چوتھی کرسی | Chauthi Kursi

“چار چار بچوں کے گروپ بن جائیں۔”Chauthi Kursi

جملہ ختم ہونے سے پہلے ہی کلاس میں کرسیوں کی چرچراہٹ، ہنسیوں کی بارش اور بستوں کے گھسٹنے کی آوازیں ایک دوسرے میں گھل گئیں۔

جیسے کسی نے بند کمرے میں اچانک ہوا چھوڑ دی ہو۔

میں نے حسبِ عادت اپنی کاپی بند کر دی۔

جلدی کرنے والوں کے لیے دنیا ہمیشہ ذرا زیادہ کشادہ ہوتی ہے۔

ایک لمحے میں ہر طرف چھوٹے چھوٹے دائرے بن گئے۔

کہیں چار لڑکیاں سر جوڑ کر کھڑی تھیں، کہیں چار لڑکے موبائل پر کسی منصوبے کی بات کر رہے تھے۔

کسی نے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا کہ کوئی رہ تو نہیں گیا۔

میں نے دیکھا۔

ہم تین تھے۔

میں… سحر… اور نعمان۔

تین ایسے چہرے جنہیں شاید پوری کلاس پہچانتی تھی، مگر کوئی یاد نہیں رکھتا تھا۔

ہم تینوں نے ایک دوسرے کی طرف ایسی مسکراہٹ پھینکی جس میں خوشی سے زیادہ شرمندگی تھی۔

جیسے ہر بار یہی رسم ادا کرنی پڑتی ہو۔

کلاس کے کونے میں ایک خالی کرسی الٹی پڑی تھی۔

اس کی ایک ٹانگ ہلکی سی ڈھیلی تھی۔

نجانے کیوں، میری نگاہ بار بار اسی پر جا کر رک جاتی۔

“چلیں، میڈم سے پوچھ لیتے ہیں۔”

نعمان نے دھیرے سے کہا۔

اس کی آواز ہمیشہ ایسی ہوتی تھی جیسے وہ پہلے ہی معذرت کر رہا ہو۔

ہم تینوں ٹیچر کی میز کے سامنے جا کھڑے ہوئے۔

وہ رجسٹر میں کچھ لکھ رہی تھیں۔

میں نے گلا صاف کیا۔

“میڈم…”

انہوں نے قلم نہیں روکا۔

“جی؟”

“ہم… اگر تین کا گروپ بنا لیں؟ کلاس میں بچے پورے نہیں ہیں۔”

انہوں نے لکھنا بند کر دیا۔

مگر جواب نہ دیا۔

چند لمحے۔

صرف پنکھے کی گھوں گھوں۔

پھر انہوں نے عینک ناک پر اوپر کی۔

سیدھا میری طرف دیکھا۔

“عجیب بات ہے…”

ان کی آواز میں حیرت کم، اکتاہٹ زیادہ تھی۔

“…ہر بار آخر میں یہی تین بچے کیوں رہ جاتے ہیں؟”

کلاس خاموش ہو گئی۔

کسی نے کھل کر قہقہہ نہیں لگایا۔

بس دبے ہوئے ہونٹوں کے پیچھے چند مسکراہٹیں لرزیں۔

کبھی کبھی انسان کو ذلیل کرنے کے لیے شور کی ضرورت نہیں ہوتی۔

میں نے محسوس کیا جیسے کسی نے میرے سینے کے اندر سے ہوا نکال دی ہو۔

سحر نے نظریں جھکا لیں۔

نعمان نے جیب میں ہاتھ ڈال لیے۔

ہم میں سے کسی نے کچھ نہیں کہا۔

اس دن پہلی بار مجھے احساس ہوا کہ تنہائی صرف دوست نہ ہونے کا نام نہیں۔

تنہائی وہ لمحہ ہے جب کسی اور کو بھی تمہاری تنہائی نظر آ جائے۔

پروجیکٹ کا عنوان تھا:

“سماجی تعلقات اور نوجوان نسل۔”

قسمت کو شاید مذاق بہت پسند تھا۔

ہم تینوں لائبریری میں بیٹھے تھے۔

نعمان چارٹ بنا رہا تھا۔

سحر حوالہ جات ڈھونڈ رہی تھی۔

میں لکھ رہا تھا۔

کافی دیر تک کوئی نہیں بولا۔

پھر سحر نے اچانک پوچھا،

“تم دونوں کے بھی… زیادہ دوست نہیں ہیں؟”

نعمان ہنس پڑا۔

“زیادہ؟”

اس نے لفظ دہرا کر سر ہلایا۔

“ایک بھی نہیں۔”

پھر اس نے پنسل گھماتے ہوئے کہا،

“ابا کہتے ہیں، لڑکا آدمیوں میں اٹھے بیٹھے تو اعتماد آتا ہے۔ انہیں کیا بتاؤں کہ آدمیوں میں جگہ ہی نہیں ملتی۔”

سحر نے کتاب بند کر دی۔

“میں سکول بدل بدل کر یہاں پہنچی ہوں۔ ہر جگہ سب کے اپنے گروپ پہلے سے بنے ہوتے ہیں۔ نئے آدمی کے لیے جگہ کم رہ جاتی ہے۔”

دونوں میری طرف دیکھنے لگے۔

میں نے کندھے اچکا دیے۔

“مجھے بات شروع کرنا نہیں آتی۔”

بس اتنا ہی۔

تین جملے۔

تین زندگیاں۔

اور عجیب بات یہ تھی کہ پہلی بار مجھے کسی گفتگو میں خاموش رہنے کی ضرورت نہیں پڑی۔

اگلے چند ہفتوں میں وہ خالی کرسی ہمیشہ ہمارے ساتھ رہنے لگی۔

لائبریری میں۔

کینٹین میں۔

لان میں۔

ہم تین بیٹھتے۔

چوتھی کرسی خالی رہتی۔

شروع میں عجیب لگتا تھا۔

پھر وہ خالی جگہ ہماری گفتگو کا حصہ بن گئی۔

نعمان مذاق کرتا،

“یہ ہمارے مستقبل کے کسی دوست کے لیے ہے۔”

سحر ہنس دیتی۔

میں بھی۔

کبھی کبھی انسان امید پر نہیں، مذاق پر زندہ رہتا ہے۔

پروجیکٹ پریزنٹیشن کا دن آیا۔

ہماری باری سب سے آخر میں تھی۔

پہلے تمام گروپ آئے۔

چار چار بچے۔

ایک بولتا، باقی سر ہلاتے۔

کسی نے انٹرنیٹ سے نقل کیا۔

کسی نے خوبصورت سلائیڈز دکھائیں۔

کلاس تالیاں بجاتی رہی۔

آخر میں ہم تینوں کھڑے ہوئے۔

ہم نے سماجی تعلقات پر تحقیق کم، اپنی دیکھی ہوئی دنیا زیادہ بیان کی۔

نعمان نے کہا،

“اکیلا بچہ لازماً مغرور نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی وہ صرف دیر سے کھلنے والا دروازہ ہوتا ہے۔”

سحر نے کہا،

“ہر خاموش انسان کو بولنے کا شوق ہوتا ہے، بس ہر محفل اس کی زبان نہیں سمجھتی۔”

پھر میری باری آئی۔

میں نے کلاس کی طرف دیکھا۔

اور نہ جانے کیوں میری نظر پھر اسی خالی کرسی پر جا رکی جو دیوار کے ساتھ رکھی تھی۔

میں نے کہا،

“ہم نے اس پورے پروجیکٹ میں ایک کرسی جان بوجھ کر خالی رکھی۔ شروع میں ہمیں لگا تھا شاید کوئی آ جائے گا۔ پھر سمجھ آیا… بعض کرسیوں پر کوئی نہیں بیٹھتا، مگر وہ پھر بھی ضروری ہوتی ہیں۔ کیونکہ وہ ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ کسی محفل میں جگہ ہونا اور کسی دل میں جگہ ہونا، دو الگ باتیں ہیں۔”

کلاس میں اس بار واقعی خاموشی تھی۔

ایسی خاموشی جس میں کسی کی ہنسی نہیں چھپی تھی۔

پریزنٹیشن ختم ہوئی تو میڈم نے ہمیں روک لیا۔

کافی دیر تک وہ ہماری فائل الٹتی پلٹتی رہیں۔

پھر آہستہ سے بولیں،

“اس دن… شاید مجھے وہ بات نہیں کہنی چاہیے تھی۔”

میں نے پہلی بار ان کی آنکھوں میں دیکھا۔

وہ معافی مانگ رہی تھیں۔

مگر کچھ جملے معافی سے پہلے ہی اپنا گھر بنا لیتے ہیں۔

میں نے صرف اتنا کہا،

“کوئی بات نہیں، میڈم۔”

اور واقعی… شاید کوئی بات نہیں تھی۔

یا شاید بہت بڑی بات تھی۔

سمسٹر ختم ہونے کے دن سب ایک دوسرے کی شرٹس پر دستخط کر رہے تھے۔

میری شرٹ تقریباً خالی تھی۔

نعمان آیا۔

اس نے صرف دو لفظ لکھے۔

“چوتھی کرسی۔”

سحر نے انہی لفظوں کے نیچے ایک چھوٹا سا دائرہ بنا دیا۔

میں نے کچھ نہ پوچھا۔

برسوں بعد بھی جب وہ شرٹ الماری کے نچلے خانے سے نکلتی ہے، سیاہی مدھم ہو چکی ہوتی ہے۔

مگر مجھے آج بھی وہ خالی کرسی صاف دکھائی دیتی ہے۔

تب سمجھ آیا…

زندگی میں سب سے مشکل کام کسی گروپ میں شامل ہونا نہیں ہوتا۔

سب سے مشکل کام کسی اور کے لیے چوتھی کرسی خالی چھوڑ دینا ہوتا ہے۔

نوٹ: یہ ایک افسانوی اور ادبی کہانی ہے۔ اس کے کردار اور واقعات تخلیقی انداز میں پیش کیے گئے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top