Ruki Hui Lift — رکی ہوئی لفٹ
پہلی بار سعد نے اس بات پر زیادہ دھیان نہیں دیا تھا، مگر دوسری بار اُس کے جسم میں ایک عجیب سی سردی دوڑ گئی۔ وہ ایک نئی آفس بلڈنگ میں نائٹ شفٹ کرتا تھا، جہاں صرف 12 فلورز تھے… کم از کم سب یہی کہتے تھے۔ اُس رات جب وہ لفٹ میں داخل ہوا تو اُس نے 5th فلور کا بٹن دبایا اور خاموشی سے کھڑا ہو گیا۔ لفٹ آہستہ آہستہ اوپر جانے لگی، 1… 2… 3… سب کچھ بالکل نارمل تھا، مگر اچانک لفٹ جھٹکے سے رکی اور اسکرین پر نمبر ظاہر ہوا… 13۔ سعد کا دل ایک لمحے کے لیے رک گیا۔ “یہ کیسے ممکن ہے…؟” اُس نے خود سے سرگوشی کی، کیونکہ اس عمارت میں تو 13واں فلور تھا ہی نہیں۔
دروازہ آہستہ آہستہ کھلا… اور باہر مکمل اندھیرا تھا۔ کوئی روشنی نہیں، کوئی آواز نہیں… صرف ایک بے جان سا سناٹا۔ سعد کے قدم خود بخود آگے بڑھنے لگے جیسے کوئی اُسے بلا رہا ہو، مگر عین اسی لمحے لفٹ کی لائٹس تیزی سے جھلملانے لگیں۔ وہ گھبرا کر فوراً پیچھے ہٹ گیا اور لفٹ کے اندر ہی کھڑا رہا۔ دروازہ خود بخود بند ہو گیا اور لفٹ دوبارہ نیچے جانے لگی۔ اُس نے خود کو سمجھایا کہ شاید یہ کوئی ٹیکنیکل مسئلہ ہوگا، مگر اُس کے دل میں ایک انجانا خوف بیٹھ چکا تھا۔
اگلی رات پھر وہی ہوا۔ ٹھیک اسی وقت، وہی لفٹ… اور اسکرین پر دوبارہ 13۔ اس بار جیسے ہی دروازہ کھلا، ایک عجیب سی بدبو اندر آئی… جیسے کچھ سڑ رہا ہو۔ سعد نے باہر نہ نکلنے کا فیصلہ کیا، مگر جیسے ہی اُس نے بٹن دبانے کے لیے ہاتھ بڑھایا، اُس کی نظر لفٹ کے کونے پر پڑی… جہاں کوئی کھڑا تھا۔ وہ وہاں پہلے نہیں تھا۔ ایک لمبی، سیاہ سی شکل، جھکی ہوئی… جس کا چہرہ نظر نہیں آ رہا تھا۔ سعد کے ہاتھ کانپنے لگے، اُس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔
وہ چیز آہستہ آہستہ سر اٹھاتی ہے… اور اُس کی آنکھیں مکمل سیاہ تھیں۔ “تم ہر رات آتے ہو…” اُس نے ایک بھاری، ٹھنڈی آواز میں کہا۔ سعد کے لب خشک ہو گئے۔ “میں… میں یہاں نہیں آنا چاہتا…” اُس نے مشکل سے کہا۔ وہ چیز ہلکا سا مسکرائی… “مگر لفٹ تمہیں لے آتی ہے…” اُس کی آواز لفٹ کی دیواروں سے ٹکرا کر گونجنے لگی۔
اچانک لفٹ کے سارے بٹن خود بخود جلنے لگے، ایک ایک کر کے… 1، 2، 3… سب ایک ساتھ روشن ہو گئے۔ دروازہ بند ہوا اور لفٹ تیزی سے اوپر جانے لگی… 10… 11… 12… اور پھر ایک بار پھر… 13۔ اس بار دروازہ کھلا تو وہ سیاہ چیز سعد کے بالکل سامنے کھڑی تھی۔ اُس نے آہستہ سے سرگوشی کی… “اب تم یہی رہو گے…”
اگلی صبح آفس میں سب کچھ نارمل تھا۔ لوگ آ جا رہے تھے، لفٹ بھی ویسے ہی کام کر رہی تھی جیسے ہمیشہ کرتی تھی۔ مگر سعد کہیں نہیں ملا۔ اُس کا کوئی نشان نہیں تھا، جیسے وہ کبھی یہاں تھا ہی نہیں۔
کہتے ہیں اُس عمارت کی لفٹ میں آج بھی کبھی کبھار “13” ظاہر ہو جاتا ہے… اور اگر کوئی اُس فلور پر اُتر جائے… تو وہ کبھی واپس نہیں آتا۔ 😈






