دستک | Dastak
“اگر کبھی میں دروازہ نہ کھولوں… تو پہلے پولیس کو اطلاع دینا… پھر اس نمبر پر فون کر دینا۔”
صبح کی اذان ابھی فضا میں تحلیل ہی ہوئی تھی کہ گلی کے نکڑ سے سائیکل کی گھنٹی کی مانوس آواز ابھری۔ اخباروں کا پلندہ ہینڈل سے بندھا تھا، اور ان میں سے ایک اخبار پر سرخ روشنائی سے لکھا تھا:
“مکان نمبر 27”
اس گھر کا لیٹر بکس کئی دنوں سے بند تھا۔
حمزہ نے پہلے پہل سمجھا کہ شاید خراب ہو گیا ہے۔ مگر آج اس نے سائیکل دیوار کے ساتھ ٹکائی، گیٹ کی زنجیر ہلائی اور گھنٹی دبا دی۔
کافی دیر بعد اندر سے چپل گھسیٹنے کی مدھم آواز آئی۔
دروازہ ذرا سا کھلا۔
سامنے سفید شلوار قمیص میں ایک نحیف بزرگ کھڑے تھے۔ ہاتھ میں لکڑی کی پرانی چھڑی تھی، مگر ان کی انگلیاں چھڑی سے زیادہ دروازے کے کنارے کو تھامے ہوئے تھیں، جیسے توازن جسم کا نہیں، زندگی کا بگڑ چکا ہو۔
“بیٹا… اخبار؟”
حمزہ نے مسکراتے ہوئے اخبار آگے کیا، پھر بےاختیار پوچھ بیٹھا،
“انکل، آپ نے لیٹر بکس کیوں بند کر دیا؟ پہلے تو میں وہیں ڈال دیتا تھا۔”
بزرگ نے اخبار لیا، انگلیوں سے اس کے کنارے سیدھے کیے، جیسے کسی پرانی یاد کی شکنیں درست کر رہے ہوں۔
پھر دھیرے سے بولے،
“جان بوجھ کر بند کیا ہے۔”
حمزہ حیران رہ گیا۔
“کیوں؟”
بزرگ کے ہونٹوں پر ایک ایسی مسکراہٹ آئی جو آنکھوں تک پہنچنے سے پہلے ہی تھک گئی۔
“میں چاہتا ہوں، تم روز دروازہ کھٹکھٹاؤ… یا گھنٹی بجاؤ… پھر اخبار میرے ہاتھ میں دو۔”
حمزہ نے بےساختہ کہا،
“اس میں تو آپ کا بھی وقت لگے گا، میرا بھی۔”
“وقت ہی تو چاہیے، بیٹا۔”
یہ جملہ کہتے ہوئے انہوں نے جیب سے چند نوٹ نکالے۔
“ہر مہینے کچھ اضافی دے دیا کروں گا۔”
حمزہ نے ہاتھ پیچھے کر لیے۔
“ضرورت نہیں، انکل۔”
بزرگ نے پہلی بار اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
“یہ اخبار کی قیمت نہیں ہے… آواز کی قیمت ہے۔”
گلی سے دودھ والے کی موٹر سائیکل گزر گئی۔
چند لمحے دونوں خاموش رہے۔
پھر بزرگ نے آہستہ سے ایک پرچی نکالی، اس پر بیرونِ ملک کا نمبر لکھا تھا۔
“اگر کبھی میں دروازہ نہ کھولوں… تو پہلے پولیس کو اطلاع دینا… پھر اس نمبر پر فون کر دینا۔”
حمزہ کے چہرے پر الجھن پھیل گئی۔
“ایسی بات کیوں کر رہے ہیں؟”
بزرگ نے جواب دینے کے بجائے صحن کی طرف دیکھا۔
وہاں ایک خالی لکڑی کی کرسی رکھی تھی۔
اس کے بازو پر نیلے رنگ کا اونی شال بدستور تہہ کیا ہوا تھا، حالانکہ گرمی اپنے عروج پر تھی۔
“یہ شال میری بیگم کی ہے۔”
ان کی آواز اتنی ہلکی تھی کہ شاید خود ان کے کان بھی پوری نہ سن سکے ہوں۔
“دو سال ہو گئے… مگر میں نے اسے سمیٹا نہیں۔”
حمزہ نے پہلی بار محسوس کیا کہ گھر میں غیرمعمولی صفائی تھی۔
برتن اپنی جگہ۔
گملوں میں پانی۔
قالین پر ایک شکن تک نہیں۔
صرف خاموشی بکھری ہوئی تھی۔
اور خاموشی بھی ایسی، جیسے برسوں سے کسی کے قدموں کی منتظر ہو۔
اس دن کے بعد حمزہ روز اخبار ہاتھ میں دے کر دو منٹ بیٹھ جاتا۔
کبھی چائے مل جاتی۔
کبھی بس دو باتیں۔
بزرگ اکثر اخبار کھولتے بھی نہیں تھے۔
وہ صرف اس کی آواز سنتے۔
“السلام علیکم، انکل!”
اور جواب میں کہتے،
“وعلیکم السلام، آ گئے بیٹا؟”
ایک دن حمزہ نے ہنس کر پوچھ لیا،
“آپ اخبار پڑھتے کیوں نہیں؟”
بزرگ نے اخبار میز پر رکھا۔
“خبریں تو ٹی وی بھی سنا دیتا ہے۔”
پھر مسکرا کر بولے،
“اخبار نہیں منگواتا… دستک منگواتا ہوں۔”
یہ سن کر حمزہ پہلی بار نظریں جھکا گیا۔
مہینے گزرتے گئے۔
عید آئی۔
حمزہ نے سویاں کھائیں تو ایک پیالہ ان کے لیے بھی لے گیا۔
بزرگ نے بدلے میں اسے اپنی مرحومہ بیوی کی بنائی ہوئی ایک پرانی اون کی ٹوپی دی، جسے وہ برسوں سے سنبھال کر رکھے ہوئے تھے۔
“سردیوں میں پہن لینا۔”
حمزہ نے ٹوپی لے لی، مگر محسوس کیا کہ وہ اون سے زیادہ کسی کی کمی سے بنی ہوئی تھی۔
ایک صبح بارش ہو رہی تھی۔
حمزہ پوری طرح بھیگتا ہوا مکان نمبر 27 پہنچا۔
گھنٹی بجائی۔
کوئی جواب نہیں۔
اس نے دوبارہ بجائی۔
پھر زور سے دروازہ کھٹکھٹایا۔
اندر صرف گھڑی کی ٹک ٹک تھی۔
اس کے ہاتھ خودبخود کانپنے لگے۔
اسے وہ پرچی یاد آ گئی۔
پولیس آئی۔
دروازہ توڑا گیا۔
وہی خالی کرسی اپنی جگہ رکھی تھی۔
نیلا شال بھی۔
فرش پر اخباروں کا پچھلا ڈھیر سلیقے سے بندھا ہوا تھا۔
اور بزرگ…
کرسی کے قریب قالین پر اس طرح لیٹے تھے جیسے کسی دستک کا انتظار کرتے کرتے ذرا دیر کو آنکھ لگ گئی ہو۔
ان کی مٹھی میں وہی پرچی دبی ہوئی تھی۔
چند دن بعد بیرونِ ملک سے ان کا بیٹا آیا۔
گھر میں تعزیت کرنے والوں کی بھیڑ تھی۔
اس نے باپ کے کمرے میں قدم رکھا تو ہر چیز اپنی جگہ موجود تھی۔
صرف ایک چیز بدل گئی تھی۔
لیٹر بکس کھلا ہوا تھا۔
حمزہ خاموشی سے صحن میں کھڑا تھا۔
بیٹے نے پوچھا،
“آپ…؟”
“میں اخبار دیتا تھا۔”
بس اتنا ہی۔
بیٹے نے میز پر رکھا اخبار اٹھایا۔
وہ کئی مہینوں سے بغیر کھلے جمع تھے۔
ہر اخبار پر تاریخ تھی۔
اور ہر تاریخ کے ساتھ زندگی کا ایک ایسا دن، جسے کسی نے پڑھنے کی ضرورت ہی محسوس نہ کی۔
اس نے لرزتے ہاتھوں سے آخری دراز کھولی۔
اندر ایک لفافہ رکھا تھا۔
اس پر صرف اتنا لکھا تھا:
“میرے بیٹے کے لیے…”
خط بہت مختصر تھا۔
“میں نے تمہیں کبھی واپس آنے کا نہیں کہا، کیونکہ محبت اگر درخواست بن جائے تو بوجھ لگنے لگتی ہے۔ بس ایک خواہش تھی… کبھی کسی دن بغیر بتائے دروازہ کھٹکھٹا دینا۔ شاید میں اخبار نہ پڑھتا، مگر تمہاری آواز ضرور سن لیتا۔”
بیٹے نے خط آنکھوں سے لگا لیا۔
مگر اس گھر میں اب کوئی دروازہ کھولنے والا نہیں تھا۔
اگلی صبح حمزہ عادت کے مطابق مکان نمبر 27 کے سامنے رکا۔
اس نے اخبار ہاتھ میں لیا۔
دروازہ بند تھا۔
لیٹر بکس کھلا تھا۔
وہ کافی دیر تک کھڑا رہا۔
پھر اس نے اخبار لیٹر بکس میں نہیں ڈالا۔
خاموشی سے دہلیز پر رکھ دیا۔
کچھ دستکیں، مرنے والوں کے لیے نہیں ہوتیں…
وہ زندہ رہ جانے والوں کی عمر بھر کی سزا بن جاتی ہیں۔
نوٹ: یہ ایک افسانوی اور ادبی کہانی ہے۔ اس کے کردار اور واقعات تخلیقی انداز میں پیش کیے گئے ہیں۔

