💔 Mohabbat Bhi Ek Imtehaan Hai

💔 Mohabbat Bhi Ek Imtehaan Hai
رات کے پچھلے پہر کی خاموشی میں اذانِ فجر کی ہلکی سی آواز گونج رہی تھی۔ شہر ابھی نیند میں تھا مگر عائزہ کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں۔ وہ جائے نماز پر بیٹھی تھی، آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اور ہونٹوں پر ایک ہی دعا تھی: “یا اللہ… اگر یہ محبت میرے لیے ٹھیک نہیں، تو اسے میرے دل سے نکال دے…” مگر کچھ دعائیں آسانی سے قبول نہیں ہوتیں کیونکہ وہ صرف الفاظ نہیں ہوتیں بلکہ دل کے ٹکڑے ہوتی ہیں۔ عائزہ ہمیشہ سے ایک سادہ اور دین دار لڑکی تھی۔ اس کی زندگی کے اصول واضح تھے—نماز، حیا اور اپنے رب پر مکمل یقین۔ وہ ان لڑکیوں میں سے نہیں تھی جو محبت کے خواب دیکھتی ہیں، مگر زندگی ہمیشہ ہمارے اصولوں کے مطابق نہیں چلتی۔

حمزہ اس کی زندگی میں ایسے داخل ہوا جیسے کوئی روشنی اندھیرے کمرے میں آ جائے۔ وہ اس کا یونیورسٹی سینئر تھا، پراعتماد، ذہین اور باتوں میں ایک عجیب سی کشش رکھنے والا۔ شروع میں عائزہ نے اس سے فاصلہ رکھا مگر حمزہ کی مسلسل توجہ اور خیال رکھنے والے انداز نے آہستہ آہستہ اس کے دل میں جگہ بنا لی۔ ایک دن حمزہ نے کہا، “تم بہت مختلف ہو…” عائزہ نے نظریں جھکا کر پوچھا، “کیسے؟” وہ مسکرایا، “باقی سب لڑکیوں جیسی نہیں… تم میں سکون ہے۔” یہ الفاظ عائزہ کے دل میں کہیں گہرے اتر گئے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان کی باتیں بڑھتی گئیں، پہلے پڑھائی، پھر عام باتیں اور پھر دل کی باتیں۔ عائزہ کو احساس ہونے لگا تھا کہ وہ بدل رہی ہے اور اس کی دعاؤں میں اب حمزہ شامل ہو گیا تھا۔

مگر ہر محبت آسان نہیں ہوتی۔ ایک دن عائزہ کو پتا چلا کہ حمزہ پہلے سے ہی کسی اور کے ساتھ وابستہ ہے۔ یہ حقیقت اس کے لیے کسی صدمے سے کم نہ تھی۔ اس نے کانپتی ہوئی آواز میں پوچھا، “تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا؟” حمزہ کچھ دیر خاموش رہا، پھر بولا، “میں تمہیں کھونا نہیں چاہتا تھا۔” یہ جواب عائزہ کے دل کو چیر گیا۔ “تو تم نے مجھے دھوکے میں رکھا؟” اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ حمزہ نے نظریں جھکا لیں، “میں خود بھی کنفیوز تھا…” اس دن عائزہ نے فیصلہ کر لیا کہ وہ اس رشتے کو ختم کر دے گی۔ اس نے حمزہ سے ہر تعلق توڑ دیا—نہ کوئی کال، نہ کوئی میسج، بس ایک مکمل خاموشی۔

یہ خاموشی صرف باہر سے تھی، اندر سے وہ ہر روز ٹوٹ رہی تھی۔ راتوں کو وہ جاگتی، روتی اور اللہ سے دعا کرتی کہ اسے اس آزمائش سے نکال دے۔ آہستہ آہستہ اس نے خود کو سنبھالنا شروع کیا۔ اس نے نماز میں سکون تلاش کیا، قرآن میں جواب ڈھونڈے اور وقت کے ساتھ اسے یہ احساس ہوا کہ کچھ محبتیں ہمیں ملنے کے لیے نہیں بلکہ ہمیں بدلنے کے لیے آتی ہیں۔ سال گزر گئے اور عائزہ پہلے جیسی نہیں رہی تھی۔ وہ اب زیادہ مضبوط، زیادہ پُرسکون اور زیادہ سمجھدار ہو چکی تھی۔

ایک دن وہ ایک اسلامی لیکچر میں گئی جہاں اسٹیج پر آنے والے مقرر کو دیکھ کر وہ چونک گئی—وہ حمزہ تھا، مگر اب وہ پہلے جیسا نہیں تھا۔ اس کی آنکھوں میں غرور کی جگہ عاجزی تھی۔ لیکچر کے بعد وہ عائزہ کے قریب آیا اور دھیمی آواز میں کہا، “میں نے تمہیں بہت ڈھونڈا…” عائزہ نے سکون سے جواب دیا، “مجھے خود کو ڈھونڈنا تھا۔” حمزہ کی آنکھوں میں ندامت تھی، “میں بدل گیا ہوں… میں نے سب چھوڑ دیا۔” عائزہ نے ایک لمحے کے لیے اسے دیکھا، پھر نرم مگر مضبوط لہجے میں کہا، “کچھ چیزیں واپس نہیں آتیں، حمزہ…” یہ کہہ کر وہ مڑ گئی اور آہستہ آہستہ چلتی ہوئی دور ہو گئی۔ اس کے قدم مضبوط تھے اور دل پرسکون، کیونکہ اب وہ جان چکی تھی کہ ہر محبت حاصل کرنے کے لیے نہیں ہوتی، کچھ محبتیں صرف ایک امتحان ہوتی ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top