“کیا تم نے کبھی سوچا ہے کہ جب تمہارے سامنے تمہارا سب کچھ چھین لیا جائے، تو تم کس طرح جیو گے؟”
یہ سوال عدنان نے خود سے پوچھا، لیکن اس کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا۔
عدنان کا ایک خوبصورت خاندان تھا، وہ اپنی بیوی مریم اور بیٹے حسان کے ساتھ خوش تھا۔ ان کی زندگی ایک معمول کے مطابق چل رہی تھی، اور وہ ہر دن کو اپنی محنت اور خوشی کے ساتھ گزار رہے تھے۔
لیکن پھر ایک دن، وہ سب کچھ بدل گیا۔
ایک دن مریم کو شدید بیماری لاحق ہوئی۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس کی حالت سنگین ہے اور علاج کا کوئی فائدہ نہیں۔ عدنان کے دل میں ایسا خلا تھا کہ وہ خود کو کمرے میں بند کر کے بیٹھ گیا تھا۔ وہ اپنی زندگی کو دوبارہ ترتیب دینے کی کوشش کرتا رہا، لیکن ہر لمحہ وہ محسوس کرتا تھا کہ کچھ بہت بڑا، بہت قیمتی، اس سے چھن رہا ہے۔
مریم کا انتقال ہوگیا، اور عدنان کی دنیا ویران ہو گئی۔ وہ مریم کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی حمایت سمجھتا تھا، اور جب وہ چلی گئی، تو اس کے دل میں ایک ایسی خالی جگہ بن گئی جو کبھی بھی بھر نہ سکی۔
لیکن ایک دن، عدنان کو اس کا بیٹا حسان نظر آیا۔ حسان کی آنکھوں میں وہ غم تھا جو کبھی عدنان نے اپنی آنکھوں میں محسوس کیا تھا۔ وہ غم نہیں تھا جسے وہ چھپائے رکھنا چاہتا تھا، بلکہ یہ وہ غم تھا جو اس کے جسم و جان کو بے چین کر رہا تھا۔
حسان نے عدنان سے کہا، “ابا، آپ ہمیں چھوڑنا نہیں چاہتے، لیکن پھر کیوں؟ آپ نے کبھی ہمیں بتایا کیوں کہ آپ کی زندگی میں صرف ماما تھیں؟”
عدنان کا دل ٹوٹ گیا۔ وہ اپنے بیٹے کی آنکھوں میں وہ غم دیکھ کر اور زیادہ تنہا محسوس کرنے لگا۔ اس نے خود سے پوچھا: “کیا میں واقعی اپنی زندگی میں اتنا کچھ چھپانے کے قابل تھا؟”
عدنان کے دل میں اب وہ خالی جگہ اور بھی گہری ہوتی جا رہی تھی۔ اس کے دل میں جو درد تھا، وہ صرف وہی جانتا تھا، اور وہ کسی کو نہیں بتا سکتا تھا۔
ایک دن، جب عدنان کو اس کی زندگی کے تمام یادیں ایک ساتھ آئیں، تو وہ فیصلہ کرتا ہے کہ وہ اس درد کو اپنی باقی زندگی میں نہیں چھپائے گا۔ وہ مریم کی یاد کو اپنے دل میں ایک نئے جذبے کے ساتھ زندہ رکھے گا، اور وہ حسان کے لیے ایک مضبوط باپ بننے کی کوشش کرے گا۔
لیکن کچھ یادیں ایسی ہوتی ہیں جو کبھی بھی بھلا نہیں سکتے۔






