Khol Do – sad urdu story

تقسیمِ ہند کے خونی فسادات میں ہر طرف آگ، چیخیں اور بچھڑنے کی کہانیاں تھیں۔کھول دو کہانی | سعادت حسن منٹو کی دل دہلا دینے والی مختصر کہانی
انہی حالات میں ایک بوڑھا شخص، سراج الدین، اپنی جوان بیٹی سکینہ سے جدا ہو جاتا ہے۔ اس کی بیوی اس کے سامنے ہی مار دی جاتی ہے، اور وہ اپنی بیٹی کو لے کر بھاگنے کی کوشش کرتا ہے… مگر ہجوم میں وہ بھی اس سے بچھڑ جاتی ہے۔

سراج الدین ہوش میں آتا ہے تو خود کو ایک مہاجر کیمپ میں پاتا ہے۔ اس کی آنکھوں میں صرف ایک ہی سوال ہوتا ہے:
“میری سکینہ کہاں ہے؟”

وہ دن رات کیمپوں، سڑکوں اور قافلوں میں اپنی بیٹی کو ڈھونڈتا رہتا ہے۔
ہر آتے جاتے شخص سے پوچھتا ہے، ہر لڑکی کے چہرے میں اپنی بیٹی کو تلاش کرتا ہے… مگر سکینہ کہیں نہیں ملتی۔

ایک دن چند نوجوان اس کے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں:
“چچا، فکر نہ کرو… ہم آپ کی بیٹی کو ڈھونڈ لائیں گے۔”

سراج الدین کے دل میں ایک بار پھر امید جاگ اٹھتی ہے۔ وہ ہر دن ان کا انتظار کرتا ہے۔

کئی دن گزر جاتے ہیں۔

پھر ایک دن کچھ لوگ ایک بے ہوش لڑکی کو ہسپتال چھوڑ جاتے ہیں۔
اس کا جسم کمزور، کپڑے بکھرے ہوئے، اور چہرہ بالکل بے جان ہوتا ہے… جیسے وہ زندہ ہو کر بھی زندہ نہ ہو۔

ہسپتال میں ڈاکٹر اس کا معائنہ کر رہا ہوتا ہے۔
اسی دوران سراج الدین بھی وہاں پہنچ جاتا ہے، اپنی بیٹی کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے۔

وہ لڑکی کے چہرے کو غور سے دیکھتا ہے… اور کانپتی ہوئی آواز میں کہتا ہے:
“سکینہ…؟”

ڈاکٹر کھڑکی کی طرف دیکھ کر کہتا ہے:
“کھول دو”

اور اسی لمحے… وہ بے حس سی پڑی لڑکی اپنے ہاتھوں سے اپنی شلوار کی ڈوری کھول دیتی ہے۔

یہ منظر دیکھ کر سراج الدین خوشی سے چیخ اٹھتا ہے:
“زندہ ہے! میری بیٹی زندہ ہے!”

مگر حقیقت اس خوشی سے کہیں زیادہ بھیانک ہوتی ہے…
کیونکہ وہ لڑکی اب وہ سکینہ نہیں رہی جو کبھی تھی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top