وہ ہمیشہ سفید کپڑوں سے نفرت کرتی تھی… مگر قسمت نے اُس کے لیے وہی رنگ چُن لیا تھا۔
شہروز کو آج بھی یاد ہے… جب پہلی بار اُس نے عروہ کو دیکھا تھا۔ وہ کالج کے صحن میں بیٹھی تھی، ہاتھ میں کتاب، اور چہرے پر عجیب سی خاموشی۔ باقی سب لڑکیاں ہنس رہی تھیں، باتیں کر رہی تھیں… مگر وہ الگ تھی۔ جیسے اُس کا دل کسی اور ہی دنیا میں رہتا ہو۔
شہروز نے اُس دن بس ایک بات نوٹ کی تھی…
وہ ہنستی بہت کم تھی… مگر جب ہنستی تھی، تو لگتا تھا جیسے پوری دنیا رک گئی ہو۔
دونوں کی دوستی آہستہ آہستہ محبت میں بدل گئی۔ نہ کوئی بڑے وعدے، نہ ڈرامہ… بس خاموش سی سمجھ۔ وہ گھنٹوں ساتھ بیٹھے رہتے… بغیر کچھ کہے بھی سب کچھ سمجھ لیتے
ایک دن عروہ نے اچانک کہا…
“اگر میں کبھی چلی گئی تو… مجھے بھول تو نہیں جاؤ گے؟”
شہروز نے ہنستے ہوئے کہا،
“تم کہاں جا رہی ہو؟ پاگل ہو کیا؟”
مگر اُس نے جواب نہیں دیا… بس دور کہیں دیکھتی رہی۔
وقت گزرتا گیا… اور سب کچھ ٹھیک لگ رہا تھا۔
پھر ایک دن… عروہ نے آنا بند کر دیا۔
پہلے ایک دن… پھر دو… پھر پورا ہفتہ۔
شہروز پریشان ہو گیا۔ اُس نے کال کی، میسج کیا… مگر کوئی جواب نہیں۔ آخرکار وہ اُس کے گھر پہنچ گیا۔
دروازہ اُس کی ماں نے کھولا… آنکھیں سوجی ہوئی تھیں۔
وہ ہسپتال میں ہے…
ہسپتال کے کمرے میں… عروہ بہت کمزور لگ رہی تھی۔ اُس کا چہرہ پیلا تھا… آنکھوں میں وہی خاموشی… مگر اب اُس میں تھکن بھی شامل تھی۔
شہروز کے دل میں کچھ ٹوٹ گیا۔
“تم نے بتایا کیوں نہیں…؟” اُس نے کانپتی آواز میں پوچھا۔
عروہ نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
تم روؤ گے…
“اور اب؟”
اب بھی روؤ گے…
ڈاکٹرز نے صاف کہہ دیا تھا… وقت بہت کم ہے۔
شہروز ہر دن اُس کے ساتھ بیٹھتا… اُس کا ہاتھ پکڑ کر۔ وہ دونوں کم بات کرتے تھے… کیونکہ اب الفاظ کم پڑ گئے تھے۔
ایک دن… عروہ نے آہستہ سے کہا،
“مجھے سفید رنگ اب اچھا لگنے لگا ہے…”
شہروز چونک گیا…
“کیوں؟”
وہ مسکرائی…
“کیونکہ اس میں سکون ہے…”
وہ اُن کی آخری بات تھی۔
اُس دن… پورا شہر خاموش تھا۔
شہروز ایک کمرے کے کونے میں کھڑا تھا… جہاں سب سفید تھا۔ دیواریں، چادریں… اور درمیان میں وہ…
عروہ۔
سفید کفن میں لپٹی ہوئی۔
شہروز کے قدم آگے نہیں بڑھ رہے تھے۔ وہ صرف دور سے اُسے دیکھ رہا تھا… جیسے یہ سب حقیقت نہ ہو۔
پھر آہستہ آہستہ وہ آگے بڑھا… اُس کے پاس بیٹھ گیا… اور پہلی بار اُس نے اُس سفید رنگ کو ہاتھ لگایا… جس سے وہ نفرت کرتی تھی۔
“تمہیں یہ رنگ پسند نہیں تھا…” اُس نے دھیمی آواز میں کہا۔
مگر اب کوئی جواب نہیں آیا۔
لوگ کہتے ہیں… وقت سب کچھ ٹھیک کر دیتا ہے۔
مگر شہروز کے لیے وقت وہیں رک گیا…
اُسی سفید لمحے میں۔
اب جب بھی وہ کسی کو سفید لباس میں دیکھتا ہے…
تو اُسے صرف ایک چیز یاد آتی ہے…
وہ لڑکی…
جو ہنسنا بھول گئی تھی…
اور پھر ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی۔
اور سب سے زیادہ دردناک بات یہ ہے…
جس رنگ سے وہ نفرت کرتی تھی…
آخرکار وہی اُس کی پہچان بن گیا۔ 😭💔






