“بی بی جی، انگریزی میری سمجھ سے باہر ہے۔ جو کہنا ہے، اردو میں کہیے۔”Neela Gamla
صبح کی اسمبلی ختم ہو چکی تھی، مگر اسکول کے برآمدے میں ابھی بھی بچوں کے جوتوں کی گرد تیر رہی تھی۔ اسی گرد کے بیچ ایک عورت اپنی بیٹی کی کلائی تھامے ایسے چل رہی تھی جیسے کسی عدالت میں گواہی دینے جا رہی ہو۔ نہ کسی سے نظریں چرا رہی تھی، نہ قدم ہلکے کر رہی تھی۔
“امی… خدا کے لیے کچھ مت کہیے گا۔” حریم نے سرگوشی کی۔ “پری بورڈ میں ویسے ہی فیل ہو گئی ہوں۔ میڈم ناراض ہیں۔ اگر آپ نے کچھ بول دیا تو پریکٹیکل میں بھی کاٹ دیں گی… اور…” وہ رکی، “آپ کو تو انگریزی بھی نہیں آتی۔”
عورت نے اس کی طرف دیکھے بغیر ہاتھ کی گرفت ذرا مضبوط کر دی۔
“بس، میرے ساتھ چل۔”
حریم کو لگا، اس کی کلائی نہیں، اس کی عزت پکڑی ہوئی ہے۔
پرنسپل کے دفتر میں ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ دیوار پر لگے بڑے فریم، شیشے کی میز، تازہ پھولوں کا گلدستہ، اور ایک کونے میں رکھا نیلا مٹی کا گملہ… جس میں ننھا سا پودا اپنی چند پتیاں سنبھالے کھڑا تھا۔
وہی نیلا گملہ بعد میں سب سے زیادہ بولنے والا تھا۔
“جی، آئیے۔ بیٹھیں۔”
حریم کی ماں نے آہستہ سے دوپٹہ درست کیا۔
“السلام علیکم… بی بی جی۔”
پرنسپل نے مسکراہٹ کی جگہ ہلکی سی شکن دی۔
“ہم نے آپ کو آپ کی بیٹی کی کارکردگی کی وجہ سے بلایا ہے۔ یہ فیل ہو گئی ہے۔”
عورت نے نہایت سکون سے کہا، “بی بی جی، انگریزی میری سمجھ سے باہر ہے۔ جو کہنا ہے، اردو میں کہیے۔”
حریم کی پلکیں جھک گئیں۔ اسے لگا، کمرے میں موجود ہر شخص اسی ایک جملے کو گھور رہا ہے۔
پرنسپل نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگا لی۔
“آپ لوگ گھر پر توجہ نہیں دیتے۔ پھر نتیجہ یہی نکلتا ہے۔ ہمارے اسکول کا رزلٹ خراب ہوتا ہے۔”
چند لمحے خاموشی رہی۔
عورت نے میز پر رکھے اسی نیلے گملے کو دیکھا، جیسے الفاظ وہیں سے چن رہی ہو۔
پھر بولی۔
“بی بی جی… میرا آدمی صبح اندھیرے میں رکشہ لے کر نکلتا ہے۔ میں لوگوں کے گھروں میں برتن مانجھتی ہوں۔ رات کو جب لوٹتے ہیں تو ہاتھوں میں اتنی جان نہیں ہوتی کہ روٹی بھی آرام سے توڑ سکیں۔”
اس نے اپنی ہتھیلیاں میز پر رکھ دیں۔
صابن اور گرم پانی نے ان پر باریک دراڑیں بنا رکھی تھیں۔
“یہ فیس ہم شوق سے نہیں دیتے۔ پیٹ کاٹ کر دیتے ہیں۔ اس لیے دیتے ہیں کہ ہماری بیٹی وہ کتابیں پڑھ لے جو ہم نہ پڑھ سکے۔”
پرنسپل خاموش رہی۔
“اگر میں اسے خود پڑھا سکتی…” عورت کی آواز میں پہلی بار نمی آئی، “…تو آج اس کرسی پر آپ بیٹھی ہوتیں یا میں؟”
کمرے کی فضا جیسے ذرا بھاری ہو گئی۔
کلاس ٹیچر نے ہلکے سے کھنکار کر کہا، “ایسے بچوں کے لیے ٹیوشن رکھ لینی چاہیے۔ آج کل سب رکھتے ہیں۔”
عورت نے پہلی بار سیدھا اس کی طرف دیکھا۔
“اگر ہر بچے کو الگ استاد ہی رکھنا ہے… تو پھر یہ اتنی بڑی عمارت کس لیے ہے؟”
خاموشی۔
صرف اے سی کی ہلکی آواز۔
اور کھڑکی سے آتی ہوا میں نیلے گملے کی ایک ننھی پتی کانپ رہی تھی۔
“میری بیٹی اگر فیل ہوئی ہے…” عورت نے دھیرے سے کہا، “تو اس میں اس کی محنت کم ہوگی، ہماری مجبوری بھی ہوگی… مگر آپ کی ذمہ داری بھی تو ہوگی۔”
اس نے الزام نہیں لگایا۔
صرف ایک آئینہ سامنے رکھ دیا۔
حریم نے ماں کا ہاتھ زور سے دبایا۔
اسے لگ رہا تھا، ابھی سب لوگ ہنس دیں گے۔
مگر کوئی نہیں ہنسا۔
کمرے کے دوسرے کونے میں ایک باپ اپنی بیوی پر برسنے کے لیے ہونٹ کھول چکا تھا، پھر بند کر لیے۔
ایک ماں، جو ابھی تک اپنے بیٹے کو گھور رہی تھی، اس کی نظریں آہستہ سے نرم پڑ گئیں۔
ایک اور بچہ کرسی کے کنارے سے اپنی ماں کے قریب سرک آیا۔
عورت پھر بولی۔
“میں ڈرتی نہیں کہ آپ میری بچی کو فیل کر دیں گی۔ ڈر تو مجھے اس دن لگا تھا جب اس نے پہلی بار کہا تھا، ‘امی، آپ میرے اسکول نہ آیا کریں۔'”
حریم کے اندر جیسے کوئی چیز ٹوٹ کر گری۔
یہ بات اس نے واقعی کہی تھی۔
اور اس دن ماں نے صرف مسکرا کر کہا تھا، “اچھا۔”
آج معلوم ہوا، وہ مسکراہٹ کتنی مہنگی تھی۔
کمرے میں بیٹھے کئی والدین نے پہلی بار سر اٹھایا۔
ایک آواز آئی۔
“بات تو ٹھیک ہے۔”
پھر دوسری۔
“ہم بھی فیس اسی لیے دیتے ہیں۔”
چند لمحوں میں جیسے دبے ہوئے لفظوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ لیا۔
“اگر بچوں کو پڑھانا ہماری ہی ذمہ داری ہے تو پھر اسکول کس بات کا؟”
“اضافی کلاسیں ہونی چاہئیں۔”
“ہمیں بھی یہی شکایت ہے۔”
پرنسپل نے ایک نظر پورے کمرے پر ڈالی۔
پھر میز پر رکھے اسی نیلے گملے کو۔
شاید پہلی بار اسے احساس ہوا کہ پودے صرف مہنگے گملوں سے نہیں اگتے، انہیں پانی بھی چاہیے۔
اس نے آہستہ سے فائل بند کی۔
“کل سے اضافی کلاسیں ہوں گی۔ روزانہ۔ بغیر کسی اضافی فیس کے۔”
کمرے کی ہوا بدل گئی۔
کسی نے تالیاں نہیں بجائیں۔
صرف لوگوں کی سانسیں پہلے سے ہلکی ہو گئیں۔
عورت نے سر جھکا کر کہا، “اللہ آپ کو آسانی دے۔”
بس اتنا ہی۔
نہ فتح کا اعلان، نہ شکایت کا بوجھ۔
واپسی میں حریم خاموش چلتی رہی۔
اسکول کے گیٹ کے قریب پہنچ کر اس نے پہلی بار اپنی ماں کا کھردرا ہاتھ دونوں ہاتھوں میں لے لیا۔
وہ ہاتھ، جسے وہ ہمیشہ چھپانا چاہتی تھی۔
آج اسے لگا، انہی دراڑوں میں اس کی پوری تعلیم لکھی ہوئی ہے۔
پیچھے دفتر کی کھڑکی سے وہی نیلا گملہ دکھائی دے رہا تھا۔
اس کی ایک نئی کونپل، شاید ابھی ابھی نکلنا شروع ہوئی تھی۔
نوٹ: یہ ایک افسانوی اور ادبی کہانی ہے۔ اس کے کردار اور واقعات تخلیقی انداز میں پیش کیے گئے ہیں۔






