وہ اندھیری گلی – dark street

رات کا وقت تھا، اور عائشہ اپنے دوست سارہ کے ساتھ گھر واپس جا رہی تھی۔ وہ دونوں یونیورسٹی سے باہر نکلی تھیں اور گلی میں چلتے ہوئے باتوں میں مشغول تھیں۔ گلی ویران تھی، اور آسمان پر بادل چھا چکے تھے، جو رات کو مزید سیاہ اور پراسرار بنا رہے تھے۔

“یہ گلی ہمیشہ مجھے عجیب لگتی ہے، سارہ، تمہیں نہیں لگتا؟” عائشہ نے کہا، جب وہ ایک سنسان گلی کے کنارے سے گزری۔

“کیسی عجیب؟” سارہ نے حیرت سے پوچھا۔

“پتہ نہیں، بس ہر بار جب یہاں سے گزرتی ہوں، کچھ عجیب سا محسوس ہوتا ہے، جیسے کوئی ہماری پیچھے پیچھے آ رہا ہو،” عائشہ نے کہا، اور اس کے ساتھ ہی اس کا دل تیز دھڑکنے لگا۔

“تم بہت زیادہ سوچ رہی ہو، بس! چلو جلدی چلتے ہیں، اس گلی سے نکل کر گھر پہنچ جائیں گے۔” سارہ نے عائشہ کو تسلی دی۔

لیکن جیسے ہی وہ گلی کے ایک اور حصے میں پہنچیں، عائشہ نے ایک سرسراہٹ سنی۔ وہ رکی اور سارہ کو بتایا، “تم نے وہ آواز سنی؟”

“کیا؟ کون سی آواز؟” سارہ نے پوچھا۔

عائشہ کا دل تیز تیز دھڑک رہا تھا، “یہ کوئی نہیں ہو سکتا، لیکن یہ آواز جیسے کسی کے قدموں کی ہو۔”

سارہ نے ہنستے ہوئے کہا، “عائشہ، تم تو پھر سے ڈر گئی ہو، چلو بس، ہم تھوڑی دیر میں گھر پہنچ جائیں گے۔”

لیکن جیسے ہی وہ آگے بڑھیں، عائشہ نے پھر سے وہ سرسراہٹ سنی۔ اس نے مڑ کر دیکھا، لیکن کچھ نہیں تھا۔ اس کی نظریں گلی کے کونے تک پہنچیں، اور وہاں، ایک سایہ دکھائی دیا جو آہستہ آہستہ ان کی طرف بڑھ رہا تھا۔

“سارہ!” عائشہ نے خوف کے عالم میں کہا، “دیکھو، وہ سایہ کیا ہے؟”

سارہ نے مڑ کر دیکھا، لیکن کچھ نظر نہیں آیا۔ “عائشہ، تم نے کیا دیکھا؟ کچھ نہیں ہے یہاں!”

عائشہ نے دل میں ایک خوف محسوس کیا اور سارہ کا ہاتھ پکڑ لیا، “ہمیں یہاں سے فوراً نکلنا ہوگا، سارہ!”

لیکن جب دونوں تیزی سے چلنے لگیں، وہ سایہ ان کے پیچھے آ رہا تھا، جیسے اس کے قدم بھی تیز ہو گئے ہوں۔ عائشہ نے پھر سے مڑ کر دیکھا، اور اس بار اس نے ایک خوفناک شکل دیکھی جو ان کے پیچھے آ رہی تھی — ایک کالی، بھٹکی ہوئی شکل، جس کا چہرہ ہڈیاں اور جلد سے غائب ہو چکا تھا، اور آنکھوں میں سیاہ غصہ تھا۔

“یہ کیا ہے؟!” سارہ چلا اٹھی، اور دونوں کی آنکھوں میں خوف کی ایک لہر دوڑ گئی۔

اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ عائشہ اور سارہ کی زندگی کا سب سے بدترین لمحہ بن گیا۔ وہ دونوں دوڑتے ہوئے گلی سے باہر نکل آئیں، اور جب تک وہ کسی محفوظ جگہ پر نہ پہنچیں، ان کا سانس رک چکا تھا۔

لیکن، وہ کالی شکل، وہ خوفناک آنکھیں، اور وہ قدم آج تک ان کے ساتھ ہیں۔

اب عائشہ اور سارہ کبھی بھی اس گلی سے نہیں گزرتیں، اور جب بھی وہ گلی کے قریب سے گزرتی ہیں، انہیں وہ قدموں کی آواز سنائی دیتی ہے، جیسے وہ سایہ پھر سے ان کے پیچھے آ رہا ہو۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top