Kafan
سردیوں کی ایک طویل اور سنسان رات تھی۔ ہوا میں ٹھنڈک اس قدر تھی کہ جسم کانپ اٹھے، مگر گھسیو اور اس کا بیٹا مادھو اپنی جھونپڑی کے باہر جلتی ہوئی آگ کے سامنے بیٹھے سکون سے آلو بھون رہے تھے۔ ان کے چہروں پر نہ کسی فکر کی جھلک تھی اور نہ ہی کسی پریشانی کا سایہ، حالانکہ جھونپڑی کے اندر مادھو کی بیوی بدھیا دردِ زہ میں تڑپ رہی تھی۔ اس کی کراہوں کی آوازیں باہر تک آ رہی تھیں، مگر باپ بیٹا جیسے ان آوازوں سے بے تعلق ہو چکے تھے۔ گھسیو نے ایک آلو آگ سے نکالا، اسے پھونک ماری اور آرام سے کھاتے ہوئے بولا کہ لگتا ہے یہ بچنے والی نہیں، جبکہ مادھو نے بے حسی سے جواب دیا کہ اگر مر جائے تو اچھا ہے، کم از کم روز روز کا یہ جھنجھٹ ختم ہو جائے گا۔ ان کے الفاظ میں نہ دکھ تھا نہ ہمدردی، جیسے دلوں میں کوئی احساس باقی نہ رہا ہو۔ وقت گزرتا گیا، رات گہری ہوتی گئی، اور بدھیا کی چیخیں آہستہ آہستہ خاموشی میں بدل گئیں۔ صبح کی ہلکی روشنی پھیلی تو معلوم ہوا کہ بدھیا اس دنیا سے جا چکی ہے۔ گاؤں والوں کو جب خبر ملی تو کچھ لوگوں کے دل میں رحم آیا، انہوں نے چندہ جمع کیا تاکہ اس غریب عورت کے لیے کفن خریدا جا سکے۔ گھسیو اور مادھو وہ پیسے لے کر بازار کی طرف روانہ ہوئے، مگر راستے میں ان کے ذہن میں ایک عجیب خیال آیا کہ کفن تو آخر جل ہی جائے گا، پھر کیوں نہ ان پیسوں سے کچھ کھا پی لیا جائے۔ یہ سوچ کر وہ سیدھے ایک شراب خانے میں جا پہنچے، جہاں انہوں نے خوب کھانا کھایا، شراب پی، اور اپنے غم کو بھلانے کے بجائے ایک عجیب سی خوشی میں ڈوب گئے۔ نشے کی حالت میں مادھو نے کہا کہ بدھیا بڑی اچھی تھی جو مر کر بھی ہمیں کھلا گئی، اور گھسیو نے اس بات پر قہقہہ لگایا جیسے یہ کوئی مذاق ہو۔ ان کی ہنسی اس عورت کی موت پر نہیں بلکہ اپنی وقتی آسائش پر تھی۔ اس طرح بدھیا کے کفن کے لیے جمع کیے گئے پیسے ان کی عیاشی میں خرچ ہو گئے، اور وہ عورت بغیر کفن کے ہی اس دنیا سے رخصت ہو گئی، جبکہ اس کے اپنے ہی لوگ اس کی موت کو بھی اپنے فائدے کا ذریعہ بنا بیٹھے۔






