Bheegi Diary — بھیگی ڈائری” 😭💔

Bheegi Diary — بھیگی ڈائری
وہ ڈائری ہمیشہ بند رہتی تھی… مگر اُس کے صفحے کبھی خشک نہیں ہوتے تھے۔ احمد نے اسے الماری کے ایک کونے میں چھپا رکھا تھا، جیسے وہ یادوں کو بھی بند کر سکتا ہو۔ مگر کچھ یادیں ایسی ہوتی ہیں… جو جتنی چھپاؤ، اتنی ہی اندر سے رُلاتی ہیں۔

یہ ڈائری ہِبا کی تھی۔

ہِبا کو لکھنے کا بہت شوق تھا۔ وہ ہر چھوٹی بڑی بات اُس ڈائری میں لکھ دیتی تھی—احمد کے ساتھ گزرا ہر لمحہ، ہر مسکراہٹ، ہر چھوٹی سی ناراضی… سب کچھ۔ وہ اکثر ہنستے ہوئے کہتی، “اگر کبھی میں نہ رہی… تو میری ڈائری پڑھ لینا… تمہیں سب سمجھ آ جائے گا…”
احمد ہر بار اُسے ڈانٹ دیتا، “ایسی باتیں مت کیا کرو…”

مگر شاید وہ جانتی تھی… کچھ باتیں پہلے ہی لکھی جا چکی تھیں۔


ہِبا اچانک چلی گئی۔

نہ کوئی لمبی بیماری، نہ کوئی وارننگ… بس ایک حادثہ… اور سب ختم۔ احمد کے لیے دنیا وہیں رک گئی۔ اُس کے بعد سب کچھ چلتا رہا… لوگ آتے جاتے رہے… مگر اُس کے اندر سب کچھ خاموش ہو گیا۔

کئی دنوں تک وہ کچھ سمجھ ہی نہیں سکا۔ نہ رو سکا، نہ بول سکا… بس خالی نظروں سے سب دیکھتا رہا۔

پھر ایک دن… اُس نے وہ ڈائری نکالی۔


اُس کے ہاتھ کانپ رہے تھے جب اُس نے پہلا صفحہ کھولا۔ ہر صفحے پر ہِبا کی لکھائی تھی… زندہ، مسکراتی ہوئی، جیسے وہ خود بات کر رہی ہو۔

“آج احمد نے مجھے پہلی بار مسکرا کر دیکھا… مجھے لگا میں دنیا جیت گئی…”

احمد کے لبوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ آئی… مگر آنکھوں میں آنسو بھی بھر آئے۔

اگلے صفحے پر لکھا تھا…
“آج ہم نے بہت لڑائی کی… مگر مجھے پتہ ہے وہ مجھے کبھی چھوڑے گا نہیں…”

احمد کا دل زور سے دھڑکا… اُس نے صفحہ پلٹا۔

“آج میں نے اُس کے لیے دعا کی… کہ وہ ہمیشہ خوش رہے… چاہے میرے ساتھ نہ ہو…”


ہر صفحہ احمد کو توڑ رہا تھا… مگر وہ پڑھتا جا رہا تھا۔ جیسے وہ ہر لفظ کے ساتھ ہِبا کو تھوڑا تھوڑا واپس پا رہا ہو… اور پھر دوبارہ کھو رہا ہو۔

پھر وہ آخری صفحات تک پہنچا۔

وہاں لکھا تھا…

“مجھے نہیں پتہ میرے پاس کتنا وقت ہے… مگر ایک بات جانتی ہوں… احمد مجھے کبھی نہیں سمجھے گا جب تک میں نہ رہوں۔
اگر وہ یہ پڑھ رہا ہے… تو شاید میں جا چکی ہوں۔
احمد… تمہیں ایک بات بتاؤں؟
میں نے کبھی تم سے کچھ نہیں مانگا… بس ایک خواہش تھی… کہ تم کبھی مجھے اکیلا نہ چھوڑو…”


احمد کی آنکھوں سے آنسو ٹپک کر ڈائری پر گرنے لگے… اور سیاہی پھیلنے لگی۔

اُسے اچانک یاد آیا…

وہ دن… جب ہِبا نے اُسے بار بار کال کی تھی… اور وہ مصروف تھا… اُس نے فون نہیں اٹھایا تھا… اور یہی وہ دن تھا… جب وہ ہمیشہ کے لیے چلی گئی۔


احمد نے ڈائری بند کر دی… مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی۔

آج بھی وہ ڈائری اُس کے پاس ہے… مگر اب وہ ہر صفحہ بھیگا ہوا ہے۔

کیونکہ وہ صرف بارش سے نہیں بھیگی…
وہ اُس کے آنسوؤں سے بھیگی ہے…

اور ہر بار جب وہ اسے کھولتا ہے…
تو اُسے احساس ہوتا ہے…

کچھ کہانیاں وقت پر نہ سمجھی جائیں…
تو ہمیشہ کے لیے ادھوری رہ جاتی ہیں۔ 😭💔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top