وہ ہسپتال کا کمرہ اس وقت تک خاموش تھا جب تک مشین کی بیپ کے ساتھ اُس کا ہاتھ میرے ہاتھ سے نہیں نکل گیا تھا۔ میں جانتی تھی کہ یہ لمحہ آخر ہے، مگر دل میں یہ یقین کر بیٹھی تھی کہ شاید یہ ایک اور جھوٹ ہے، ایک اور لمحہ جو نظرانداز ہو جائے گا، ایک اور وعدہ جو کبھی پورا نہیں ہو گا۔
میں اپنی ماں کا ہاتھ تھامے بیٹھی تھی، اور جب اس کی آنکھوں میں تھکن اور درد کی جھلک دکھائی دی، تو میں نے اُس سے کچھ نہ پوچھا۔ ہم دونوں خاموش تھے، کیونکہ الفاظ کی ضرورت نہیں تھی۔ اس نے ہمیشہ مجھے بتایا تھا کہ زندگی میں جو کچھ بھی ہوتا ہے، وہ ہمارے لیے ہے۔ مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ میں اس کے بغیر زندہ نہیں رہ پاؤں گی۔
وہ میرے سامنے تھی، ایک زندہ یاد، ایک حقیقت جس نے مجھے اپنے وجود کے بارے میں سب کچھ سکھایا تھا، اور اب وہ مجھے چھوڑ کر جا رہی تھی۔ میں نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ میں اس لمحے میں ہوں گی، اور اب جب وہ لمحہ آیا تھا، میری ساری دنیا رک گئی تھی۔
اچانک اس کا ہاتھ میری گرفت سے نکل گیا، اور کمرے میں سکوت چھا گیا۔ اس کے جانے کے بعد میں نے محسوس کیا کہ دنیا نے مجھے اس کے بغیر چھوڑ دیا ہے۔ یہ بھیانک احساس تھا کہ آپ کا سب سے قریبی رشتہ آپ سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہو گیا ہو۔
یہ آخری لمحہ تھا جب میں نے اس سے کچھ نہیں کہا، لیکن میں جانتی تھی کہ وہ ہر بات سمجھ رہی تھی، کیونکہ ماں کی محبت بے زبان ہوتی ہے۔ اس کے جانے کے بعد، میں نے اُس کے ہاتھ کو دوبارہ تھاما اور کہا، “شکریہ، تم نے مجھے سچائی سکھائی، اور میں تمہیں ہمیشہ یاد رکھوں گی۔”






