یہ کہانی ایک چھوٹے سے گاؤں کی ہے جہاں ایک پراسرار بنگلا تھا جسے “بھو ت بنگلا” کے نام سے جانا جاتا تھا۔ گاؤں والے اس بنگلے کو دیکھ کر خوف میں مبتلا ہو جاتے تھے اور ہمیشہ اس کے قریب جانے سے کتراتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ اس بنگلے میں ایک دیو رہتا تھا، جس کی آواز کبھی کبھی رات کے وقت سنی جاتی تھی۔
ایک دن، ایک نوجوان لڑکی، سارہ، جو گاؤں میں نئی آئی تھی، اس بنگلے کے بارے میں سن کر بہت پرجوش ہوئی۔ اس نے طے کیا کہ وہ اس بنگلے کا راز جانے گی اور اس دیو کی آواز کا پردہ فاش کرے گی۔ سارہ کو ہمیشہ سے پراسرار چیزوں میں دلچسپی تھی اور وہ اس راز کو حل کرنے کے لیے بے تاب تھی۔
سارہ نے ایک رات بنگلے کا رخ کیا۔ چاندنی رات تھی اور گاؤں میں سناٹا چھایا ہوا تھا۔ جب سارہ بنگلے کے قریب پہنچی، اس نے ایک عجیب سی آواز سنی، جیسے کوئی دھیمی دھیمی سرسراہٹ کر رہا ہو۔ اس آواز نے سارہ کو خوف میں مبتلا کر دیا، لیکن وہ ہمت کر کے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی۔
اندر کی فضاء میں ایک سرد ہوا چل رہی تھی، اور سارہ نے دیکھا کہ بنگلے کے کمرے میں کسی کی شکل نظر آ رہی تھی۔ یہ شکل دھندلی اور پراسرار تھی، لیکن اس کا جسم کسی دیو کے جیسا تھا۔ سارہ کے قدم کانپتے ہوئے آگے بڑھے، اور اس نے اس دیو کی طرف دیکھتے ہوئے کہا: “تم کون ہو؟”
دیو کی آواز میں ایک غمگین سرگوشی تھی، “میں وہ ہوں جسے تم سب بھول گئے ہو، اور اب تم مجھے واپس لے کر آئی ہو۔”
سارہ نے دل میں خوف کی شدت محسوس کی، لیکن اس نے جرات کی اور پوچھا: “تم کیا چاہتے ہو؟”
دیو نے دھیرے دھیرے کہا: “میں وہ ہوں جو تمہیں ماضی کی حقیقت دکھاؤں گا، لیکن تمہیں میری قیمت ادا کرنی ہوگی۔”
سارہ نے اس کی باتوں کو سن کر خوف کی بجائے تجسس محسوس کیا، اور پھر اس نے کہا: “اگر تم مجھے حقیقت دکھا سکتے ہو، تو میں تمہاری قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہوں۔”
دیو نے سارہ کو ماضی کی ایک خوفناک حقیقت دکھائی، جب بنگلے میں ایک قتل ہوا تھا اور دیو کی روح نے اس کی جگہ لے لی تھی۔ وہ اب تک اس گناہ کی سزا کاٹ رہا تھا، اور سارہ نے وعدہ کیا کہ وہ اس کا راز گاؤں والوں کو بتا کر اس کی روح کو سکون دے گی۔
اگلے دن، سارہ گاؤں والوں کو بتانے آئی، اور بنگلے کے قریب جاکر دیو کی روح کو آزادی دلائی۔ اس کے بعد وہ بنگلہ ہمیشہ کے لیے سنسان ہوگیا، اور دیو کی آواز گاؤں میں کبھی نہیں سنی گئی۔






