شہزاد ایک نوجوان لڑکا تھا، جو اپنے والدین کے ساتھ ایک پرانے گھر میں رہتا تھا۔ یہ گھر بہت قدیم تھا اور اُس میں کچھ عجیب سی چیزیں ہوتی تھیں۔ اکثر رات کو کمرے سے عجیب سی آوازیں آتی تھیں، جیسے کوئی دروازہ کھول رہا ہو۔ مگر جب شہزاد جا کر چیک کرتا، تو کچھ نہیں ہوتا تھا۔
ایک رات، شہزاد کی والدہ نے اُسے بتایا کہ وہ ہمیشہ کمرے کے دروازے کو بند کر کے سوئے، کیونکہ گھر کے اس کمرے میں کچھ پراسرار چیزیں ہوتی ہیں۔ شہزاد نے کبھی ان باتوں پر توجہ نہیں دی تھی، مگر اُس رات اُس کے دل میں کچھ عجیب سا خوف تھا۔
رات کے تقریباً 2 بجے، شہزاد اپنے بستر پر لیٹا تھا کہ اچانک اُسے دروازے کی آہٹ سنائی دی۔ وہ فوراً اُٹھا اور دروازہ کھولا۔ مگر کچھ نہیں تھا۔ وہ واپس بستر پر لیٹنے لگا، لیکن جیسے ہی اُس کی آنکھ لگنے والی تھی، اُسے دوبارہ دروازے کی آواز آئی۔
شہزاد خوف کے مارے دروازے کی طرف بڑھا۔ جب اُس نے دروازہ کھولا، اُس کے سامنے ایک سیاہ سایہ کھڑا تھا۔ اُس سایہ کی شکل دھندلی تھی، مگر اُس کے ہاتھ میں ایک خوفناک چمچماتی تلوار تھی۔ شہزاد کی سانس رُک گئی۔ وہ دھیما دھیما قدم اُٹھاتے ہوئے پیچھے ہٹ رہا تھا، مگر وہ سایہ اُس کی طرف بڑھ رہا تھا۔
اچانک، شہزاد نے ایک پُراسرار آواز سنی، جیسے کوئی کہہ رہا ہو: “ہمیشہ دروازہ بند رکھو…”۔
اگلے لمحے، سایہ غائب ہو گیا۔ شہزاد خوف کے مارے پسینے سے شرابور ہو گیا تھا، اور اُس کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ اس رات کے بعد، اُس نے کبھی بھی دروازہ کھلا نہیں چھوڑا۔
