Raat Ka Aaina — رات کا آئینہ 👻

Raat Ka Aaina
پہلی رات احمد نے صرف ایک عجیب بات محسوس کی تھی… اُس کا عکس اُس جیسا نہیں تھا۔ وہ اپنے نئے فلیٹ میں اکیلا رہنے آیا تھا، سب کچھ ٹھیک تھا مگر بیڈ کے سامنے رکھا ہوا پرانا آئینہ اُس کے دل میں ایک انجانی بے چینی پیدا کرتا تھا۔ رات کو سونے سے پہلے جب اُس نے آئینے میں دیکھا تو ایک لمحے کے لیے وہ چونک گیا… کیونکہ آئینے میں کھڑا احمد مسکرا نہیں رہا تھا، جبکہ حقیقت میں اُس کے اپنے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔ اُس نے فوراً پلٹ کر پیچھے دیکھا، مگر کمرے میں کوئی نہیں تھا۔ دوبارہ آئینے کی طرف دیکھا تو سب کچھ نارمل تھا۔ اُس نے خود کو سمجھایا کہ شاید تھکن ہے… اور سو گیا۔

دوسری رات ٹھیک 3:00 بجے اُس کی آنکھ اچانک کھل گئی۔ کمرے میں عجیب سی خاموشی تھی، جیسے وقت رک گیا ہو۔ اُس نے آہستہ سے سر اٹھایا اور نظر سیدھی آئینے پر جا کر رکی… اور اس بار اُس کا دل جیسے رک گیا۔ وہ بستر پر بیٹھا ہوا تھا، مگر آئینے میں وہ اب بھی کھڑا تھا۔ اور صرف کھڑا نہیں… بلکہ آہستہ آہستہ اپنا سر جھکا رہا تھا، جیسے کسی کو سلام کر رہا ہو۔ احمد کے ہاتھ کانپنے لگے، وہ ڈرتے ہوئے اٹھا اور آئینے کے قریب جانے لگا۔ جتنا وہ آگے بڑھتا، آئینے والا احمد اتنا ہی پیچھے ہٹتا… جیسے وہ اُس سے بچنا چاہتا ہو۔

پھر اچانک آئینے والے احمد نے سر اٹھایا… اور اس بار اُس کی آنکھیں مکمل سیاہ تھیں۔ کوئی سفیدی نہیں، کوئی روشنی نہیں… صرف اندھیرا۔ احمد ایک دم پیچھے ہٹ گیا، اُس کا دل سینے سے باہر نکلنے کو تھا۔ “تم کون ہو…؟” اُس نے کانپتی ہوئی آواز میں پوچھا۔ آئینے والا چہرہ آہستہ سے مسکرایا… مگر وہ مسکراہٹ انسان کی نہیں تھی۔ “میں وہ ہوں… جو تمہیں ہونا تھا…” اُس کی آواز آئینے کے اندر سے گونجی، ٹھنڈی اور بے جان۔

اچانک کمرے کی لائٹ بند ہو گئی۔ اندھیرا ہر طرف پھیل گیا، صرف آئینے میں ہلکی سی روشنی باقی تھی۔ احمد کی نظریں اُس روشنی پر جم گئیں… اور پھر اُس نے وہ دیکھا جو اُس کی زندگی کا آخری منظر بن گیا۔ آئینے کے اندر والا احمد آہستہ آہستہ قریب آیا… اور اُس نے اپنا ہاتھ شیشے کے باہر نکال دیا۔ ہاں… اُس کا ہاتھ آئینے سے باہر آ چکا تھا۔ احمد چیخنا چاہتا تھا مگر اُس کی آواز جیسے کہیں کھو گئی تھی۔ وہ پیچھے ہٹنے لگا مگر دیوار سے جا لگا۔ وہ چیز اب اُس کے بالکل سامنے تھی۔

“اب تم اندر آؤ گے…” اُس نے سرگوشی کی… اور ایک جھٹکے سے احمد کو اپنی طرف کھینچ لیا۔

اگلی صبح فلیٹ کا دروازہ کھلا تھا، کمرہ خالی… اور آئینے کے سامنے ایک شخص کھڑا تھا۔ وہ بالکل احمد جیسا لگ رہا تھا، وہ مسکرا رہا تھا… جیسے سب کچھ ٹھیک ہو۔ مگر جب اُس نے آئینے میں دیکھا… تو وہاں کوئی نہیں تھا۔

کہتے ہیں اُس فلیٹ میں آج بھی رات 3:00 بجے آئینہ خود روشن ہو جاتا ہے… اور جو بھی زیادہ دیر اُس میں دیکھے… وہ خود کو کھو دیتا ہے۔ 😨

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top