Tum Meri Aakhri Kahani Ho – Aisi Love Story Jo Rula De 😢
بارش کی تیز بوندیں رات کی خاموشی کو مزید گہرا کر رہی تھیں۔ کھڑکی کے پاس کھڑا زین اپنے موبائل کی اسکرین کو گھور رہا تھا۔ اس کی انگلیاں بار بار ایک ہی نمبر ڈائل کر رہی تھیں، اور ہر بار وہی بے رحم خاموشی اس کا استقبال کرتی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ اب کوئی جواب نہیں آئے گا… پھر بھی دل ماننے کو تیار نہیں تھا۔
یہ نمبر مریم کا تھا۔
وہی مریم جو کبھی اس کی زندگی کی سب سے خوبصورت حقیقت تھی، اور آج سب سے تکلیف دہ یاد بن چکی تھی۔
زین کو آج بھی وہ پہلا دن یاد تھا جب اس نے مریم کو یونیورسٹی کی لائبریری میں دیکھا تھا۔ وہ ایک کونے میں بیٹھی کتاب پڑھ رہی تھی، اس کے چہرے پر عجیب سی سنجیدگی تھی، جیسے وہ دنیا سے الگ کسی اور ہی جہان میں رہتی ہو۔ زین نہ جانے کیوں اُس کی طرف کھنچتا چلا گیا۔
“یہ سیٹ خالی ہے؟” زین نے ہلکی آواز میں پوچھا۔
مریم نے سر اُٹھایا، ایک لمحے کے لیے اس کی آنکھیں زین کی آنکھوں سے ملیں، اور پھر اس نے آہستہ سے کہا، “جی…”
بس وہی لمحہ تھا جہاں سے سب کچھ شروع ہوا۔
پہلے چھوٹی چھوٹی باتیں ہوئیں، پھر روز کی ملاقاتیں، اور پھر وہ وقت آیا جب دونوں ایک دوسرے کے بغیر ادھورے لگنے لگے۔ لائبریری کے خاموش کونے، کینٹین کی چائے، اور یونیورسٹی کے لان میں بیٹھ کر گھنٹوں باتیں کرنا… یہ سب ان کی زندگی کا حصہ بن گیا۔
“اگر میں کبھی تم سے دور چلی گئی تو؟” ایک دن مریم نے اچانک پوچھا۔
زین ہنس پڑا، “تم کہاں جا سکتی ہو؟ تم تو اب میری عادت بن چکی ہو۔”
مریم نے مسکرانے کی کوشش کی، مگر اس کی آنکھوں میں چھپی اداسی زین سے چھپ نہ سکی۔
وقت گزرتا گیا، مگر مریم کے رویے میں آہستہ آہستہ تبدیلی آنے لگی۔ وہ پہلے جیسی باتیں نہیں کرتی تھی، اکثر خاموش رہتی، اور کبھی کبھی بغیر کسی وجہ کے اداس ہو جاتی۔
“کیا ہوا ہے تمہیں؟” زین نے ایک دن پریشان ہو کر پوچھا۔
“کچھ نہیں… بس تھک گئی ہوں۔” مریم نے نظریں چرا کر جواب دیا۔
مگر یہ صرف تھکن نہیں تھی… یہ کچھ اور تھا، جو مریم چھپا رہی تھی۔
پھر ایک دن، اچانک… مریم غائب ہو گئی۔
نہ کوئی ملاقات، نہ کوئی کال… صرف ایک میسج:
“زین، مجھے معاف کر دینا… میں تمہاری نہیں بن سکتی۔”
یہ الفاظ زین کے دل پر کسی تیز دھار خنجر کی طرح لگے۔ اس نے بار بار کال کی، میسجز کیے، مگر کوئی جواب نہ آیا۔
زین نے اسے ہر جگہ تلاش کیا—یونیورسٹی، اس کے دوست، اس کا گھر… مگر مریم جیسے زمین میں سما گئی تھی۔
دن مہینوں میں بدل گئے، اور مہینے سالوں میں… مگر زین کے لیے وقت وہیں رک گیا تھا۔
پھر ایک دن، قسمت نے ایک عجیب کھیل کھیلا۔
زین ایک ہسپتال میں اپنے دوست سے ملنے گیا ہوا تھا، جب اچانک اسے ایک جانی پہچانی آواز سنائی دی۔
“زین…”
وہ چونک کر مڑا۔
اس کے سامنے مریم کھڑی تھی… مگر وہ پہلے جیسی نہیں تھی۔
اس کا چہرہ زرد پڑ چکا تھا، آنکھوں کے نیچے گہرے حلقے تھے، اور وہ بہت کمزور لگ رہی تھی۔
“مریم…؟” زین کی آواز کانپ گئی۔
مریم نے ہلکی سی مسکراہٹ دی، “میں جانتی تھی… تم مجھے بھول نہیں پاؤ گے۔”
“تم کہاں چلی گئی تھی؟ تم نے مجھے چھوڑ کیوں دیا؟” زین کے دل میں جمع سارا درد آنکھوں کے راستے بہنے لگا۔
مریم نے آہستہ سے اس کا ہاتھ تھاما، “کیونکہ میرے پاس وقت بہت کم تھا…”
“کیا مطلب؟”
“مجھے کینسر تھا، زین… آخری اسٹیج۔”
یہ سن کر جیسے زین کے قدموں تلے زمین نکل گئی۔
“میں نہیں چاہتی تھی کہ تم مجھے اس حال میں دیکھو، نہ ہی یہ چاہتی تھی کہ تم اپنی زندگی میرے ساتھ برباد کرو…” مریم کی آواز دھیمی ہوتی جا رہی تھی۔
“یہ تم نے فیصلہ کیسے کر لیا کہ میں کیا چاہتا ہوں؟” زین نے دکھ بھرے لہجے میں کہا، “محبت میں ساتھ چھوڑا نہیں جاتا…”
مریم کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، “اسی لیے تو گئی تھی… کیونکہ اگر رہتی، تو تم کبھی آگے نہیں بڑھ پاتے۔”
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
چند دنوں تک زین ہر روز مریم کے پاس آتا رہا۔ وہ اس کے ساتھ بیٹھتا، باتیں کرتا، پرانی یادیں تازہ کرتا… جیسے وہ کھوئے ہوئے وقت کو واپس لانا چاہتا ہو۔
ایک دن مریم نے آہستہ سے کہا، “زین… ایک وعدہ کرو۔”
“کیا؟”
“مجھے اپنی آخری کہانی بنا لینا… مگر اپنی زندگی مت روکنا۔”
زین نے کچھ نہ کہا… بس اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا۔
چند دن بعد… مریم ہمیشہ کے لیے چلی گئی۔
بارش آج بھی ویسے ہی ہوتی ہے… زین آج بھی کھڑکی کے پاس کھڑا ہوتا ہے… اور کبھی کبھار وہ نمبر ڈائل کر دیتا ہے۔
وہ جانتا ہے کہ اب کوئی جواب نہیں آئے گا۔
مگر کچھ محبتیں جواب نہیں مانگتیں…
وہ صرف ہمیشہ کے لیے دل میں رہ جاتی ہیں۔






