Us Raat Tum Mar Gayi Thi
“تم مر چکی ہو…” یہ الفاظ زین کے کانوں میں گونج رہے تھے جب اس نے ہسپتال کے سفید کمرے میں بے حس پڑی ہوئی عائشہ کو دیکھا۔ مشین کی بیپ بیپ رک چکی تھی اور ڈاکٹر نے آہستہ سے چادر اس کے چہرے پر ڈال دی تھی، مگر زین جانتا تھا کہ یہ کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی کیونکہ عائشہ ابھی بھی اس کے ساتھ تھی۔ یہ سب ایک عام سی دوستی سے شروع ہوا تھا۔ زین اور عائشہ کی ملاقات یونیورسٹی کے ایک گروپ پروجیکٹ میں ہوئی تھی جہاں عائشہ کی ہنسی اور اس کی آنکھوں کی چمک نے زین جیسے سنجیدہ لڑکے کو بھی بدل دیا تھا۔ “تم اتنا کم کیوں بولتے ہو؟” عائشہ نے ایک دن پوچھا تو زین نے مسکرا کر جواب دیا، “کیونکہ تم دونوں کی طرف سے بول لیتی ہو…” اور وہ ہنس پڑی، وہی ہنسی جو بعد میں زین کی زندگی کا سب سے خوبصورت حصہ بن گئی۔
وقت کے ساتھ ساتھ وہ دونوں ایک دوسرے کے قریب آتے گئے۔ لائبریری کے خاموش کونے، کینٹین کی چائے اور رات گئے تک چلنے والی باتیں ان کی عادت بن گئیں۔ ایک دن عائشہ نے سنجیدگی سے پوچھا، “اگر میں کبھی تمہیں چھوڑ کر چلی گئی تو؟” زین نے فوراً کہا، “تو میں تمہیں واپس لے آؤں گا، چاہے تم کہیں بھی چلی جاؤ” اور وہ مسکرا دی، جیسے اسے پہلے ہی سب معلوم ہو۔ مگر زندگی وعدوں سے نہیں چلتی۔ ایک رات اچانک عائشہ کا ایکسیڈنٹ ہو گیا اور جب زین ہسپتال پہنچا تو سب کچھ ختم ہو چکا تھا۔
اس کے بعد زین کی زندگی بدل گئی۔ وہ اکیلا نہیں تھا کیونکہ عائشہ ہر رات اس کے خواب میں آتی تھی۔ وہ ویسے ہی ہنستی، باتیں کرتی مگر اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی اداسی ہوتی۔ ایک رات زین نے پوچھا، “تم مجھے چھوڑ کر کیوں چلی گئی؟” عائشہ نے آہستہ سے جواب دیا، “میں گئی نہیں، تم مجھے جانے نہیں دے رہے” زین چونک گیا، “کیا مطلب؟” عائشہ نے کہا، “تم مجھے اپنے دل میں قید کیے ہوئے ہو، اسی لیے میں جا نہیں پا رہی” یہ سن کر زین کے اندر کچھ ٹوٹ گیا۔
دن گزرتے گئے اور عائشہ بار بار اسے ایک ہی بات کہتی رہی، “مجھے آزاد کر دو…” مگر زین کے لیے یہ ممکن نہیں تھا۔ وہ اسے کھونا نہیں چاہتا تھا، چاہے وہ صرف خوابوں میں ہی کیوں نہ ہو۔ مگر ایک رات عائشہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا، “محبت کسی کو قید کرنے کا نام نہیں ہوتی، چھوڑ دینے کا نام بھی ہوتی ہے” یہ وہ لمحہ تھا جب زین کو حقیقت سمجھ آئی کہ وہ اپنی محبت کو خود تکلیف میں بدل چکا ہے۔
اگلے دن وہ عائشہ کی قبر پر گیا، دیر تک خاموش بیٹھا رہا اور پھر آہستہ سے کہا، “میں تمہیں آزاد کرتا ہوں…” ہوا ہلکی سی چلی جیسے کسی نے الوداع کہا ہو۔ اس رات جب زین نے آنکھیں بند کیں تو عائشہ نہیں آئی۔ وہ اکیلا تھا، مگر پہلی بار اسے سکون محسوس ہوا، کیونکہ اب وہ سمجھ چکا تھا کہ کچھ محبتیں ہمیشہ ساتھ نہیں رہتیں مگر وہ ہمیں جینا ضرور سکھا دیتی ہیں۔






