Kiraye Ka Baap — کرائے کا باپ 😭💔

Kiraye Ka Baap
وہ آدمی ہر مہینے کی پہلی تاریخ کو ٹھیک شام چھ بجے اُس گھر کے دروازے پر آ کر دستک دیتا تھا… ہاتھ میں ایک سستا سا کیک، جیب میں چند ٹافیاں، اور چہرے پر زبردستی کی مسکراہٹ۔ دروازہ کھلتا… تو سامنے ایک چھوٹا سا بچہ دوڑ کر اُس سے لپٹ جاتا، “بابا آ گئے!”
وہ ایک لمحے کے لیے آنکھیں بند کرتا… اور پھر اُسے گلے لگا لیتا… جیسے واقعی وہ اُس کا باپ ہو۔

مگر حقیقت کچھ اور تھی۔

وہ اُس بچے کا باپ نہیں تھا… وہ صرف کرائے کا باپ تھا۔


کچھ سال پہلے اُس بچے کے اصل والد ایک حادثے میں دنیا سے چلے گئے تھے۔ اُس دن کے بعد سے وہ بچہ ہر رات سونے سے پہلے دروازے کی طرف دیکھتا اور روتا تھا… “مجھے بابا چاہیے…” اُس کی ماں نے اُسے گود میں لے کر بہت دفعہ سمجھایا، “بابا واپس نہیں آئیں گے…” مگر ایک چھوٹے سے دل کو یہ بات سمجھ نہیں آتی تھی۔ اُس کے لیے باپ کہیں گیا تھا… اور بس واپس آنا باقی تھا۔

مہینوں تک وہ بچہ اسی امید میں جیتا رہا… پھر اُس کی ماں نے ایک دن ہار مان لی۔ اُس نے ایک اجنبی آدمی سے بات کی… اور کہا،
“کیا آپ مہینے میں ایک دن میرے بچے کے باپ بن سکتے ہیں…؟ میں آپ کو پیسے دوں گی…”

وہ آدمی چونک گیا تھا۔ اُس نے کبھی ایسا نہیں سنا تھا۔ پہلے تو اُس نے انکار کیا… مگر پھر اُس عورت کی آنکھوں میں وہ بے بسی دیکھی جو کسی ماں کے سوا کوئی نہیں سمجھ سکتا۔ آخرکار… اُس نے ہاں کر دی۔


پہلا دن عجیب تھا۔ وہ دروازے پر کھڑا تھا، جیسے کوئی اداکار اپنی پہلی پرفارمنس دینے جا رہا ہو۔ دروازہ کھلا… اور بچہ اُس کی طرف دوڑ کر آیا۔ اُس نے ہچکچاتے ہوئے اُسے گلے لگایا… اور آہستہ سے کہا، “بابا آ گئے…”

وہ لفظ اُس کے اپنے کانوں میں بھی اجنبی لگے۔

وہ دن گزر گیا۔ وہ بچے کے ساتھ کھیلا، اُس کے ساتھ کیک کاٹا، کہانیاں سنائیں… اور پھر شام ہوتے ہی چلا گیا۔ دروازے سے نکلتے ہوئے اُس نے پیسے لیے… اور ایک لمحے کے لیے اُس کے قدم رک گئے۔ اُسے عجیب سا محسوس ہوا… جیسے اُس نے کچھ خریدا نہیں… بلکہ کچھ بیچا ہو۔


وقت گزرتا گیا… اور وہ ایک دن ایک رسم بن گیا۔ ہر مہینے کی پہلی تاریخ… وہی دروازہ… وہی آواز… “بابا آ گئے!”

مگر آہستہ آہستہ… کچھ بدلنے لگا۔

بچہ اب اُس کے آنے سے پہلے ہی دروازے کے پاس بیٹھ جاتا تھا۔ پورا مہینہ دن گنتا… اپنی ماں سے پوچھتا، “بابا کب آئیں گے…؟” اُس کے لیے وہ دن کسی عید سے کم نہیں ہوتا تھا۔

وہ آدمی… جو پہلے صرف پیسوں کے لیے آتا تھا… اب اُس بچے کے لیے آنے لگا تھا۔ وہ کبھی دیر تک رک جاتا… کبھی اضافی کھلونے لے آتا… کبھی بغیر پیسے لیے بھی چلا جاتا۔ اُس نے اپنے آپ سے کئی بار کہا، “یہ صرف ایک ڈرامہ ہے…” مگر دل ماننے کو تیار نہیں تھا۔

ایک دن بچے نے اُس سے پوچھا…
“بابا… آپ باقی دن کیوں نہیں آتے…؟”

وہ خاموش ہو گیا۔ اُس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ اُس نے بس بچے کے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا، “میں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں…”

مگر وہ جانتا تھا… یہ سچ نہیں تھا۔


پھر ایک دن… سب کچھ بدل گیا۔

وہ ہمیشہ کی طرح آیا… مگر دروازہ دیر سے کھلا۔ بچے کی ماں کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں۔ اُس نے آہستہ سے کہا،
“وہ ہسپتال میں ہے… بہت بیمار ہے…”

وہ آدمی ایک لمحے کے لیے ساکت رہ گیا… پھر بغیر کچھ کہے ہسپتال کی طرف چل پڑا۔

بچہ بستر پر لیٹا تھا… کمزور… سانسیں ہلکی ہلکی چل رہی تھیں… مگر آنکھیں اب بھی دروازے کی طرف لگی ہوئی تھیں۔ جیسے ہی اُس نے اُسے دیکھا… اُس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی…
“بابا… آپ آ گئے…”

اُس آدمی کا دل ٹوٹ گیا۔

وہ اُس کے پاس بیٹھ گیا… اُس کا ہاتھ پکڑا… اور پہلی بار اُس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
“میں آ گیا ہوں… میں ہمیشہ آؤں گا…” اُس نے بمشکل کہا۔

بچے نے دھیمی آواز میں پوچھا…
“اگلے مہینے بھی…؟”

وہ آدمی کچھ کہہ نہیں سکا… بس سر ہلا دیا۔


اگلے مہینے کی پہلی تاریخ کو… وہ پھر اُس دروازے کے سامنے کھڑا تھا۔ ہاتھ میں وہی کیک… مگر دل بہت بھاری تھا۔ اُس نے دروازہ کھٹکھٹایا… کوئی جواب نہیں آیا۔

کچھ دیر بعد… دروازہ آہستہ سے کھلا۔ بچے کی ماں سامنے تھی… مگر اس بار اُس کی آنکھوں میں آنسو نہیں تھے… صرف ایک گہری خاموشی تھی۔

وہ آدمی سب کچھ سمجھ گیا۔

اُس کے ہاتھ سے کیک نیچے گر گیا۔


اُس دن کے بعد… وہ ہر مہینے کی پہلی تاریخ کو وہاں آتا ہے۔ دروازے کے باہر بیٹھ جاتا ہے… اور آہستہ سے کہتا ہے…
“بابا آ گئے…”

کبھی کبھی وہ ٹافیاں دروازے کے پاس رکھ دیتا ہے… جیسے بچہ ابھی آ کر لے جائے گا۔

لوگ کہتے ہیں وہ پاگل ہو گیا ہے…
مگر حقیقت یہ ہے…

وہ پہلی بار سچ میں باپ بنا تھا…
اور جب اُس کا بچہ چلا گیا…
تو اُس کے اندر کا باپ بھی ہمیشہ کے لیے ٹوٹ گیا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top