رات کے بارہ بج رہے تھے۔ علی اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس بیٹھا بارش کو خاموشی سے گرتے دیکھ رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں وہی پرانا خط تھا… وہی خط جو عائشہ نے پانچ سال پہلے اسے دیا تھا۔
“اگر قسمت نے ساتھ دیا تو ہم دوبارہ ملیں گے۔
خط کے آخر میں صرف ایک جملہ لکھا تھا
مگر قسمت نے ساتھ نہیں دیا۔
علی نے کبھی شادی نہیں کی۔ سب کہتے تھے وہ ضدی ہے، مگر حقیقت یہ تھی کہ اس نے دل ہی نہیں مانا۔ ہر بار جب کوئی رشتہ آتا، وہ خط اس کی آنکھوں کے سامنے آ جاتا۔
اچانک اس کے فون پر ایک انجان نمبر سے کال آئی۔
“ہیلو؟” علی نے آہستہ سے کہا۔
دوسری طرف سے وہی آواز آئی جو اس نے برسوں سے صرف یادوں میں سنی تھی۔
“علی… میں عائشہ بول رہی ہوں۔”
علی کے ہاتھ کانپنے لگے۔ دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔
“تم… تم کہاں ہو؟”
عائشہ کی آواز میں نمی تھی۔
“میں شہر واپس آ گئی ہوں… اور اس بار ہمیشہ کے لیے۔ اگر تم اب بھی میرا انتظار کر رہے ہو تو کل شام وہی پرانی کافی شاپ میں ملنا۔”
کال کٹ گئی۔
علی پوری رات نہیں سو سکا۔ صبح اس نے وہی سفید شرٹ پہنی جو عائشہ کو پسند تھی۔
شام کے چھ بجے وہ کافی شاپ میں داخل ہوا۔ ہر میز پر نظر دوڑائی… مگر عائشہ کہیں نظر نہیں آئی۔
وہ مایوس ہو کر مڑنے ہی والا تھا کہ کسی نے پیچھے سے آہستہ سے اس کا نام پکارا۔
“علی…”
وہ پلٹا۔
عائشہ سامنے کھڑی تھی۔
آنکھوں میں آنسو، مگر چہرے پر وہی مسکراہٹ۔
علی نے بس اتنا کہا:
“اس بار قسمت کو ہمیں جدا کرنے کا موقع نہیں دیں گے۔”
اور شاید اس بار قسمت بھی ان کے ساتھ تھی
