یادوں کا بوجھ-Sad Story

وہ ایک پرانا کمرہ تھا، جہاں بے شمار یادیں سموئی ہوئی تھیں۔ کمرے کی دیواروں پر ہر گوشہ میں ماضی کی جھلکیاں چھپی ہوئی تھیں، جیسے ہر چیز کچھ کہنا چاہتی ہو، لیکن چپ تھی۔ آمنہ آج بھی اُسی کمرے میں بیٹھی تھی جہاں اس کی زندگی کے سب سے خوبصورت لمحے گزارے گئے تھے، لیکن وہ لمحے اب گزر چکے تھے۔

آج اس کے شوہر، عابد کا چوتھا سالگرہ تھی، جب سے وہ دنیا سے رخصت ہوا تھا۔ آمنہ کی زندگی میں وہ لمحہ تھا جب اس نے اپنی محبت کو ہمیشہ کے لیے کھو دیا تھا۔ ان کی شادی کو پانچ سال ہوئے تھے، اور پانچ سالوں میں کوئی ایسا لمحہ نہیں تھا جب آمنہ نے عابد کے ساتھ محبت بھرے لمحات گزارے ہوں۔ لیکن اب وہ لمحے، وہ باتیں، اور وہ ہنسی ماضی بن چکی تھیں۔

آج اس نے عابد کا ایک خط کھولا، جو اس نے اپنی موت سے چند دن پہلے لکھا تھا۔ خط میں وہ لکھتا ہے:

“آمنہ، میری زندگی تمہارے بغیر مکمل نہیں ہے۔ جب تک تمہیں یہ نہ بتا سکوں، میں تمہاری آنکھوں میں وہ محبت دیکھنا چاہتا ہوں جسے میں ہمیشہ اپنے دل میں محسوس کرتا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ وقت کم ہے، لیکن میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ میری محبت ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی، چاہے میں تمہارے سامنے نہ ہوں۔”

آمنہ نے خط پڑھا، اور اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ وہ لمحہ اسے آج بھی یاد تھا جب عابد نے یہ سب کہا تھا، لیکن اس کے بعد کچھ ایسا ہوا کہ وہ لمحے ہمیشہ کے لیے چھن گئے۔

اب وہ خط اس کے ہاتھوں میں تھا، لیکن اس میں وہ محبت کی شدت نہ تھی جو کبھی حقیقت بن چکی تھی۔ اس کے اندر ایک غم تھا، جو نہ ختم ہونے والا تھا۔ آمنہ کو ہمیشہ یہ افسوس رہے گا کہ وہ عابد کو وہ باتیں نہ بتا سکی جو وہ دل سے چاہتی تھی، لیکن اب یہ سب صرف یادوں میں بدل گیا تھا۔

آمنہ نے خط واپس رکھ دیا اور اُٹھ کر کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔ باہر کی دنیا تیز رفتاری سے چل رہی تھی، لیکن آمنہ کی دنیا ٹھہر چکی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ عابد ہمیشہ اس کے دل میں رہے گا، لیکن وہ اب اسے کبھی نہیں پا سکے گی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top