Raat 3 baje ki dastak
پہلی رات اُس نے صرف ایک آواز سنی تھی… دروازے پر ہلکی سی دستک۔ تین بار۔ ٹھک… ٹھک… ٹھک… علی نے آنکھیں کھول دیں، کمرہ مکمل اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا اور گھڑی نے ٹھیک 3:00 بجے دکھایا۔ اُس نے خود کو سمجھایا کہ شاید یہ وہم ہے، مگر پھر وہی آواز دوبارہ آئی… ٹھک… ٹھک… ٹھک… اس بار اُس کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ وہ آہستہ سے اُٹھا اور دروازے کے قریب جا کر رک گیا۔ “کون ہے…؟” اُس نے دھیمی آواز میں پوچھا۔ باہر سے کوئی جواب نہیں آیا، صرف ایک گہری خاموشی۔
علی نے ہمت کر کے دروازہ کھولا، مگر باہر کوئی نہیں تھا۔ لمبی سنسان راہداری، مدھم روشنی، اور عجیب سی ٹھنڈک۔ وہ پلٹنے ہی والا تھا کہ اُس کی نظر فرش پر پڑی… گیلے قدموں کے نشان، جیسے کوئی ابھی ابھی اندر آیا ہو۔ اُس کا گلا خشک ہو گیا۔ وہ کچھ دیر وہیں کھڑا رہا، پھر جلدی سے کمرے میں واپس آ گیا، مگر اُس رات وہ سو نہ سکا۔
اگلی رات پھر وہی وقت… 3:00 بجے۔ ٹھک… ٹھک… ٹھک… اس بار آواز زیادہ قریب تھی، جیسے کوئی دروازے کے بالکل ساتھ کھڑا ہو۔ علی نے کان دروازے سے لگایا تو دوسری طرف سے ہلکی سی سانس لینے کی آواز آ رہی تھی… ٹھنڈی، آہستہ… اور پھر ایک سرگوشی: “دروازہ کھولو…” علی کے جسم میں سردی دوڑ گئی۔ اس بار اُس نے دروازہ نہیں کھولا، مگر اچانک ہینڈل خود بخود ہلا… اور دروازہ آہستہ آہستہ کھلنے لگا۔
دروازے کے پیچھے گہرا اندھیرا تھا… مگر اُس اندھیرے میں کچھ موجود تھا۔ ایک لمبی، ٹیڑھی سی شکل، جس کا چہرہ جیسے مٹا دیا گیا ہو… صرف دو سیاہ، خالی آنکھیں۔ وہ آہستہ آہستہ علی کی طرف بڑھنے لگی۔ علی کے قدم جیسے زمین سے چپک گئے۔ وہ ہل بھی نہیں پا رہا تھا۔ پھر اُس چیز نے وہی سرگوشی کی: “تم نے پہلی رات دروازہ کیوں کھولا تھا…؟”
اگلی صبح علی کہیں نہیں ملا۔ کمرہ خالی تھا، دروازہ کھلا ہوا، اور فرش پر صرف گیلے قدموں کے نشان تھے… جو باہر نہیں، بلکہ اندر کی طرف جا رہے تھے۔ تب سے اُس عمارت میں جو بھی نیا آتا ہے، اُسے پہلی رات ٹھیک 3:00 بجے وہی دستک سنائی دیتی ہے… ٹھک… ٹھک… ٹھک… اور کہتے ہیں… جو بھی دروازہ کھول دیتا ہے… وہ کبھی واپس نہیں آتا۔






