Aakhri Call
رات کے ٹھیک 3:17 پر اُس کا فون بجا،اور نیند جیسے کسی نے اچانک توڑ دی ہو،عادل ہڑبڑا کر اُٹھ بیٹھا،کمرے میں مکمل خاموشی تھی مگر فون کی ringtone اُس خاموشی کو چیر رہی
تھی،اسکرین پر نظر پڑی تو اُس کا دل ایک لمحے کے لیے رک گیا،نام لکھا تھا “Zara Calling…” وہی زہرہ جسے مرے ہوئے چھ مہینے گزر چکے تھے،وہی زہرہ جسے اُس نے اپنی آنکھوں کے سامنے دفن ہوتے دیکھا تھا،اُس کے ہاتھ کانپنے لگے،اس نے آنکھیں زور سے بند کر کے دوبارہ کھولیں مگر نام اب بھی وہی تھا،فون بجتا رہا،بجتا رہا،جیسے کسی کو جلدی ہو،جیسے کوئی انتظار نہ کر پا رہا ہو۔
آخرکار اُس نے ہمت کر کے کال اٹھا لی،کان کے ساتھ فون لگاتے ہی مکمل خاموشی چھا گئی،چند سیکنڈ گزرے پھر ہلکی سی سانس لینے کی آواز سنائی دی،عادل کا گلا خشک ہو گیا،“ہیلو…؟” اُس نے دھیمی آواز میں کہا،دوسری طرف سے ایک سرگوشی آئی،اتنی آہستہ کہ جیسے زمین کے نیچے سے آ رہی ہو،“تم نے مجھے کیوں چھوڑ دیا…؟” عادل کا جسم سن ہو گیا،یہ آواز وہ کبھی نہیں بھول سکتا تھا،یہ زہرہ ہی تھی،مگر اُس آواز میں کچھ ٹوٹا ہوا تھا،کچھ ایسا جو زندہ انسان میں نہیں ہوتا۔
“یہ کون ہے؟یہ مذاق ہے؟” عادل نے گھبرا کر کہا،چند لمحے خاموشی رہی پھر ایک ہلکی سی ہنسی آئی،وہ ہنسی جو کبھی اُس کے دل کو سکون دیتی تھی،آج وہی ہنسی اُس کے اندر خوف بن کر اتر رہی تھی،“مذاق…؟تم نے مجھے دفن کر دیا…اور تمہیں لگا سب ختم ہو گیا…؟” عادل کے ذہن میں وہ رات گھوم گئی،اندھی سڑک،بارش،گاڑی کا اچانک پھسلنا،زہرہ کا چیخنا…اور پھر خاموشی،وہ اُس کے پاس گیا تھا،اُسے ہلایا تھا،مگر وہ حرکت نہیں کر رہی تھی،اور وہ ڈر کر بھاگ گیا تھا،یہ سوچ کر کہ وہ مر چکی ہے۔
فون پر آواز پھر آئی،“میں ابھی بھی وہیں ہوں…جہاں تم نے مجھے چھوڑا تھا…” عادل کی سانس تیز ہو گئی،اُس نے بغیر سوچے سمجھے گاڑی کی چابی اٹھائی اور رات کے اُس سنسان راستے کی طرف نکل پڑا،سڑک ویسی ہی تھی،ویران،خاموش،جیسے وقت وہاں رکا ہوا ہو،ہر درخت،ہر موڑ اُسے وہی لمحہ یاد دلا رہا تھا،جیسے ہی وہ اُس جگہ پہنچا،فون دوبارہ بجا،وقت پھر 3:17 تھا،اس نے فوراً کال اٹھائی،“میں یہاں ہوں…” آواز آئی۔
عادل نے ادھر ادھر دیکھا،کچھ نہیں تھا،صرف اندھیرا اور ٹھنڈی ہوا،پھر اُس کی نظر سڑک کے کنارے پڑی جہاں مٹی ہلکی سی اکھڑی ہوئی تھی،جیسے کسی نے حال ہی میں اُسے کھودا ہو،اُس کے قدم خود بخود اُس طرف بڑھنے لگے،فون کان سے لگا ہوا تھا،آواز نے کہا،“اور قریب آؤ…” اُس نے جھک کر مٹی کو ہاتھ لگایا،مٹی نرم تھی،اُس نے تھوڑا سا کھودا،اچانک اُس کے ہاتھ کسی چیز سے ٹکرائے،وہ ایک ہاتھ تھا…ٹھنڈا،سخت…مگر زندہ۔
عادل نے چیخنے کی کوشش کی مگر آواز گلے میں ہی رہ گئی،اچانک اُس ہاتھ نے اُس کی کلائی پکڑ لی،زور سے،اتنا زور کہ اُس کے ناخن اُس کی جلد میں دھنس گئے،فون سے وہی سرگوشی آئی،“اب کہاں جاؤ گے…؟” زمین آہستہ آہستہ ہلنے لگی،جیسے وہ سانس لے رہی ہو،اور پھر اُس کے پاؤں نیچے دھنسنے لگے،وہ پیچھے ہٹنا چاہتا تھا مگر اُس کا جسم اُس کا ساتھ نہیں دے رہا تھا،وہ زمین میں کھنچتا جا رہا تھا،ہر لمحہ تھوڑا اور نیچے،تھوڑا اور اندھیرے میں۔
آخری لمحے میں اُس نے فون کی اسکرین دیکھی،Call Duration: 00:06:66،اُس کی آنکھیں خوف سے پھیل گئیں،یہ وقت ممکن نہیں تھا…یہ وقت انسانوں کا نہیں تھا،اور پھر سب کچھ ختم ہو گیا۔
اگلی صبح لوگوں نے اُس سڑک کے کنارے ایک کھلا ہوا گڑھا دیکھا،مٹی بکھری ہوئی تھی،مگر عادل کہیں نہیں تھا،صرف اُس کا فون وہاں پڑا تھا،خاموش،بے جان…اچانک اُس کی اسکرین روشن ہوئی،ایک نئی کال آ رہی تھی،اس بار نام تھا “Adil Calling…” اور فون کے سپیکر سے ایک ہلکی سی سرگوشی سنائی دی…“اب تم نے بھی دیر کر دی…” 😨






