50 Saal Ki Shadi Ka Mazahiya Qissa
“شبانہ… ایک بات کہوں؟ برا تو نہیں مانو گی؟”
وقت نے دونوں کے بالوں کو چاندی بنا دیا تھا، مگر ان کے درمیان محبت، شرارت اور نوک جھونک آج بھی ویسی ہی تھی جیسے نئی نئی شادی کے دنوں میں تھی۔
پچاس سال بعد بھی وہی شرارت
ایک شام چائے پیتے ہوئے حاجی فاروق نے اپنی اہلیہ شبانہ کو غور سے دیکھا۔
انہوں نے عینک اتاری، گلا صاف کیا اور نہایت سنجیدگی سے کہا۔
“شبانہ… ایک بات کہوں؟ برا تو نہیں مانو گی؟”
شبانہ مسکرا کر بولیں۔
“پچاس سال برداشت کر لیا ہے، اب بھی سن لوں گی۔ بولیے!”
حاجی فاروق نے لمبی سانس لی۔
“دیکھو… پچاس سال پہلے نہ ہمارا اپنا گھر تھا، نہ گاڑی۔”
“ایک چھوٹا سا کرائے کا مکان تھا، پرانی موٹر سائیکل تھی، لوہے کا پلنگ تھا، اور دس انچ کا سیاہ سفید ٹی وی تھا۔”
شبانہ خاموشی سے سنتی رہیں۔
پھر انہوں نے ایسی بات کہہ دی…
حاجی فاروق نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
“لیکن ایک چیز تھی…”
“ہر رات میرے ساتھ تئیس سال کی ایک خوبصورت اور جوان لڑکی سویا کرتی تھی۔”
شبانہ نے ہونٹ دبا لیے تاکہ ہنسی نہ نکل جائے۔
حاجی فاروق نے بات جاری رکھی۔
“اور آج دیکھو…”
- پانچ کروڑ کا گھر ہے۔
- مہنگی گاڑی ہے۔
- بادشاہوں جیسا بیڈروم ہے۔
- ستر انچ کا اسمارٹ ٹی وی ہے۔
پھر وہ ذرا رکے اور بولے۔
“لیکن اب میرے ساتھ انہتر سال کی ایک بڑھیا سوتی ہے۔”
“مجھے لگتا ہے… تم اپنی طرف کی ذمہ داری ٹھیک سے نہیں نبھا رہیں!”
بیوی کا ایسا جواب کہ شوہر خاموش ہو گیا
کمرے میں چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔
شبانہ نے آہستگی سے چائے کا کپ میز پر رکھا۔
عینک سیدھی کی۔
پھر مکمل سنجیدگی سے بولیں۔
“بات تو آپ کی بالکل درست ہے۔”
حاجی فاروق چونک گئے۔
انہیں لگا شاید آج قسمت ان پر مہربان ہو گئی ہے۔
شبانہ مسکرا کر بولیں۔
“آپ ایک کام کریں…”
“جی؟”
“جائیں… کہیں سے ایک تئیس سال کی خوبصورت لڑکی ڈھونڈ لائیں۔”
حاجی فاروق کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔
“سچ؟”
“بالکل سچ!”
ایسا جواب جو زندگی بھر یاد رہے
شبانہ ذرا قریب آئیں اور مسکراتے ہوئے بولیں۔
“اور باقی فکر مجھ پر چھوڑ دیں۔”
“میں یہ بھی یقینی بنا دوں گی کہ آپ پھر سے ایک چھوٹے سے کرائے کے مکان میں رہ رہے ہوں…”
“پرانی موٹر سائیکل چلا رہے ہوں…”
“لوہے کے پلنگ پر سو رہے ہوں…”
“اور دس انچ کا سیاہ سفید ٹی وی دیکھ رہے ہوں!”
یہ سنتے ہی حاجی فاروق کے چہرے کی ساری رومانویت غائب ہو گئی۔
چند لمحے خاموش بیٹھے رہے۔
پھر آہستہ سے بولے۔
“شبانہ… چائے ذرا اور مل سکتی ہے؟”
قہقہوں سے بھرپور لمحہ
شبانہ زور سے ہنس پڑیں۔
“ضرور…”
“لیکن اب احتیاط سے پیا کیجیے… اس عمر میں خواب بھی شوگر بڑھا دیتے ہیں!”
دونوں اتنا ہنسے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔
اسی دوران ان کی پوتی کمرے میں آئی اور حیرت سے پوچھنے لگی۔
“دادا ابو! دادی اماں! آپ دونوں اتنا کیوں ہنس رہے ہیں؟”
حاجی فاروق نے مسکراتے ہوئے شبانہ کا ہاتھ تھاما اور کہا۔
“بیٹا… اصل دولت بڑا گھر یا مہنگی گاڑی نہیں ہوتی۔”
“اصل دولت وہ انسان ہوتا ہے جو پچاس سال بعد بھی تمہاری ہر فضول بات کا ایسا جواب دے کہ تمہیں اپنی عقل پر شک ہونے لگے۔”
شبانہ نے شرارت سے کہا۔
“اور یاد رکھنا… عورت عمر کے ساتھ بوڑھی نہیں ہوتی، صرف اپنے شوہر کے بہانے سننے میں ماہر ہو جاتی ہے۔”
سبق
زندگی کی خوبصورتی دولت، بڑے گھروں یا مہنگی گاڑیوں میں نہیں ہوتی۔
اصل خوشی اس رشتے میں ہوتی ہے جہاں پچاس سال بعد بھی محبت، عزت، ہنسی اور شرارت باقی رہے
