“Adhoora Ghar — ادھورا گھر 😭💔

Adhoora Ghar

وہ گھر ابھی مکمل بھی نہیں ہوا تھا… مگر خواب پہلے ہی بس چکے تھے۔ زین اور عائشہ ہر شام اُس آدھے بنے گھر کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے آنے والے کل کی باتیں کرتے تھے۔ ادھوری دیواروں کے سائے میں کھڑے ہو کر وہ اپنی پوری زندگی کا نقشہ بنا لیتے تھے۔ عائشہ انگلی سے ہوا میں لکیریں کھینچتی اور کہتی، “یہاں ہماری کھڑکی ہوگی… جہاں سے صبح کی روشنی آئے گی… اور یہاں ایک چھوٹی سی میز، جہاں ہم چائے پئیں گے…” زین اُسے دیکھ کر مسکرا دیتا، “اور یہاں تمہارا پسندیدہ باغ… جہاں تم پھول لگاؤ گی…” اُن کے پاس کچھ بھی مکمل نہیں تھا… سوائے ایک دوسرے کے۔

زین دن رات محنت کرتا تھا۔ گرمی ہو یا سردی، وہ بس ایک ہی سوچ کے ساتھ کام کرتا رہتا… کہ جلدی سے یہ گھر مکمل ہو جائے۔ وہ چاہتا تھا کہ عائشہ کو کبھی کسی چیز کی کمی محسوس نہ ہو۔ عائشہ بھی ہر چھوٹی چیز میں خوشی ڈھونڈ لیتی تھی۔ وہ اینٹوں کے ڈھیر کو دیکھ کر بھی خوش ہو جاتی، “یہی ہمارا محل ہے…” اور زین ہنس پڑتا، مگر اُس ہنسی میں تھکن بھی ہوتی تھی اور محبت بھی۔

کبھی کبھی وہ دونوں اُس ادھورے کمرے میں بیٹھ جاتے، جہاں ابھی چھت بھی پوری نہیں بنی تھی۔ اوپر آسمان نظر آتا تھا… اور عائشہ کہتی، “دیکھو، ہمارا گھر ابھی سے آسمان سے جڑا ہوا ہے…” زین اُس کی بات سن کر چپ ہو جاتا… کیونکہ اُسے ڈر لگتا تھا… کہیں یہ سب خواب ہی نہ رہ جائے۔

مگر زندگی کو شاید یہ خوشی منظور نہیں تھی۔

ایک دن زین کو شہر سے باہر کام کے لیے جانا پڑا۔ وہ نہیں جانا چاہتا تھا، مگر مجبوری تھی۔ جاتے ہوئے اُس نے عائشہ کا ہاتھ تھاما اور آہستہ سے کہا، “بس چند دن… پھر ہم ہمیشہ کے لیے اپنے گھر میں ہوں گے…” عائشہ نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اُس کی طرف دیکھا، “جلدی آنا… میں انتظار کروں گی…”

یہ اُن کی آخری ملاقات تھی۔

راستے میں زین بار بار فون دیکھتا رہا، جیسے وہ ابھی کال کرے گی۔ مگر اُس دن کوئی کال نہیں آئی۔ اگلے دن ایک نامعلوم نمبر سے فون آیا… آواز سن کر ہی اُس کے دل میں کچھ ٹوٹ گیا۔ “ایکسیڈنٹ ہوا ہے… آپ فوراً ہسپتال آئیں…”

زین کے ہاتھ کانپنے لگے۔ اُس کی سانسیں تیز ہو گئیں۔ وہ دوڑتا ہوا ہسپتال پہنچا… مگر بہت دیر ہو چکی تھی۔ ڈاکٹر کے الفاظ اُس کے کانوں میں گونج رہے تھے…
“ہم اسے بچا نہیں سکے…”

دنیا وہیں رک گئی۔


کچھ دن بعد… زین واپس اُس ادھورے گھر کے سامنے کھڑا تھا۔ سب کچھ ویسا ہی تھا۔ اینٹیں، دیواریں، وہی جگہ… مگر عائشہ نہیں تھی۔ وہ آہستہ سے اندر گیا، اُس جگہ بیٹھ گیا جہاں وہ دونوں خواب دیکھا کرتے تھے۔ اُس نے خالی فضا میں دیکھا اور سرگوشی کی، “میں آ گیا ہوں…”

مگر جواب میں صرف خاموشی تھی۔

وہ اکثر وہاں جانے لگا۔ کبھی دیوار کو ہاتھ لگاتا، کبھی زمین پر بیٹھ جاتا، کبھی آنکھیں بند کر لیتا… جیسے وہ اب بھی اُس کے ساتھ ہو۔ اُسے ہر جگہ عائشہ کی آواز سنائی دیتی… “یہاں ہماری کھڑکی ہوگی…” “یہاں ہم بیٹھیں گے…” مگر جب وہ آنکھیں کھولتا… تو سب کچھ خالی ہوتا۔

لوگ کہتے تھے، “زندگی آگے بڑھاؤ…” مگر وہ کیسے بتاتا کہ اُس کی زندگی تو وہیں رک گئی ہے… اُس ادھورے گھر میں۔

وقت گزرتا گیا… سال بدلتے گئے… مگر وہ گھر ویسا ہی رہا۔ نہ مکمل ہوا، نہ ٹوٹا… بس ایک خاموش یاد بن گیا۔ زین نے کبھی اُسے مکمل نہیں کیا… کیونکہ وہ جانتا تھا، وہ گھر عائشہ کے بغیر گھر نہیں بن سکتا۔


ایک دن بارش ہو رہی تھی۔ زین اُس ادھورے گھر کے اندر کھڑا تھا، چھت کے بغیر… بارش کے قطرے سیدھا اُس پر گر رہے تھے۔ وہ آسمان کی طرف دیکھ کر ہلکا سا مسکرایا اور آہستہ سے کہا…
“دیکھو… ہمارا گھر ابھی بھی آسمان سے جڑا ہوا ہے…”

اُس کی آنکھوں سے آنسو بارش کے ساتھ مل گئے۔

لوگ کہتے ہیں زین نے زندگی گزار لی…
مگر حقیقت یہ ہے…

وہ آج بھی اُسی ادھورے گھر میں رہتا ہے…
جہاں اُس کی محبت دفن ہے…
اور خواب کبھی پورے نہیں ہوئے۔ 😭💔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top