Gumshuda Awaaz
وہ آواز اب کہیں نہیں تھی… مگر اُس کی گونج ابھی تک اُس کے دل میں زندہ تھی۔ حمزہ کے فون میں ایک پرانا وائس نوٹ محفوظ تھا… جسے وہ ہر رات سونے سے پہلے سنتا تھا۔ وہ بس چند سیکنڈز کا تھا… مگر اُس میں پوری زندگی قید تھی۔ “حمزہ… سن رہے ہو؟ مجھے تم سے کچھ کہنا ہے…” ہر بار وہ یہی جملہ سن کر رک جاتا… جیسے آگے سننے کی ہمت نہ ہو، جیسے اگر وہ آگے سن لے گا تو سب کچھ ختم ہو جائے گا۔
عالیہ کو بولنا بہت پسند تھا۔ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو بھی کہانی بنا دیتی تھی۔ کبھی موسم کی بات، کبھی کسی چھوٹی سی یاد، کبھی بس یونہی… “آج میں نے تمہیں بہت یاد کیا…” اور حمزہ ہنستے ہوئے کہتا، “تمہارے پاس باتیں ختم نہیں ہوتیں؟” وہ فوراً جواب دیتی، “تم سننا بند نہ کرو، باتیں خود بنتی رہیں گی…”
وہ دونوں گھنٹوں فون پر رہتے… کبھی ہنسی، کبھی خاموشی… مگر کبھی بوجھ نہیں لگتا تھا۔ عالیہ کو وائس نوٹس بھیجنے کا عجیب شوق تھا۔ وہ کہتی، “ٹیکسٹ میں احساس نہیں آتا… آواز میں دل ہوتا ہے…” اور حمزہ اکثر اُنہیں سننے میں دیر کر دیتا… “بعد میں سن لوں گا…”
اُسے کیا پتا تھا… کچھ آوازیں “بعد میں” کے لیے نہیں ہوتیں۔
ایک دن… سب کچھ بدل گیا۔
اُس دن عالیہ نے ایک کے بعد ایک کئی وائس نوٹس بھیجے۔ ہر چند منٹ بعد ایک نیا نوٹ۔ حمزہ نے فون دیکھا… مگر وہ ایک میٹنگ میں تھا۔ اُس نے سوچا، “شام کو آرام سے سب سن لوں گا…”
مگر وہ شام کبھی نہیں آئی۔
اچانک ایک کال آئی… ایک اجنبی نمبر سے۔ دوسری طرف گھبرائی ہوئی آواز تھی… “ایکسیڈنٹ ہوا ہے… آپ فوری ہسپتال آئیں…”
حمزہ کے ہاتھ سن ہو گئے۔ وہ دوڑتا ہوا ہسپتال پہنچا… مگر دیر ہو چکی تھی۔
عالیہ جا چکی تھی۔
وقت جیسے وہیں رک گیا۔
حمزہ کئی گھنٹوں تک ہسپتال کے باہر بیٹھا رہا… نہ رو سکا، نہ کچھ کہہ سکا۔ پھر اچانک اُسے اپنے فون کا خیال آیا۔ اُس نے کانپتے ہاتھوں سے فون کھولا… وہی وائس نوٹس… جو اُس نے نہیں سنے تھے۔
اُس نے پہلا نوٹ چلایا…
“حمزہ… تم مصروف ہو شاید… بس یہ کہنا تھا کہ آج تم بہت یاد آ رہے ہو…”
دوسرا…
“مجھے تم سے ایک ضروری بات کرنی تھی… جب تم free ہو جاؤ تو call کر لینا…”
تیسرا…
چند لمحوں کی خاموشی… پھر اُس کی ہلکی سی آواز…
“پتہ نہیں کیوں… دل بہت گھبرا رہا ہے…”
حمزہ کے آنسو رُک نہیں رہے تھے۔ اُس نے ایک ایک کر کے سب نوٹس سنے… ہر لفظ اُس کے دل کو چیر رہا تھا۔ ہر آواز جیسے اُسے واپس بلا رہی تھی… مگر وہ نہیں جا سکتی تھی۔
پھر اُس نے آخری وائس نوٹ چلایا…
“حمزہ… سن رہے ہو؟ مجھے تم سے کچھ کہنا ہے…”
اور پھر…
خاموشی۔
وہ خاموشی اُس کی زندگی بن گئی۔
حمزہ نے اُس نوٹ کو بار بار سنا… سینکڑوں بار… ہزاروں بار… مگر ہر بار وہ وہی ادھورا جملہ سن کر رک جاتا۔ اُسے لگتا جیسے اگلی بار شاید وہ کچھ اور کہے… شاید وہ بات مکمل ہو جائے… مگر ہر بار وہی خاموشی رہتی۔
دن مہینوں میں بدل گئے… مگر حمزہ نہیں بدلا۔ وہ اب بھی ہر رات وہی نوٹ سنتا ہے۔ وہ اپنے فون کو سینے سے لگا کر آنکھیں بند کر لیتا ہے… جیسے وہ آواز اُس کے قریب آ جائے گی۔
کبھی کبھی وہ خود سے بات کرتا ہے…
“کیا کہنا تھا تم نے…؟”
مگر جواب میں صرف خاموشی ہوتی ہے۔
ایک دن اُس نے ہمت کر کے وہ نوٹ delete کرنے کا سوچا… تاکہ شاید وہ آگے بڑھ سکے۔ اُس نے delete کا option کھولا… انگلی screen پر رک گئی… آنکھوں میں آنسو آ گئے… اور پھر اُس نے phone بند کر دیا۔
کیونکہ وہ جانتا تھا…
اگر یہ آواز بھی چلی گئی…
تو اُس کے پاس کچھ بھی نہیں بچے گا۔
اب اُس کے لیے زندگی صرف ایک آواز رہ گئی ہے… ایک ادھورا جملہ… ایک نامکمل احساس۔
لوگ کہتے ہیں… وقت سب کچھ ٹھیک کر دیتا ہے…
مگر حمزہ کے لیے…
وقت نے بس ایک چیز دی ہے…
ایک گمشدہ آواز…
جو کبھی مکمل نہیں ہوگی۔
اور سب سے زیادہ دردناک بات یہ ہے…
وہ بات… جو وہ سننا چاہتا تھا…
وہ ہمیشہ کے لیے ادھوری رہ گئی۔ 😭💔






