اللہ کی مدد

عبداللہ ایک غریب اور ایماندار نوجوان تھا۔ وہ ہمیشہ سچ بولتا اور اللہ کے راستے پر چلنے کی کوشش کرتا۔ عبداللہ کے والدین کا انتقال ہو چکا تھا اور وہ اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ ایک گاؤں میں رہتا تھا۔ اُس کی زندگی بہت سادہ تھی، اور اُس کا ایمان اللہ پر مضبوط تھا۔ وہ ہمیشہ اللہ سے مدد کی دعائیں کرتا تھا، اور ہر حال میں صبر کرنے کی کوشش کرتا تھا۔

ایک دن عبداللہ کو گاؤں کے قریب ایک بڑا مسئلہ پیش آیا۔ گاؤں کے لوگ جو کھیتی باڑی کرتے تھے، اُن کے کھیتوں میں پانی نہیں آ رہا تھا۔ زمین خشک ہو گئی تھی اور فصلیں مرجھا رہی تھیں۔ گاؤں والے پریشان تھے اور سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ کیا کریں۔ تب عبداللہ نے اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے کہا، “اللہ کا حکم ہے کہ ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں، اس میں صبر اور کوشش کرنی چاہیے۔”

عبداللہ نے گاؤں کے لوگوں کو جمع کیا اور کہا کہ ہم سب مل کر اللہ سے مدد مانگیں گے۔ اُس نے نمازِ استسقاء (بارش کی دعا) پڑھنے کا مشورہ دیا۔ لوگ عبداللہ کے ساتھ نماز پڑھنے کے لیے گئے، اور اُس نے اللہ سے دعا کی کہ اللہ گاؤں کے لوگوں پر رحمت کرے اور بارش دے تاکہ فصلیں دوبارہ جی اُٹھیں۔

دعا کے بعد، جیسے ہی وہ واپس گاؤں آئے، کچھ ہی دیر بعد بارش کی بوندیں گرا شروع ہو گئیں۔ گاؤں والے خوش ہو گئے اور اللہ کا شکر ادا کرنے لگے۔ عبداللہ نے کہا، “اللہ پر یقین اور دعا سے اللہ ہمیں کبھی مایوس نہیں کرتا۔”

اس واقعہ کے بعد، عبداللہ کا ایمان اور بھی مضبوط ہو گیا۔ اُس نے ہمیشہ لوگوں کو بتایا کہ اللہ کی مدد کبھی بھی دیر سے نہیں آتی، بس ہمیں اپنے دل میں ایمان رکھنا ہوتا ہے اور اللہ سے تعلق مضبوط کرنا ہوتا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top