نادیہ اور اس کے دوست عادل اور سلمان ایک پرانے چھوٹے گاؤں میں تعطیلات گزارنے کے لیے گئے۔ گاؤں کے لوگ اکثر چاندنی راتوں میں ایک پراسرار روشنی کی بات کرتے تھے جو پہاڑوں سے آتی تھی، لیکن کوئی بھی اس کے قریب جانے کی جرات نہیں کرتا تھا۔ یہ کہانیاں اس قدر خوفناک تھیں کہ نادیہ اور اس کے دوستوں نے بھی ان پر زیادہ دھیان نہیں دیا۔
ایک رات، جب چاند پوری شدت سے چمک رہا تھا، نادیہ، عادل اور سلمان نے فیصلہ کیا کہ وہ اس پراسرار روشنی کا پتہ لگائیں گے۔ تینوں نے اپنی ٹارچیں روشن کیں اور گاؤں کے قریب ایک پہاڑ کی طرف روانہ ہوئے۔
جیسے ہی وہ پہاڑ کی چوٹی کے قریب پہنچے، ایک عجیب سی سرد ہوائیں چلنے لگیں۔ عادل اور سلمان کو خوف محسوس ہوا، لیکن نادیہ پر اعتماد تھا کہ یہ سب صرف افواہیں ہیں۔ اچانک، ایک مدھم سی روشنی دکھائی دی جو پہاڑ کے ایک کونے سے آ رہی تھی۔ وہ تینوں اس کی طرف بڑھنے لگے۔
جب وہ اس روشنی کے قریب پہنچے، تو انہوں نے دیکھا کہ ایک پرانا، خالی گھر تھا جس سے روشنی نکل رہی تھی۔ گھر کے دروازے کے باہر ایک سیاہ سایہ کھڑا تھا۔ نادیہ نے ہمت جمع کی اور دروازہ کھول دیا، لیکن جیسے ہی دروازہ کھلا، ایک خوفناک سرد ہوا کا جھونکا آیا اور ان کی ٹارچیں بجھ گئیں۔
اندھیرا چھا گیا تھا، اور اچانک ایک بے آواز ہنسی سنائی دی۔ نادیہ اور اس کے دوستوں کے دلوں میں خوف کی لہر دوڑ گئی۔ پھر اچانک، ایک بے شکل شکل سامنے آئی، جس کے ہاتھوں میں خون لگا ہوا تھا اور آنکھیں سرخ تھیں۔ وہ شکل انہیں گھور رہی تھی اور آہستہ آہستہ ان کے قریب آ رہی تھی۔
“یہ وہ روح ہے جو اس گھر میں قید ہے…” وہ سایہ بولا، “یہاں کبھی کوئی نہیں آتا، لیکن تم نے آ کر میری نیند توڑ دی۔ اب تمہاری روح ہمیشہ کے لیے یہاں رہ جائے گی۔”
نادیہ اور اس کے دوست خوف کے مارے باہر دوڑنے لگے، لیکن دروازہ بند ہو چکا تھا اور وہ باہر نہیں نکل پا رہے تھے۔ ہر طرف سیاہ سایے اور پراسرار آوازیں گونج رہی تھیں۔
اچانک، ایک اور چاندنی کی لہر آئی اور دروازہ خود بخود کھل گیا۔ تینوں دروازے سے باہر نکلے اور گاؤں واپس پہنچ گئے، لیکن ان کے دلوں میں خوف کا اثر ہمیشہ کے لیے رہ گیا۔ اس رات کے بعد، وہ کبھی بھی اُس پراسرار گھر کے قریب نہ گئے۔






