Darwaza Jo Har Raat Khud Khulta Tha

Darwaza Jo Har Raat Khud Khulta Tha
🌑 Naya Flat

کراچی کے ایک پرانے اپارٹمنٹ میں زین نے نیا فلیٹ لیا تھا۔ کرایہ حیران کن حد تک کم تھا، اسی لیے اس نے زیادہ سوال نہیں کیے۔ عمارت پرانی ضرور تھی مگر رہنے کے قابل تھی۔ صرف ایک چیز عجیب تھی… فلیٹ کے بیڈروم کے آخر میں ایک چھوٹا سا لکڑی کا دروازہ تھا جو دیوار کے بیچوں بیچ بنا ہوا تھا۔

“یہ کس لیے ہے؟” زین نے مالک سے پوچھا۔

مالک چند لمحے خاموش رہا، پھر بولا، “اسے کبھی مت کھولنا۔”

زین ہنس دیا۔ “میں بچہ نہیں ہوں۔”

مالک نے سرد لہجے میں جواب دیا، “میں مذاق نہیں کر رہا۔”

🕯️ Pehli Raat

پہلی رات سب کچھ نارمل تھا۔ زین اپنا سامان سیٹ کرتا رہا، پھر تھک کر سو گیا۔

رات تقریباً تین بجے…

کڑرررر…

اس کی آنکھ اچانک کھل گئی۔

وہ آواز اسی چھوٹے دروازے کی تھی۔

زین نے نیم اندھیرے میں دیکھا…

دروازہ آہستہ آہستہ خود کھل رہا تھا۔

اس کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ وہ چند لمحے بستر پر بیٹھا رہا، پھر خود کو سمجھایا کہ شاید ہوا کی وجہ سے ہوا ہو۔

وہ اٹھا، جا کر دروازہ بند کیا، اور واپس سو گیا۔

مگر سونے سے پہلے اس نے ایک عجیب چیز دیکھی…

دروازے کے اندر مکمل اندھیرا تھا۔

ایسا اندھیرا جو نارمل نہیں لگ رہا تھا۔

👁️ Awaaz Andar Se Aa Rahi Thi

اگلی رات پھر وہی آواز آئی۔

کڑررر…

اس بار زین فوراً اٹھ گیا۔

دروازہ پہلے سے زیادہ کھلا ہوا تھا۔

اور اس اندھیرے کے اندر سے کسی کے سانس لینے کی آواز آ رہی تھی۔

بھاری… سست… خوفناک سانسیں۔

زین کے جسم میں سرد لہر دوڑ گئی۔

“ک… کون ہے؟”

جیسے ہی اس نے یہ کہا، سانسوں کی آواز اچانک بند ہو گئی۔

پورا کمرہ خاموش ہو گیا۔

اتنا خاموش کہ اسے اپنی دھڑکن سنائی دے رہی تھی۔

🚪 Teesri Raat Ka Khauf

تیسری رات زین نے فیصلہ کیا کہ وہ جاگتا رہے گا۔ اس نے کمرے کی لائٹس بند کیں اور بستر پر بیٹھ کر دروازے کو گھورتا رہا۔

گھڑی نے تین بجائے۔

اور پھر…

دروازہ خود بخود کھل گیا۔

مگر اس بار…

اندر اندھیرا نہیں تھا۔

اندر کسی کے کھڑے ہونے کا سایہ نظر آ رہا تھا۔

لمبا، پتلا، اور غیر انسانی۔

زین کا گلا خشک ہو گیا۔

وہ سایہ آہستہ آہستہ دروازے کے قریب آنے لگا۔

ٹھک… ٹھک… ٹھک…

جیسے ننگے پاؤں لکڑی پر چل رہے ہوں۔

😨 Woh Cheez Bahar Aa Gayi

زین فوراً بستر سے اٹھا اور لائٹ آن کرنے بھاگا، مگر لائٹ نہیں جلی۔

جب وہ واپس مڑا…

وہ چیز اب دروازے کے باہر کھڑی تھی۔

اس کا چہرہ مکمل اندھیرے میں تھا، مگر اس کی آنکھیں دکھ رہی تھیں۔

کالی…

اور غیر انسانی۔

زین چیخنا چاہتا تھا مگر آواز نہیں نکلی۔

وہ چیز آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھی۔

اور پھر پہلی بار بولی۔

“تم نے مجھے جگا دیا…”

اس کی آواز ایسی تھی جیسے کئی لوگ ایک ساتھ سرگوشی کر رہے ہوں۔

🩸 Asal Sach

اگلی صبح زین نے پورے اپارٹمنٹ کے بارے میں معلومات نکالیں۔

تب اسے پتا چلا…

کئی سال پہلے اسی فلیٹ میں ایک شخص اچانک غائب ہو گیا تھا۔ لوگ کہتے تھے اُس نے دیوار کے پیچھے کچھ بنایا تھا… کوئی ایسی جگہ جو انسانوں کے لیے نہیں تھی۔

اور وہ چھوٹا دروازہ…

اصل میں دروازہ نہیں تھا۔

وہ “راستہ” تھا۔

🌑 Aakhri Raat

اس رات زین نے فیصلہ کیا کہ وہ فلیٹ چھوڑ دے گا۔ اس نے جلدی جلدی سامان باندھا اور باہر نکلنے لگا۔

مگر جیسے ہی وہ مین دروازے تک پہنچا…

پیچھے سے وہی آواز آئی۔

کڑرررر…

چھوٹا دروازہ دوبارہ کھل چکا تھا۔

زین نے ہمت کر کے آخری بار پیچھے دیکھا۔

اس دروازے کے اندر اب صرف ایک سایہ نہیں تھا۔

بلکہ درجنوں آنکھیں اندھیرے میں چمک رہی تھیں۔

اور سب اسے ہی دیکھ رہی تھیں۔

👁️ Aakhri Manzar

اگلی صبح پڑوسیوں نے فلیٹ خالی پایا۔

زین کہیں نہیں تھا۔

صرف وہ چھوٹا دروازہ کھلا ہوا تھا…

اور اندر سے آہستہ آہستہ سانس لینے کی آواز آ رہی تھی۔ 👻

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top