زرد پرچی | Zard Parchi

زرد پرچی | Zard Parchi
“ننھے…”

آواز اتنی دھیمی تھی کہ جیسے کسی پرانے صندوق کا ڈھکن آہستہ سے کھلا ہو۔

باسٹھ سالہ نعیم نے اخبار سے نظریں اٹھائیں۔

“جی امی؟”

“میں نے سوچا ہے، اس جمعرات لڑکیوں کو بلا لیتے ہیں۔ ذرا بیٹھک ہو جائے۔”

نعیم مسکرایا۔ وہ مسکراہٹ خوشی کی کم، احتیاط کی زیادہ تھی۔

“ضرور امی۔ سب انتظام میں کر دیتا ہوں۔”

بوڑھی عورت نے ماتھے پر شکن ڈال کر پوچھا،

“کون سا انتظام؟”

“ارے… آپ کی دعوت کا۔”

وہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی، پھر اچانک دونوں ہاتھ پیشانی پر رکھ لیے۔

“ہائے اللہ… میں تو بھول ہی گئی تھی کہ میں نے کسی کو بلایا ہے۔”

یہ کہتے ہوئے وہ خود ہی ہنس پڑی۔

اور نعیم نے پہلی بار محسوس کیا کہ ہنسی بھی کبھی کبھی رونے کی دوسری زبان ہوتی ہے۔

سکینہ بی بی چھیاسی برس کی تھیں۔

گھر بھی ان جیسا ہو گیا تھا۔

الماریوں کے قبضے آہستہ بند ہوتے، صحن میں نیم کا درخت کم بولتا، اور باورچی خانے میں ہر برتن کسی پرانی گفتگو کی بازگشت سنبھالے بیٹھا رہتا۔

چند ماہ پہلے ڈاکٹر نے نعیم کو الگ لے جا کر کہا تھا،

“باتیں مت چھینیں ان سے۔ بس سہارا دیجیے۔ یادداشت کو حکم نہیں دیا جا سکتا۔”

اسی شام نعیم نے ایک زرد پرچی پر بڑے بڑے حروف میں لکھا۔

۱۔ چائے پیش کرنی ہے۔

۲۔ سینڈوچ رکھنے ہیں۔

۳۔ شربت دینا ہے۔

۴۔ مٹھائی رکھنی ہے۔

پرچی فریج پر چپکا دی۔

سکینہ بی بی نے عینک سیدھی کی، الفاظ کو انگلی سے چھوا، پھر ایسے مطمئن ہوئیں جیسے امتحان کے سوال پہلے ہی مل گئے ہوں۔

“اب کچھ نہیں بھولوں گی۔”

جمعرات کو گھنٹی بجی۔

ایک ایک کر کے عورتیں اندر آئیں۔

کسی کی کمر جھکی ہوئی تھی۔

کوئی واکر کے سہارے چل رہی تھی۔

کسی کے ہاتھ کی رگیں نیلی شاخوں کی طرح ابھر آئی تھیں۔

سب ایک دوسرے کو بیٹیاں کہہ کر بلاتی تھیں، حالانکہ سب کی عمریں اسی کے آس پاس تھیں۔

ڈرائنگ روم میں بیٹھتے ہی گفتگو شروع ہوئی۔

پرانے سکول۔

مہنگائی۔

شوہروں کی بیماریاں۔

مرحوم بچوں کی تصویریں۔

اور درمیان درمیان میں وہ خاموشیاں جنہیں صرف بوڑھے لوگ سمجھتے ہیں۔

سکینہ بی بی اچانک چونکیں۔

“ارے…”

وہ جلدی سے باورچی خانے گئیں۔

زرد پرچی پڑھی۔

۱۔ چائے پیش کرنی ہے۔

چائے کی ٹرے اٹھائی۔

بڑی محبت سے سب کے سامنے رکھ دی۔

“لو بہن، گرم ہے۔”

پندرہ منٹ بعد انہیں پھر بےچینی ہوئی۔

وہ دوبارہ باورچی خانے پہنچیں۔

پرچی وہیں تھی۔

۱۔ چائے پیش کرنی ہے۔

انہوں نے پھر چائے بنائی۔

کپ بدل دیے۔

دوبارہ پیش کر دی۔

یہ چار مرتبہ ہوا۔

ہر بار ان کے چہرے پر وہی ذمہ داری، وہی خلوص، وہی اطمینان۔

اور ہر بار زرد پرچی کے نیچے لکھے باقی تین جملے ان کی نگاہ تک پہنچنے سے پہلے کہیں کھو جاتے۔

سینڈوچ ڈھکے رہے۔

شربت کی بوتل پر پانی کے قطرے سوکھ گئے۔

مٹھائی کی پلیٹ اپنی مٹھاس سمیت خاموش پڑی رہی۔

شام ڈھلنے لگی۔

مہمان ایک ایک کر کے اٹھنے لگیں۔

دروازے کے باہر برآمدے میں ایک نے دوسری سے آہستہ کہا،

“زبیدہ، سکینہ کو کیا ہو گیا ہے؟”

“کیوں؟”

“چار بار چائے بنائی… ایک دفعہ بھی نہیں پلائی۔”

زبیدہ نے رک کر اس کا چہرہ دیکھا۔

کافی دیر تک دیکھتی رہی۔

پھر آہستہ بولی،

“سکینہ؟”

اس نے آنکھیں سکیڑیں۔

“کون سکینہ؟”

دونوں چند لمحے ایک دوسرے کو دیکھتی رہیں۔

پھر بےاختیار ہنس دیں۔

وہ ہنسی خالی برآمدے میں دیر تک گونجتی رہی۔

اور نہ جانے کیوں، اس ہنسی میں کسی قبرستان جیسی ٹھنڈک تھی۔

رات کو نعیم آیا۔

باورچی خانے میں سب کچھ ویسا ہی رکھا تھا۔

سینڈوچ سوکھ چکے تھے۔

شربت گرم ہو چکا تھا۔

مٹھائی پر چینی کی تہہ نمی کھا کر پھیکا رنگ اختیار کر گئی تھی۔

صرف چائے کی کیتلی کئی بار دھلنے کے بعد بھی ہلکی سی بھوری خوشبو چھوڑ رہی تھی۔

“امی… یہ سب کیوں نہیں رکھا؟”

سکینہ بی بی نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔

“کس کے لیے؟”

“آپ کی سہیلیاں آئی تھیں نا۔”

وہ چند لمحے خاموش رہیں۔

پھر جیسے اچانک انہیں کوئی ناانصافی یاد آ گئی۔

ہونٹ بھینچے۔

ناک پر عینک اوپر کی۔

اور خفگی سے بولیں،

“اللہ جانے کیسی عورتیں تھیں…”

ذرا رکی۔

پھر پوری سنجیدگی سے کہا،

“ایک بھی نہیں آئی۔ میں سارا دن ان کا انتظار کرتی رہی۔”

نعیم نے کچھ نہیں کہا۔

وہ فریج کے پاس گیا۔

زرد پرچی اب بھی وہیں لگی تھی۔

مگر نمی سے اس کی گوند ڈھیلی پڑ چکی تھی۔

اس نے ہاتھ بڑھایا تو پرچی خود ہی الگ ہو کر اس کی ہتھیلی میں آ گری۔

اتنی ہلکی…

جیسے آخر میں انسان کی پوری زندگی صرف ایک زرد پرچی رہ جاتی ہے، جس پر لکھے زیادہ تر لفظ وقت، آنکھیں اور یادداشت مل کر آہستہ آہستہ مٹا دیتے ہیں۔

نوٹ: یہ ایک افسانوی اور ادبی کہانی ہے۔ اس کے کردار اور واقعات تخلیقی انداز میں پیش کیے گئے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top