خاموش محبت – khamosh mohabbat

khamosh mohabbat
وہ ایک چھوٹا سا گاؤں تھا جہاں زندگی سادہ تھی مگر جذبات گہرے تھے۔ سلیم ایک محنتی اور خاموش مزاج لڑکا تھا، جو کھیتوں میں کام کرتے ہوئے اپنی زندگی گزار رہا تھا۔ اس کی دنیا بہت چھوٹی تھی—اس کی ماں، اس کے خواب، اور ایک نام… زینب۔

زینب گاؤں کی سب سے خوبصورت لڑکی تھی، مگر اس کی خوبصورتی سے زیادہ اس کی سادگی لوگوں کو اپنی طرف کھینچتی تھی۔ سلیم اسے بچپن سے جانتا تھا، مگر کبھی اپنے دل کی بات کہنے کی ہمت نہ کر سکا۔ وہ بس دور سے اسے دیکھتا، اس کی مسکراہٹ میں خوشی تلاش کرتا، اور خاموشی سے اس سے محبت کرتا رہا۔

وقت گزرتا گیا، اور یہ خاموش محبت اور گہری ہوتی گئی۔ سلیم نے کبھی زینب سے کچھ نہیں مانگا، نہ ہی کبھی اس سے کسی وعدے کی امید رکھی۔ اس کے لیے بس یہی کافی تھا کہ وہ اسے روز دیکھ سکے۔

مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔

ایک دن گاؤں میں خبر پھیلی کہ زینب کی شادی شہر کے ایک امیر آدمی سے طے ہو گئی ہے۔ یہ خبر سن کر سلیم کے دل میں جیسے کچھ ٹوٹ گیا۔ وہ کئی دن تک کھیتوں میں کام نہ کر سکا، نہ کسی سے بات کی۔ مگر اس نے پھر بھی اپنے جذبات کو زبان نہ دی۔

شادی کا دن آ گیا۔ پورا گاؤں خوشی میں مصروف تھا، مگر سلیم کے لیے یہ دن کسی قیامت سے کم نہ تھا۔ وہ دور کھڑا سب کچھ دیکھ رہا تھا—زینب دلہن بنی ہوئی، لوگوں کے درمیان مسکرا رہی تھی، مگر اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی اداسی تھی… شاید وہ بھی کچھ کہنا چاہتی تھی۔

بارات چلی گئی، اور زینب ہمیشہ کے لیے اس گاؤں سے رخصت ہو گئی۔

سلیم نے اس دن کے بعد کبھی کسی سے محبت نہیں کی۔ اس نے خود کو کام میں دفن کر دیا، مگر دل کے کسی کونے میں زینب ہمیشہ زندہ رہی۔ ہر بارش، ہر ہوا کا جھونکا، ہر خاموش رات اسے زینب کی یاد دلاتی رہی۔

سال گزر گئے۔

ایک دن خبر آئی کہ زینب واپس گاؤں آئی ہے—مگر اس بار وہ دلہن نہیں، ایک بیوہ تھی۔ اس کے شوہر کا انتقال ہو چکا تھا۔ وہ پہلے جیسی نہ رہی تھی، اس کی آنکھوں کی چمک مدھم پڑ چکی تھی۔

سلیم نے اسے دیکھا… اور اس کا دل ایک بار پھر دھڑک اٹھا۔

مگر اس بار بھی وہ خاموش رہا۔

زینب بھی اسے دیکھتی رہی، جیسے دونوں کے درمیان ہزاروں باتیں تھیں، مگر الفاظ کہیں کھو گئے تھے۔

چند دن بعد زینب بیمار پڑ گئی۔ اس کی حالت بگڑتی گئی، اور ایک رات وہ اس دنیا سے چلی گئی۔

سلیم اس کی قبر کے پاس کھڑا تھا، خاموش… بالکل ویسا ہی جیسے ہمیشہ رہا تھا۔

اس کی آنکھوں میں آنسو تھے، مگر لبوں پر کوئی شکوہ نہیں تھا۔

کیونکہ کچھ محبتیں کبھی کہی نہیں جاتیں…
وہ بس خاموشی میں جیتی ہیں، اور خاموشی میں ہی ختم ہو جاتی ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top