Chhupa Hua Mehmaan — چھپا ہوا مہمان

Chhupa Hua Mehmaan

وہ گھر ہمیشہ سے خاموش تھا،مگر اُس رات خاموشی کچھ زیادہ ہی بھاری لگ رہی تھی،جیسے دیواریں بھی سانس لے رہی ہوں۔ سعد نے ابھی ابھی نیا فلیٹ لیا تھا،سستا تھا…اتنا سستا کہ اُس نے پوچھا بھی نہیں کیوں،بس shift ہو گیا۔ پہلی دو راتیں ٹھیک گزریں،مگر تیسری رات سب بدل گیا۔ رات کے قریب 2 بج رہے تھے جب اُس کی آنکھ اچانک کھل گئی،کوئی آواز نہیں تھی…مگر پھر بھی جیسے کسی نے جگایا ہو۔ اُس نے کمرے میں نظر دوڑائی،سب کچھ ویسا ہی تھا،مگر ایک چیز مختلف تھی…کچن کی لائٹ آن تھی،حالانکہ اُس نے سونے سے پہلے سب بند کی تھیں۔

وہ آہستہ آہستہ اُٹھا،دل کی دھڑکن تیز تھی،کچن کی طرف بڑھا۔ لائٹ واقعی آن تھی،اور سنک کے پاس پانی کے قطرے گر رہے تھے،جیسے ابھی کسی نے نل بند کیا ہو۔ سعد نے فوراً نل چیک کیا…بند تھا۔ اُس نے خود کو سمجھایا،“شاید میں بھول گیا ہوں…” اور واپس کمرے میں آ گیا،مگر نیند اب نہیں آ رہی تھی۔ وہ بستر پر لیٹا چھت کو گھور رہا تھا کہ اچانک اُسے لگا جیسے کمرے کے کونے میں کچھ ہلا ہے۔ وہ فوراً اُٹھ کر بیٹھ گیا،اندھیرا تھا…مگر مکمل نہیں،کھڑکی سے ہلکی روشنی آ رہی تھی،اور اُس روشنی میں اُسے لگا جیسے کوئی سایہ دیوار سے الگ ہو کر دوبارہ اُس میں گھل گیا ہو۔ اُس نے فوراً لائٹ آن کر دی…کمرہ خالی تھا۔

وہ ہنسا،“میں خود کو ڈرا رہا ہوں…” اُس نے کہا اور لائٹ بند کر کے دوبارہ لیٹ گیا،مگر اب اُس کا دھیان ایک اور چیز پر گیا…کمرے کے دروازے کے نیچے سے ہلکی سی روشنی آ رہی تھی،حالانکہ باہر ساری لائٹس بند تھیں۔ اُس نے دروازہ کھولا…باہر اندھیرا تھا۔ اُس رات اُس نے لائٹ آن کر کے ہی سونے کا فیصلہ کیا،اور کسی طرح آنکھ لگ گئی۔

اگلی صبح سب کچھ نارمل تھا،جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو،مگر شام کو جب وہ کام سے واپس آیا تو دروازہ اندر سے لاک نہیں تھا،حالانکہ وہ ہمیشہ لاک کرتا تھا۔ وہ اندر آیا،سب کچھ اپنی جگہ تھا…مگر ایک چیز نئی تھی۔ ڈائننگ ٹیبل پر ایک پلیٹ رکھی تھی…جس میں آدھا کھایا ہوا کھانا تھا۔ سعد کا گلا خشک ہو گیا،وہ پورا دن باہر تھا…پھر یہ کھانا کس نے کھایا؟ اُس نے پورا گھر چیک کیا…کوئی نہیں تھا۔

رات آئی…اور اس بار اُس نے سونے سے پہلے پورا گھر لاک کیا،ہر دروازہ،ہر کھڑکی،حتیٰ کہ الماری بھی چیک کی،پھر بھی دل مطمئن نہیں تھا۔ 2:27 پر اُس کی آنکھ دوبارہ کھلی،اس بار آواز آئی…چبانے کی آواز،“چپ…چپ…چپ…” وہ آہستہ سے اُٹھا،آواز کچن سے آ رہی تھی،دل زور سے دھڑک رہا تھا۔ وہ آہستہ آہستہ دروازے تک گیا،اور کچن کی طرف جھانکا…کوئی تھا۔

ایک آدمی…یا شاید آدمی نہیں…وہ جھکا ہوا تھا،اور پلیٹ سے کھا رہا تھا،مگر اُس کی حرکتیں عجیب تھیں،بہت آہستہ…بہت غیر فطری،جیسے ہر حرکت سوچ سمجھ کر کی جا رہی ہو۔ سعد کے پاؤں جم گئے۔ اچانک وہ چیز رک گئی۔ بغیر مُڑے…اُس نے کہا،“تم جاگ گئے…؟” آواز بالکل سعد جیسی تھی۔

سعد پیچھے ہٹنا چاہتا تھا،مگر اُس کا جسم نہیں ہلا۔ وہ چیز آہستہ آہستہ سیدھی ہوئی…اور مُڑی۔ وہ سعد ہی تھا…مگر اُس کی آنکھیں خالی تھیں۔ وہ مسکرایا،“میں کافی دنوں سے یہاں ہوں…تم بس دیر سے آئے ہو…” سعد کے ہاتھ کانپنے لگے،سانس تیز ہو گئی،وہ چیخنا چاہتا تھا مگر آواز گلے میں ہی رک گئی۔

اگلے دن پڑوسیوں نے فلیٹ کا دروازہ کھلا پایا،اندر سب کچھ ٹھیک تھا،سوائے ایک چیز کے…ڈائننگ ٹیبل پر دو پلیٹیں رکھی تھیں،دونوں میں آدھا کھانا باقی تھا۔ اور بیڈ روم کے آئینے پر انگلی سے لکھا تھا…“اب ہم دونوں رہتے ہیں

1 thought on “Chhupa Hua Mehmaan — چھپا ہوا مہمان”

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top