“تمہیں مرنا ہوگا!” یہ الفاظ ایک طاقتور آواز نے فہد کے کانوں میں گونجتے سنے، اور وہ سہم کر پیچھے ہٹ گیا۔ لیکن پھر اس نے خود کو سنبھالا اور کہا، “اگر تمہاری یہ خواہش ہے، تو میں تمہاری آزمائش کو قبول کرتا ہوں، کیونکہ میرے دل میں ایک ایسا ایمان ہے جو مجھے اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرا سکتا۔”
یہ واقعہ اُس رات کا تھا جب فہد ایک نیک اور ایماندار نوجوان تھا، جو اپنے والدین کی خدمت اور گاؤں والوں کی مدد کرنے میں ہمیشہ پیش پیش رہتا تھا۔ لیکن اُس رات اس کی زندگی کا سب سے بڑا امتحان آیا۔ فہد ایک پراسرار آدمی کے سامنے تھا، جس نے اسے چیلنج کیا تھا کہ وہ اپنے ایمان کی مضبوطی ثابت کرے۔ یہ آدمی کوئی اور نہیں، بلکہ گاؤں کے بزرگ کا پرانا دشمن تھا، جو فہد کے ایمان کو آزمانا چاہتا تھ
فہد نے ہمیشہ اپنی زندگی میں صبر اور یقین کو اپنایا تھا، لیکن وہ اس وقت ہچکچایا نہیں، کیونکہ اس کے دل میں اللہ کی رضا کی خاطر ہر چیلنج کو قبول کرنے کا جذبہ تھا۔
گاؤں کے لوگ فہد کے بارے میں جانتے تھے کہ وہ نہ صرف اپنی محبت سے، بلکہ ایمان کی پختگی اور اللہ کی رضا میں کام کرنے کے لیے بھی جانا جاتا ہے۔ وہ لوگوں کو قرآن کی تعلیم دیتا، ان کی مشکلات حل کرتا اور ہمیشہ اچھے کاموں میں شریک رہتا۔ لیکن اس کی ایمان کی اصل آزمائش اُس رات ہوئی۔
اس رات فہد نے ایک فیصلہ کیا تھا جو اسے باقی ساری زندگی یاد رہنے والا تھا۔ اس نے اپنے ایمان کو ثابت کرنے کے لیے اللہ کا نام لیا اور کہا: “اگر میں مر جاؤں، تو میں اللہ کے راستے میں مرنا چاہوں گا، اور اگر میری زندگی بچ گئی، تو یہ اللہ کی مہربانی ہوگی۔”
آج وہ پراسرار شخص جس نے فہد کے ایمان کو آزمایا تھا، وہ بھی سرنگوں تھا، کیونکہ فہد کا ایمان اتنا مضبوط تھا کہ وہ سچ میں کبھی نہیں ہار سکتا تھا۔
اس کہانی کے بعد، گاؤں والوں نے فہد کی ہمت اور اللہ پر ایمان کی طاقت کو سراہا اور اس نے اپنے ایمان کے ساتھ زندگی گزارنے کا سبق دیا۔


