Unknown Number📞

Unknown Number 🌙 Aadhi Raat Ki Call

بارش اُس رات مسلسل ہو رہی تھی۔ آسمان پر گرجتے بادل اور کھڑکیوں سے ٹکراتی ہوا پورے ماحول کو عجیب خوفناک بنا رہی تھی۔ راشد اپنے اپارٹمنٹ میں اکیلا تھا۔ رات کے تقریباً ڈھائی بج رہے تھے، اور وہ بستر پر لیٹا موبائل اسکرول کرتے کرتے نیند محسوس کرنے لگا تھا۔ پورے فلیٹ میں مکمل خاموشی تھی، ایسی خاموشی جس میں انسان اپنی سانسیں تک سن سکتا ہے۔

پھر اچانک اُس کے فون کی اسکرین روشن ہوئی۔

Unknown Number Calling…

راشد نے چند لمحے اسکرین کو گھورا۔ اُس کے دوست اتنی رات گئے کبھی کال نہیں کرتے تھے، اور نمبر بھی چھپا ہوا تھا۔ اُس نے ہچکچاتے ہوئے کال اٹھا لی۔

“ہیلو…؟”

دوسری طرف مکمل خاموشی تھی۔ نہ کوئی آواز، نہ کوئی بات… صرف بہت ہلکی ہلکی سانسوں کی آواز، جیسے کوئی فون کے بالکل قریب کھڑا ہو۔

“کون بول رہا ہے؟”

چند سیکنڈ خاموشی رہی، پھر اچانک کال کٹ گئی۔

راشد نے بے چینی سے فون کو دیکھا، پھر خود کو سمجھایا کہ شاید کسی نے مذاق کیا ہوگا۔ وہ دوبارہ لیٹ گیا، مگر اب نیند غائب ہو چکی تھی۔

👁️ Doosri Call Aur Pehla Dar

صرف چند سیکنڈ گزرے تھے کہ فون دوبارہ بج اٹھا۔

وہی Unknown Number۔

اس بار راشد کے دل میں عجیب سا خوف پیدا ہوا۔ اُس نے آہستہ سے کال اٹھائی۔

“کیا مسئلہ ہے تمہارا؟”

کچھ لمحے خاموشی رہی، پھر ایک لڑکی کی بہت دھیمی، کانپتی ہوئی آواز سنائی دی۔

“وہ تمہارے پیچھے کھڑا ہے…”

راشد کے جسم میں جیسے بجلی دوڑ گئی۔ اُس نے فوراً پیچھے مڑ کر دیکھا۔

کمرہ خالی تھا۔

“کون؟ کون کھڑا ہے؟”

مگر دوسری طرف سے کال بند ہو چکی تھی۔

اب بارش کی آواز بھی اُسے خوفناک لگنے لگی تھی۔ اُس نے خود پر ہنسنے کی کوشش کی، مگر دل کی دھڑکن تیز ہوتی جا رہی تھی۔

📱 Camera Mein Nazar Aane Wali Cheez

راشد ابھی دوبارہ بستر پر بیٹھا ہی تھا کہ اُس کے فون کا فرنٹ کیمرہ خود بخود آن ہو گیا۔

وہ چونک گیا۔

اسکرین پر اُس کا اپنا چہرہ نظر آ رہا تھا… مگر اُس کے پیچھے بھی کچھ تھا۔

ایک لمبا سیاہ سایہ۔

بالکل خاموش۔

بالکل ساکت۔

راشد کا سانس رک گیا۔ اُس نے فوراً پیچھے مڑ کر دیکھا، مگر وہاں کچھ نہیں تھا۔

جب اُس نے دوبارہ فون کی طرف دیکھا…

سایہ غائب ہو چکا تھا۔

اب اُس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔

🕯️ Purane Flat Ka Sach

اگلے دن راشد نے بلڈنگ کے چوکیدار سے اُس فلیٹ کے بارے میں پوچھا۔ پہلے تو چوکیدار خاموش رہا، مگر پھر اُس نے آہستہ سے کہا، “یہاں پہلے بھی ایک لڑکا رہتا تھا۔”

“پھر؟”

“وہ بھی یہی کہتا تھا کہ اُسے رات کو Unknown Number سے کالز آتی ہیں۔ شروع میں کسی نے یقین نہیں کیا۔ مگر ایک رات… وہ اچانک مر گیا۔”

راشد کے چہرے کا رنگ اُڑ گیا۔

“مر گیا؟ کیسے؟”

چوکیدار نے نظریں جھکا لیں۔ “کسی کو نہیں پتا۔ بس اُس کے کمرے میں اُس کا فون ملا تھا… اور اُس کی اسکرین پر صرف ایک چیز لکھی تھی۔”

Unknown Number Calling…

😨 Raat Teen Baje

اُس رات راشد نے فیصلہ کیا کہ وہ فون بند کر دے گا۔ اُس نے موبائل آف کیا اور خود کو سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ سب صرف اتفاق ہے۔

مگر ٹھیک تین بجے…

بند فون خود بخود آن ہو گیا۔

کمرے کی لائٹس ایک لمحے کے لیے جھپکیں۔

اور فون بجنے لگا۔

Unknown Number Calling…

اب راشد کا خوف اپنی انتہا پر پہنچ چکا تھا۔ اُس نے فون کو ہاتھ لگانے کی بھی ہمت نہیں کی۔

مگر فون خود بخود اسپیکر پر چلا گیا۔

چند لمحے صرف سانسوں کی آواز آتی رہی۔

پھر ایک بھاری، غیر انسانی آواز سنائی دی۔

“آخرکار… تم نے مجھے سن لیا…”

👤 Woh Cheez Kمرے Mein Thi

اسی لمحے کمرے کا درجہ حرارت اچانک کم ہو گیا۔ کھڑکیاں بند تھیں، مگر پردے زور زور سے ہلنے لگے۔

راشد آہستہ آہستہ پیچھے ہٹا۔

پھر اُس نے کمرے کے کونے میں کچھ دیکھا۔

کوئی وہاں کھڑا تھا۔

لمبا… غیر انسانی… اور مکمل سیاہ۔

صرف اُس کی آنکھیں دکھ رہی تھیں۔

سفید، خالی، اور خوفناک۔

راشد چیخنا چاہتا تھا مگر آواز اُس کے گلے میں اٹک گئی۔

وہ چیز آہستہ آہستہ اُس کی طرف بڑھنے لگی۔

فون سے آخری سرگوشی سنائی دی:

“اب تمہاری باری ہے…”

🌑 Aakhri Manzar

اگلی صبح پڑوسیوں نے راشد کے فلیٹ کا دروازہ کھلا دیکھا۔ اندر ہر چیز اپنی جگہ موجود تھی… مگر راشد کہیں نہیں تھا۔

صرف اُس کا موبائل فرش پر پڑا تھا۔

اس کی اسکرین اب بھی روشن تھی۔

اور اُس پر ایک نئی کال جا رہی تھی۔

Unknown Number Calling…

مگر اس بار…

وہ کال کسی اور نمبر پر جا رہی تھی۔ 👁️

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top