مرنے والے سے محبت رکھ کر بھی کسی زندہ انسان سے محبت کر سکتا ہے۔
دونوں چیزیں ایک دوسرے کی دشمن نہیں ہوتیں۔
بس ان کے درمیان سچ ہونا ضروری ہے۔
چھ ماہ بعد ہم نے وہ چھپا ہوا خانہ خالی کیا۔
مریم کے کپڑے ایک خیراتی ادارے کو دے دیے گئے۔
کچھ کتابیں سنبھال کر رکھ لیں۔
تصویر ایک ڈبے میں رکھ دی۔
نہ پھینکی۔
نہ دیوار پر لگائی۔
بس احترام سے محفوظ کر دی۔
اور وہ گدا؟
حمزہ نے خود باہر نکالا۔
میں نے پوچھا،
“اب یہاں کیا رکھیں گے؟”
وہ چند لمحے خالی جگہ کو دیکھتا رہا۔
پھر بولا،
“کچھ نہیں۔”
میں نے مسکرا کر کہا،
“اچھا ہے۔ کبھی کبھی خالی جگہ بھی ضروری ہوتی ہے۔”
اب بھی کبھی رات کے وقت پرانا گھر آوازیں کرتا ہے۔
لکڑی سکڑتی ہے۔
کھڑکیاں ہلتی ہیں۔
سیڑھیاں چرچراتی ہیں۔
مگر اب میں خوف سے نہیں اٹھتی۔
کیونکہ مجھے معلوم ہے…
ہر عجیب آواز کے پیچھے کوئی آسیب نہیں ہوتا۔
کبھی کبھی وہاں صرف ایک ایسا درد چھپا ہوتا ہے جسے برسوں سے کسی نے نام نہیں دیا ہوتا۔
اور بعض بند دروازے تعویذ سے نہیں…
بات کرنے سے کھلتے ہیں۔






