تعارف: بعض اوقات انسان اپنے سب سے قیمتی رشتے کی قدر اُس وقت کرتا ہے جب وہ ہمیشہ کے لیے اس کی زندگی سے چلا جاتا ہے۔ یہ کہانی اسی احساس کی عکاسی کرتی ہے۔
کہانی
“سچ کہوں بلال؟ تم سے شادی میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی۔”
آج سمجھ آتی ہے کہ غلط میری آنکھیں تھی 🥹💔
میرا نام عائشہ ہے۔
عمر چوالیس سال۔
میرے شوہر کا نام بلال تھا۔
اور یہ کہانی بلال کے مرنے کی نہیں، میرے دیر سے جاگنے کی ہے۔
ہماری شادی محبت کی نہیں تھی۔
مگر نفرت کی بھی نہیں تھی۔
ایک عام سا رشتہ تھا، جیسا ہمارے گھروں میں ہوتا ہے۔
لڑکے والوں نے دیکھا، لڑکی والوں نے پوچھا، بڑوں نے استخارہ کیا، اور میں ایک دن بلال کے گھر آ گئی۔
شروع میں ہمارے پاس کچھ بھی خاص نہیں تھا۔
ایک دو کمروں کا کرائے کا مکان۔
لوہے کی پرانی الماری۔
چھوٹا سا چولہا۔
ایک پنکھا جو گرمیوں میں ہوا کم، آواز زیادہ دیتا تھا۔
اور بلال کی وہ موٹر سائیکل جسے وہ ہر جمعہ خود دھوتا تھا، جیسے کوئی آدمی اپنی اکلوتی عزت چمکا رہا ہو۔
بلال ایک سیلز مین تھا۔
صبح نو بجے نکلتا، رات کبھی نو بجے لوٹتا، کبھی گیارہ بجے۔
جوتوں پر دھول، ماتھے پر پسینہ، اور ہاتھ میں کبھی بچوں کیلئے ٹافیاں، کبھی میرے لیے سموسے۔
میں اکثر ناراض ہوتی:
“اتنی دیر کیوں لگا دی؟”
وہ جوتے اتارتے ہوئے کہتا:
“آج دکانیں زیادہ تھیں۔ مگر دیکھو، تمہارے لیے دہی بھلے لایا ہوں۔”
یہ اُس کا انداز تھا۔
وہ محبت بڑے جملوں میں نہیں کرتا تھا۔
چیزوں میں کرتا تھا۔
میرے سر میں درد ہو تو چائے بنا دیتا۔
بچے بیمار ہوں تو رات بھر جاگتا۔
مہینے کے آخر میں پیسے کم پڑ جائیں تو اپنا سگریٹ چھوڑ دیتا، مگر بچوں کی کاپی نہیں رکنے دیتا۔
میں اُس وقت یہ سب محبت نہیں سمجھتی تھی۔
مجھے لگتا تھا یہ تو شوہر کا فرض ہے۔
اور فرض کا شکریہ تھوڑی ادا کیا جاتا ہے۔
سال گزرتے گئے۔
بلال نے محنت کی۔
سیلز مین سے ایریا منیجر بنا۔
پھر ایک بڑی کمپنی میں اچھی تنخواہ پر لگ گیا۔
ہم کرائے کے مکان سے ایک بہتر فلیٹ میں آ گئے۔
موٹر سائیکل کی جگہ چھوٹی گاڑی آ گئی۔
بچوں کا سکول بدل گیا۔
میرے پاس کپڑے بہتر ہو گئے، کچن میں نیا فریج آ گیا، اور گھر میں پہلی بار AC لگا۔
مجھے خوش ہونا چاہیے تھا۔
کچھ دن ہوئی بھی۔
پھر میں نے دیکھنا شروع کیا کہ دوسروں کے پاس کیا ہے۔
اور انسان جب دوسروں کی چیزیں گننا شروع کر دے تو اپنی نعمتیں خود بخود چھوٹی لگنے لگتی ہیں۔
ہمارے نئے فلیٹ کی بالکنی سے سامنے والے بلاک میں نائلہ رہتی تھی۔
اس کا شوہر پراپرٹی کا کام کرتا تھا۔
ہر مہینے نائلہ کے پاس کوئی نئی چیز آ جاتی۔
کبھی سونے کا سیٹ۔
کبھی نیا فون۔
کبھی مری کی تصویریں۔
کبھی دبئی کے شاپنگ مال کی ویڈیو۔
ایک دن اُس نے میری کلائی دیکھ کر کہا:
“عائشہ، تم ابھی تک یہ پتلی سی چوڑی پہنتی ہو؟ بلال بھائی نے کچھ دلایا نہیں؟”
میں نے ہنس کر بات ٹال دی۔
مگر رات کو وہ جملہ میرے ساتھ بستر تک آ گیا۔
کچھ دن بعد صائمہ نے کہا:
“تمہارے میاں اتنی اچھی پوسٹ پر ہیں، پھر بھی تم لوگ اس چھوٹے سے فلیٹ میں؟ ہماری تو بکنگ DHA میں ہو گئی ہے۔”
پھر کسی نے گاڑی کا ذکر کیا۔
کسی نے چھٹیوں کا۔
کسی نے بچوں کے سکول کا۔
کسی نے زیور کا۔
اور آہستہ آہستہ مجھے بلال کی ہر کوشش ادھوری لگنے لگی۔
وہ گھر آتا تو میں اس کے ہاتھ میں لایا ہوا پھل نہیں دیکھتی تھی۔
میں یہ سوچتی تھی کہ نائلہ کا شوہر اسے رات کے کھانے پر باہر لے گیا تھا۔
وہ بچوں کی فیس بھر کر سکون سے بیٹھتا تو میں کہتی:
“فیس بھر دینا کوئی کمال نہیں، لوگ بچوں کیلئے پورا مستقبل بناتے ہیں۔”
وہ میری دوائیں لے آتا تو میں پوچھتی:
“اپنے لیے تو branded watch لے آئے، میرے لیے کیا سوچا؟”
حالانکہ وہ watch کمپنی نے annual dinner پر دی تھی۔
مگر جس دل میں شکایت بیٹھ جائے، وہاں وضاحتیں بھی بہانے لگتی ہیں۔
بلال پہلے سمجھاتا تھا۔
پھر خاموش ہونے لگا۔
میں ناراض ہوتی:
“تمہیں میری خواہشات کی پرواہ ہی نہیں۔”
وہ کہتا:
“پرواہ ہے عائشہ، مگر ایک ایک چیز وقت سے ہوتی ہے۔ قرض لے کر دکھاوا نہیں کر سکتا۔”
میں کہتی:
“تم ہمیشہ وقت کا بہانہ بناتے ہو۔”
وہ تھک کر چپ ہو جاتا۔
مجھے اُس کی خاموشی اپنی جیت لگتی تھی۔
بعد میں سمجھ آیا، وہ جیت نہیں تھی۔
وہ ایک آدمی کا اپنے اندر واپس چلا جانا تھا۔
بلال کا ایک چھوٹا سا رجسٹر تھا۔
نیلے کور والا۔
وہ ہر مہینے بیٹھ کر اس میں خرچے لکھتا تھا۔
بچوں کی فیس۔
راشن۔
امی ابو کی دوائیں۔
بجلی۔
گیس۔
قسط۔
اور آخر میں ایک چھوٹی سی لائن:
“عائشہ کیلئے”
کبھی پانچ ہزار۔
کبھی دس ہزار۔
کبھی کچھ نہیں۔
جس مہینے کچھ نہیں ہوتا، وہ لائن خالی چھوڑ دیتا۔
میں نے ایک دن وہ رجسٹر دیکھا اور غصے سے کہا:
“تم مجھے بھی خرچوں کی چیز سمجھتے ہو؟”
وہ بہت دیر تک رجسٹر کو دیکھتا رہا۔
پھر بولا:
“نہیں۔ تمہارے لیے بچانے کی کوشش کرتا ہوں۔”
میں نے طنز سے کہا:
“بچانے کی کوشش؟ لوگوں کے شوہر surprise دیتے ہیں، تم کوشش دیتے ہو۔”
وہ اُس دن بھی چپ رہا۔
اس کی خاموشی اب مجھے تنگ کرنے لگی تھی۔
میں چاہتی تھی وہ جھگڑے۔
بولے۔
کہے کہ میں غلط ہوں۔
مگر وہ بس خاموش ہو جاتا۔
اور خاموش مرد عورت کو کبھی کبھی ظالم لگتا ہے، حالانکہ بہت دفعہ وہ صرف تھکا ہوا ہوتا ہے۔
پھر وہ رات آئی۔
جمعہ تھا۔
بلال بہت دیر سے گھر آیا۔
بارش ہو رہی تھی۔
اس کی قمیض کندھوں سے بھیگی ہوئی تھی۔
ہاتھ میں ایک چھوٹا سا ڈبہ تھا۔
میں پہلے ہی دن بھر نائلہ کی باتوں سے بھری بیٹھی تھی۔
اس نے آتے ہی کہا:
“عائشہ، آج راستے میں تمہارے لیے کچھ لیا ہے۔ مہنگا نہیں ہے، مگر مجھے لگا تمہیں پسند آئے گا۔”
میں نے ڈبہ کھولا۔
اندر چاندی کی چھوٹی سی انگوٹھی تھی۔
سادہ۔
بہت سادہ۔
مجھے وہ پسند آ سکتی تھی، اگر میں اُس وقت اپنے دل میں دوسروں کی الماریاں نہ اٹھائے بیٹھی ہوتی۔
میں ہنس پڑی۔
وہ ہنسی جو انسان کو کاٹ دیتی ہے۔
“یہ لائے ہو؟”
بلال نے میرے چہرے کو دیکھا۔
“ہاں، اچھی نہیں لگی؟”
میں نے ڈبہ میز پر رکھ دیا۔
“بلال، تم کبھی نہیں بدل سکتے۔”
وہ خاموش ہو گیا۔
میں بولتی گئی۔
“لوگ کہاں سے کہاں پہنچ گئے، اور تم ابھی بھی ایسی چیزوں سے دل خوش کرنے آئے ہو؟ تمہیں معلوم بھی ہے نائلہ کو اس کے شوہر نے anniversary پر کیا دیا؟”
بلال نے آہستہ سے کہا:
“ہم نائلہ اور اس کے شوہر نہیں ہیں، عائشہ۔”
“ہاں، یہی تو افسوس ہے۔”
یہ جملہ اس کے چہرے پر لگا۔
مگر میں رکی نہیں۔
غصہ جب زبان پر آ جائے تو عورت کو لگتا ہے وہ اپنا حق بول رہی ہے، حالانکہ کبھی کبھی وہ اپنی ہی چھت میں آگ لگا رہی ہوتی ہے۔
میں نے کہا:
“سچ کہوں بلال؟ تم سے شادی میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی۔”
کمرے میں جیسے کچھ رک گیا۔
بارش کی آواز بھی دور چلی گئی۔
بلال نے میری طرف دیکھا۔
بہت خاموشی سے۔
اس کی آنکھوں میں غصہ نہیں تھا۔
شکست تھی۔
ایسی شکست جو آدمی دشمن سے نہیں، اپنے گھر سے کھاتا ہے۔
اس نے صرف اتنا کہا:
“اچھا۔”
پھر انگوٹھی کا ڈبہ اٹھایا، جیب میں رکھا، اور کمرے سے نکل گیا۔
میں نے سوچا وہ چھت پر گیا ہو گا۔
یا گاڑی میں بیٹھا ہو گا۔
یا ناراض ہے، کچھ دیر بعد آ جائے گا۔
وہ واپس نہیں آیا۔
رات کے دو بجے فون آیا۔
بلال کو دفتر جاتے ہوئے نہیں، واپس آتے ہوئے نہیں، کسی حادثے میں نہیں، بلکہ اپنی گاڑی میں بیٹھے دل کا شدید دورہ پڑا تھا۔
وہ سڑک کنارے گاڑی روک چکا تھا۔
شاید مدد کے لیے فون اٹھایا ہو گا۔
شاید نہیں اٹھا سکا۔
لوگوں نے شیشہ توڑ کر نکالا۔
ہسپتال لے گئے۔
مگر بلال راستے میں ہی چلا گیا۔
لوگوں نے کہا:
“اچانک موت تھی۔”
ڈاکٹر نے کہا:
“دل بہت کمزور ہو چکا تھا، شاید stress زیادہ تھا۔”
میں نے کچھ نہیں کہا۔
میں جانتی تھی دل اچانک کمزور نہیں ہوتا۔
اسے روز تھوڑا تھوڑا توڑا جاتا ہے۔
جنازے کے دن بہت لوگ آئے۔
دفتر والے، رشتہ دار، محلے دار۔
ہر کوئی کہہ رہا تھا:
“بلال بہت شریف آدمی تھا۔”
“کبھی کسی کو جواب نہیں دیا۔”
“بچوں کیلئے بہت سوچتا تھا۔”
“آخری دن بھی overtime کر رہا تھا۔”
میری ساس نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا:
“بیٹا، بلال تم سے بہت محبت کرتا تھا۔ بس دکھاتا کم تھا۔”
میں پھوٹ کر رونا چاہتی تھی۔
مگر میرے اندر کہیں ایک آواز کہہ رہی تھی:
“تمہیں تو دکھائی ہی نہیں دیتا تھا۔”
بلال کے جانے کے بعد گھر بدلنے لگا۔
تنخواہ بند ہو گئی۔
کمپنی نے کچھ مدد کی، مگر زندگی مدد سے نہیں چلتی۔
بچوں کی فیس کم کرنی پڑی۔
گاڑی بیچنی پڑی۔
AC کم چلنے لگا۔
نائلہ دو ہفتے تک آئی۔
پھر کم۔
پھر کبھی کبھار۔
صائمہ نے ایک دن فون پر کہا:
“عائشہ، تم strong رہو۔ ویسے اگر گھر چھوٹا کر لو تو بہتر ہے۔ خرچے کم ہو جائیں گے۔”
وہی لوگ جن کے گھروں کو دیکھ کر میں اپنے گھر کو حقیر سمجھتی رہی، میرے غم کے بعد اپنے دروازے آہستہ آہستہ بند کرتے گئے۔
ایک دن سامان سمیٹتے ہوئے مجھے بلال کا نیلا رجسٹر ملا۔
میں نے کھولا۔
آخری مہینے کے خرچوں کے نیچے وہی لائن لکھی تھی:
“عائشہ کیلئے”
آگے پندرہ ہزار لکھے تھے۔
اور ساتھ چھوٹے سے حروف میں:
“انگوٹھی نہیں، اگلے مہینے سونے کی چھوٹی بالیاں۔ اسے چاندی پسند نہیں آئے گی۔”
میری سانس رک گئی۔
اسی صفحے کے نیچے ایک اور لائن تھی:
“بچوں کی فیس پہلے۔ خواہش بعد میں۔ عائشہ ناراض ہو گی، مگر سمجھ جائے گی۔”
میں زمین پر بیٹھ گئی۔
رجسٹر گود میں کھلا تھا۔
اور میرے سامنے بلال کی پوری زندگی حساب کی صورت میں پڑی تھی۔
وہ کنجوس نہیں تھا۔
وہ ڈرپوک نہیں تھا۔
وہ ناکام نہیں تھا۔
وہ بس ایک ایسا آدمی تھا جو گھر کو سنبھالنے کیلئے اپنی خواہشات کو ہر مہینے آخر میں لکھتا تھا۔
اور میں ہر مہینے اس آخری لائن پر اعتراض کرتی رہی۔
کچھ ماہ بعد ہمیں وہ فلیٹ چھوڑنا پڑا۔
میں بچوں کے ساتھ ایک چھوٹے سے کرائے کے مکان میں آ گئی۔
پہلے دن جب میں نے چولہا جلایا تو دھواں آنکھوں میں چلا گیا۔
بیٹی نے پوچھا:
“امی، ابو ہوتے تو کیا کرتے؟”
میرے ہاتھ رک گئے۔
میں نے کہا:
“کھڑکی کھول دیتے۔”
بیٹے نے کہا:
“اور کہتے، عائشہ پیچھے ہٹ جاؤ، میں دیکھتا ہوں۔”
ہم تینوں چپ ہو گئے۔
اُس چھوٹے سے گھر میں پہلی بار مجھے اپنا پرانا کرائے کا مکان یاد آیا۔
وہی جہاں فہد نہیں، بلال موٹر سائیکل دھوتا تھا۔
وہی جہاں میں خوش تھی، مگر مجھے خبر نہیں تھی۔
اب میں عورتوں کی محفلوں میں کم بیٹھتی ہوں۔
اگر کوئی اپنی زندگی کا موازنہ کسی دوسری عورت سے شروع کرے تو میں خاموش نہیں رہتی۔
میں کہتی ہوں:
“دوسروں کی روشنی دیکھ کر اپنے گھر کا چراغ مت بجھاؤ۔ ہر چمک سونا نہیں ہوتی، اور ہر سادہ آدمی ناکام نہیں ہوتا۔”
بعض عورتیں میری بات سن کر مسکرا دیتی ہیں۔
کچھ سمجھتی ہیں، کچھ نہیں۔
میں بھی کہاں سمجھتی تھی۔
مجھے بھی سمجھانے کیلئے بلال کا جانا ضروری ہو گیا تھا۔
اور یہی میری زندگی کا سب سے بڑا دکھ ہے۔
آج بلال کو گئے چھ سال ہو چکے ہیں۔
وہ چاندی کی انگوٹھی مجھے کبھی نہیں ملی۔
شاید ہسپتال میں کہیں کھو گئی۔
شاید گاڑی میں رہ گئی۔
شاید کسی نے سامان کے ساتھ رکھ دی ہو اور مجھے یاد نہ رہا۔
مگر اُس کی جگہ میرے دل میں ایک جملہ رہ گیا ہے۔
وہی جملہ جو میں نے کہا تھا:
“تم سے شادی میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی۔”
آج اگر بلال ایک لمحے کو واپس آ جائے تو میں اسے صرف اتنا کہوں:
“نہیں بلال، غلطی تم نہیں تھے۔”
“غلطی میری آنکھیں تھیں، جو تمہیں دیکھتے ہوئے بھی دوسروں کو دیکھتی رہیں۔”
زندگی میں ہر نقصان پیسے کا نہیں ہوتا۔
کبھی انسان اپنا سب سے مخلص ساتھی صرف اس لیے کھو دیتا ہے کہ اسے کسی دوسرے کے گھر کا پردہ، کسی دوسرے کی گاڑی، کسی دوسرے کی تصویر زیادہ خوبصورت لگنے لگتی ہے۔
اور جب تک اسے سمجھ آتی ہے کہ اپنا آدمی ہی اصل دولت تھا…
وہ آدمی قبر کی مٹی اوڑھ چکا ہوتا ہے۔ ❤️
سبق
رشتوں کا موازنہ دوسروں کی زندگی سے کرنے کے بجائے ان کی قدر کیجیے۔ بعض اوقات خاموش محبت سب سے بڑی محبت ہوتی ہے۔
اگر یہ کہانی پسند آئی
❤️ اس کہانی کو اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔
💬 کمنٹس میں اپنی رائے ضرور دیں۔
