Khali Kursi — خالی کرسی 😢

Khali Kursi — خالی کرسی 😢
ہر روز کی طرح آج بھی وہی چائے کا کپ میز پر رکھا تھا… مگر سامنے والی کرسی خالی تھی۔ احمد نے عادتاً دو کپ چائے بنائی، جیسے ہمیشہ بناتا تھا… ایک اپنے لیے، ایک اُس کے لیے۔ پھر اچانک اُسے یاد آیا… اب وہاں کوئی نہیں بیٹھے گا۔

وہ کرسی کبھی خالی نہیں رہتی تھی۔ وہاں ہمیشہ مریم بیٹھی ہوتی تھی… ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ، باتیں کرتی ہوئی، کبھی اُس کی باتوں پر ہنستی، کبھی ناراض ہونے کا ڈرامہ کرتی۔ احمد کے دن کی شروعات اور اختتام دونوں اُسی کے ساتھ ہوتے تھے۔ مگر اب… وہ کرسی بس ایک خاموش یاد بن چکی تھی۔

مریم بیمار تھی… مگر اُس نے کبھی احمد کو پریشان نہیں ہونے دیا۔ وہ ہمیشہ کہتی، “میں ٹھیک ہو جاؤں گی…” اور احمد ہر بار اُس پر یقین کر لیتا تھا۔ وہ دونوں مستقبل کے خواب دیکھتے تھے… ایک چھوٹا سا گھر، ایک پرسکون زندگی… جہاں ہر صبح وہی چائے، وہی دو کپ، وہی دو لوگ۔

مگر ایک دن… وہ صبح آئی ہی نہیں۔

ہسپتال کے اُس کمرے میں احمد کھڑا تھا… اور مریم خاموش لیٹی ہوئی تھی۔ پہلی بار اُس نے اُسے اتنا خاموش دیکھا تھا۔ نہ کوئی بات، نہ کوئی مسکراہٹ… بس ایک سکون، جو احمد کے دل کو چیر رہا تھا۔ ڈاکٹر کی آواز ابھی تک اُس کے کانوں میں گونج رہی تھی… “ہم نے پوری کوشش کی…”

احمد نے اُس کا ہاتھ تھاما… ٹھنڈا تھا۔ اُس نے آہستہ سے کہا، “تم نے کہا تھا تم ٹھیک ہو جاؤ گی…” مگر جواب میں صرف خاموشی تھی۔


آج کئی مہینے گزر چکے ہیں… مگر احمد کی عادتیں نہیں بدلیں۔ وہ اب بھی دو کپ چائے بناتا ہے۔ ایک کپ ہمیشہ ٹھنڈا ہو جاتا ہے… بغیر کسی کے ہاتھ لگائے۔ وہ کبھی کبھی اُس خالی کرسی کو دیکھ کر مسکرا دیتا ہے… جیسے مریم ابھی آ کر بیٹھ جائے گی اور کہے گی، “دیکھو، میں آ گئی…”

مگر وہ کرسی کبھی نہیں بھرتی۔

ایک دن احمد نے ہمت کر کے وہ دوسرا کپ نہیں بنایا۔ اُس نے سوچا شاید اب وقت آ گیا ہے آگے بڑھنے کا۔ وہ میز پر بیٹھا، ایک ہی کپ کے ساتھ… مگر جیسے ہی اُس نے پہلا گھونٹ لیا، اُس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

کیونکہ اُسے احساس ہوا…
وہ چائے کا دوسرا کپ مریم کے لیے نہیں تھا…

وہ اُس کی اپنی امید کے لیے تھا…
کہ شاید وہ کبھی واپس آ جائے گی۔

اور جب اُس نے وہ کپ بنانا چھوڑ دیا…
تو اُس نے اپنی آخری امید بھی کھو دی۔ 😭💔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top