Meri Biwi Mar Chuki Thi… Phir Woh Kaun Thi?” 😳

Meri Biwi Mar Chuki Thi
تمہاری بیوی تو دو سال پہلے مر چکی ہے…” پولیس آفیسر کے یہ الفاظ سن کر اذان کے ہاتھ سے چائے کا کپ گر گیا۔ اس کے سامنے بیٹھی لڑکی—جو پچھلے چھ مہینوں سے اس کے ساتھ رہ رہی تھی اور جسے وہ اپنی بیوی کہتا تھا—خاموشی سے اسے دیکھ رہی تھی۔ “یہ جھوٹ ہے…” اذان نے دھیمی آواز میں کہا، مگر اس کے دل میں ایک عجیب سا خوف پیدا ہو چکا تھا، کیونکہ سچ کیا تھا وہ خود بھی نہیں جانتا تھا۔ اذان کی زندگی اس حادثے کے بعد بدل گئی تھی جب دو سال پہلے اس کی بیوی زویا ایک کار ایکسیڈنٹ میں مر گئی تھی۔ اس نے خود اس کی لاش دیکھی تھی، خود اسے دفن کیا تھا، اور اس دن کے بعد وہ تنہا رہنے لگا تھا، لوگوں سے دور اور یادوں میں گم۔

پھر ایک دن سب کچھ بدل گیا۔ بارش کی ایک رات دروازے پر دستک ہوئی، اذان نے دروازہ کھولا تو سامنے زویا کھڑی تھی—بالکل ویسی ہی جیسے دو سال پہلے تھی۔ “تم…؟” اس کی آواز کانپ گئی۔ زویا نے مسکرا کر کہا، “میں واپس آ گئی ہوں…” اذان نے بغیر کچھ سوچے اسے گلے لگا لیا۔ اس نے کوئی سوال نہیں کیا، کیونکہ بعض خوشیاں سوالوں سے بڑی ہوتی ہیں۔ چھ مہینے تک سب کچھ ٹھیک چلتا رہا، وہ دونوں ایک عام زندگی گزارنے لگے۔ زویا وہی تھی—اس کی عادتیں، اس کی باتیں، سب کچھ ویسا ہی تھا، مگر کبھی کبھی وہ عجیب جملے کہہ دیتی، “اگر میں وہ نہ ہوں جو تم سمجھتے ہو تو؟” اور اذان اسے مذاق سمجھ کر نظر انداز کر دیتا۔

پھر وہ دن آیا جب پولیس اس کے دروازے پر آئی۔ انہوں نے ایک فائل کھولی اور تصویر سامنے رکھی، وہ زویا ہی تھی مگر نیچے تاریخ لکھی تھی—دو سال پہلے وفات۔ اذان کے لیے یہ سب ناقابلِ یقین تھا۔ “یہ ممکن نہیں… وہ میرے ساتھ ہے…” پولیس آفیسر نے سنجیدگی سے کہا، “آپ جس کے ساتھ رہ رہے ہیں وہ آپ کی بیوی نہیں ہو سکتی۔” اس رات اذان نے پہلی بار زویا کو غور سے دیکھا، جیسے وہ اسے پہچاننے کی کوشش کر رہا ہو۔ “تم کون ہو؟” اس نے آخرکار پوچھ لیا۔ کمرے میں خاموشی چھا گئی، پھر وہ لڑکی ہلکی سی مسکرائی اور بولی، “اگر میں سچ بتا دوں تو کیا تم مجھے چھوڑ دو گے؟” اذان خاموش رہا۔

کچھ لمحوں بعد اس نے سچ بتا دیا، “میں زویا نہیں ہوں…” اذان کے اندر جیسے سب کچھ ٹوٹ گیا۔ حقیقت یہ تھی کہ وہ زویا کی بہن تھی، جو ہمیشہ دور رہتی تھی۔ زویا کی موت کے بعد اس نے اذان کو ٹوٹتے دیکھا اور آہستہ آہستہ اس کی زندگی میں آ کر خود کو زویا کی جگہ دے دی۔ “میں تمہیں اکیلا نہیں دیکھ سکتی تھی…” اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ اذان خاموش کھڑا رہا، یہ دھوکہ تھا مگر اس دھوکے میں ایک عجیب سی محبت بھی شامل تھی۔ “اب تم کیا کرو گے؟” اس نے پوچھا۔ اذان نے گہری سانس لی اور کہا، “میں اب حقیقت کے ساتھ جینا سیکھوں گا…” وہ لڑکی خاموشی سے چلی گئی۔

کچھ مہینوں بعد اذان ایک قبر کے سامنے کھڑا تھا۔ “تم واقعی چلی گئی ہو…” اس نے آہستہ سے کہا۔ اس بار اس کے لہجے میں سکون تھا، کیونکہ وہ سچ کو قبول کر چکا تھا۔ اسے آخرکار یہ سمجھ آ گیا تھا کہ بعض اوقات ہم جھوٹ میں اس لیے جیتے ہیں کیونکہ سچ برداشت کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top